سپرمین کی ویڈیو میں کشمیر کی منظر کشی پر بھارت میں تنقید

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ ’یہی وقت ہے کہ ڈی سی فلمز کو انڈیا میں بین کیا جائے۔‘

ڈی سی کامکس  کی فلم  ’ان جسٹس‘ منگل 19 اکتوبر کو ریلیز ہوئی تھی(تصویر: ڈی سی کامکس فیس بک پیج)

ڈی سی کامکس کے انڈین فینز کامک بک کے پبلشر پر اپنی تازہ اینیمیٹڈ فلم ’ان جسٹس‘ میں کشمیر کو متنازع علاقہ دکھانے پر تنقید کر رہے ہیں۔

انٹرنیٹ پر ایک کلپ گردش کررہا ہے جس میں سپرمین اور ونڈر وومن کو بھارتی فوج کے سامان حرب کو تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ 

کلپ کے آخر میں سپرمین فیڈرل یونین ٹیریٹری کو اسلحہ سے پاک علاقہ قرار دیتا ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں نسلی طور پر متنوع ہمالائی خطے پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں لیکن ان کی عمل داری چند حصوں پر قائم ہے۔ بھارت یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ جموں و کشمیر کی فیڈرل ٹیریٹری اس کے اتحاد کے لیے ناگزیرہے۔

فلم کے کلپ پرایک صارف نے ٹوئٹر پر کہا، ’ڈی سی فینز کچھ جزبہ حب الوطنی دیکھاؤ اور [ ان جسٹس ] کو کینسل کرو۔ یہ گھٹیا پن ہے۔ پراپیگینڈہ اور بھارت مخالف بیانیے کو بے نقاب کرنا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور نے کہا، ’ڈی سی کامکس، یہ اشتعال انگیز ہے، کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس لیے اس سے دور رہو ورنہ تمہاری مارکیٹ بھارت میں برباد ہوجائے گی۔‘

ایک اورصارف نے لکھا، ’وقت آگیا ہے کہ ڈی سی فلمز کو بھارت میں بین کیا جائے۔‘

ایک صارف نے بہرحال دعویٰ کیا کہ ایسے مناظر ہمیشہ سے ڈی سی یونیورس کا حصہ رہے ہیں، ’ووکیزم کے آنے سے پہلے سے ہی‘۔

’کم از کم ان جسٹس کی کہانی اوراس سے پہلے کے کامکس کے بارے میں پڑھ لینا چاہیے، جو ’ووکیزم‘ کے آنے سے قبل  آئے تھے۔‘

اس نے مزید کہا، ’ یہ سب کب سے موجود تھا اور صرف کشمیر ہی نہیں، سپرمین نے دنیا کے سارے تنازعات کو خراب کیا ہے۔‘

اس معاملے پردی انڈیپینڈنٹ نے ڈی سی سے ردعمل معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

ڈی سی کامکس کی فلم ’ان جسٹس‘ منگل 19 اکتوبر کو ریلیز ہوئی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم