ایک قتل کی روداد، جسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی

خودکشی کی واردات کی تفتیش ابھی شروع ہی نہیں ہوئی تھی کہ تھانے میں سفارشی فون کالوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا کہ لاش جلد از جلد ورثا کے حوالے کی جائے۔ یہیں سے میرا ماتھا ٹھنکا۔

خود کشی ایک ایسا المیہ ہے کہ اس کی روک تھام اور تدارک کے لیے کچھ نہیں کر سکتے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایس ایچ او سے اس کے عزیز، رشتےدار اور دوست اکثر نالاں رہتے ہیں کیوں کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ کام کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ آپ افسران بالا سے ایک آدھ روز کی رخصت بھی لے چکے ہوتے ہیں اور سفری بیگ تیار کرکے روانگی کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک کسی ایسے وقوعے کے رونما ہونے کی اطلاع ملتی ہے جس میں آپ کا تھانے پہنچنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ بطور ایس ایچ او میرے ساتھ بھی پیش آیا، جب میں عید سے اگلے روز ایک دن کی رخصت لے کر اپنے آبائی علاقے پاکپتن شریف جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ وائرلیس پر کنٹرول کی طرف سے مسیج ملا کہ اڈہ 17 کسی ملتان روڈ پر واقع کالونی میں ایک خاتون نے خودکشی کرلی ہے لہٰذا فوری طور پر تھانے سے کسی افسر کو موقعے پر بھجوائیں۔

میں نے فوری طور پر نذیر گجر سب انسپکٹر کو موقعے پر بھجوایا تاکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم اور ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کرے۔

خود کشی ایک ایسا المیہ ہے کہ بطور پولیس آفیسر آپ اس کی روک تھام اور تدارک کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، لیکن بطور پولیس آفیسر یہ آپ کا قانونی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ آپ ان محرکات کو ضرور دیکھیں اور حالات و واقعات کی مکمل جانچ پڑتال کریں تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

اس وقوعہ کی اطلاع ملنے کے بعد فون کالز کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ سفارشی فون کالز اسی خودکشی کے وقوعے کے حوالے سے تھیں۔ فون کرنے والی تمام شخصیات کا زور اس بات پر تھا کہ پولیس جلد از جلد نعش ورثا کے حوالے کر دے تاکہ بروقت میت کی تدفین کروائی جا سکے۔

ویسے بھی خودکشی کے کیسوں میں پولیس حسب ضابطہ معمول کی کارروائی مکمل کرکے نعش ورثا کے حوالے کر دیتی ہے لیکن غیر معمولی طور پر پولیس پر دباؤ ڈالنا کہ نعش جلد ورثا کے حوالے کر دی جائے، ساری صورت حال کو مشکوک بنا رہا تھا۔

ایک دو صاحبان تو اس بات پر مصر تھے کہ ظاہری پوسٹ مارٹم کرکے ورثا کو نعش دے دی جائے کیونکہ اس کے گھر والے نہیں چاہتے کہ خاتون کا پوسٹ مارٹم ہو اور نعش کی بے حرمتی ہو۔

میری چھٹی حِس یہ کہہ رہی تھی کہ یہ کوئی خودکشی کا عام کیس نہیں ہے اور ورثا کی جانب سے جلدی کا تقاضا بلاسبب نہیں۔

چنانچہ میں نے رخصت پر جانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے خود موقعے پر پہنچنے کا فیصلہ کیا۔

اڈہ 17 کسی تھانے سے بمشکل 20 منٹ کی مسافت پر تھا۔ نذیر گجر سب انسپکٹر اور ایک لیڈی کانسٹیبل موقع پر پہنچ چکے تھے، میں نے انہیں بذریعہ وائرلیس میسج دیا کہ وہ وہیں رکیں اور جب تک میں نہ پہنچوں، نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے نہ بھجوایا جائے۔

میں نے موقعے پر پہنچ کر ساری صورت حال کا جائزہ لیا اور اہل علاقہ سے پوچھ گچھ کرکے تفصیلات جاننے کی کوشش کی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق 38 سالہ متوفیہ عابدہ پروین، امجد خان ہرل بعمر 51 سال کی دوسری بیوی تھی۔ امجد خان ہرل پیشے کے اعتبار سے ایک بیوپاری تھا اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے پانچ سال قبل پہلی بیوی کے انتقال کے بعد عابدہ پروین سے دوسری شادی کی تھی۔

متوفیہ عابدہ پروین، کی بھی امجد خان ہرل کے ساتھ یہ دوسری شادی تھی۔ عابدہ پروین کی پہلی شادی لاہور میں 28 سال کی عمر میں اس کے کزن کے ساتھ ہوئی تھی، جس نے پانچ سال کے بعد اولاد نہ ہونے کے باعث عابدہ پروین کو طلاق دے دی تھی۔

متوفیہ عابدہ پروین کے والدین فوت ہو چکے تھے چنانچہ وہ طلاق کے بعد اپنے بھائی کے پاس خانیوال میں رہنے لگی مگر نند اور بھابھی کے درمیان ہمیشہ ان بن رہی اور بھابھی نے ایک سال کے بعد ہی بھائی کو مجبور کیا کہ کوئی بھی رشتہ دیکھ کر اسے یہاں سے روانہ کرے۔ چنانچہ بھائی نے عابدہ کا مناسب رشتہ تلاش کرنے کے لیے اپنے دوست احباب کی ذمہ داری لگائی، لیکن طلاق یافتہ ہونے اور بانجھ پن کے باعث مناسب رشتہ ملنے میں کافی دشواریاں پیش آ رہی تھیں۔

عابدہ بھی آئے روز کی تکرار سے تنگ آ چکی تھی اور یہاں سے جانا چاہتی تھی بالآخر عابدہ کا رشتہ امجد خان سے طے پا گیا۔

امجد خان ہرل کے پہلی بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بیٹی کی شادی ہو چکی تھی، چھوٹا بیٹا بورڈنگ سکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا جبکہ بڑا بیٹا ارشد ہرل 22، 23 سالہ نوجوان تھا اور آوارہ طبع ہونے کے باعث نویں جماعت میں تعلیم ادھوری چھوڑنے کے بعد گھر پر ہی رہتا تھا۔

عابدہ پروین کے والد کی زرعی اراضی بھی تھی اور شہر میں تین چار دکانیں بھی تھیں۔ والد کے انتقال کے بعد عابدہ نے اپنے بہن بھائیوں سے زرعی اراضی میں حصہ لینے کی بجائے شہر میں دو دکانیں اپنے نام کروا لیں۔  

دونوں میاں بیوی کے درمیان شروع شروع میں تو وقت بہت اچھا گزرا، لیکن شادی کے دو سال بعد گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے۔

امجد ہرل کا بیٹا ارشد اکثر اوقات دونوں دکانوں سے ملنے والا کرایہ خود ہڑپ کر جاتا اور عابدہ کے پوچھنے پر اسے دھمکیاں دیتا کہ خاموشی اس کے لیے بہتر ہے اگر زبان کھولی تو اچھا نہیں ہوگا۔

امجد ہرل بھی اپنے بڑے بیٹے کے کہنے میں آکر اکثر عابدہ کو مار پیٹ کا نشانہ بناتا۔ بیشتر اہل علاقہ نے عابدہ پر آئے روز ہونے والے تشدد اور ناروا سلوک کی تصدیق کی تھی۔

شوہر امجد ہرل کے مطابق متوفیہ عابدہ پروین عید کے اگلے دو روز سیر و تفریح کے لیے مری جانا چاہتی تھی لیکن امجد کے انکار پر اس نے رات کو دل برداشتہ ہو کر کافی تعداد میں خواب آور گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جائے وقوعہ پر متوفیہ عابدہ پروین کے تکیے کے نیچے سے ’ویلیم‘ نامی خواب آور گولیوں کا خالی پتہ بھی ملا تھا۔

امجد خان ہرل اور اس کے بیٹے ارشد کے بیانات مجھے مشکوک دکھائی دے رہے تھے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ یہ دونوں کسی بات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیڈی کانسٹیبل نے مجھے بتایا کہ ظاہری ملاحظہ کرنے پر اس نے متوفیہ کی گردن اور چہرے کے ایک طرف تشدد کے نشانات دیکھے ہیں۔

عابدہ کے اہل خانہ بھی اصل صورت حال سے بے خبر تھے۔ جس کی دو وجوہات تھیں، ایک تو یہ کہ امجد ہرل عابدہ کو کہیں آنے جانے نہیں دیتا تھا اور نہ ہی اس کے میکے والوں سے خود کوئی میل جول رکھتا تھا۔

دوسری وجہ عابدہ پروین خود تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ اس کی دوسری شادی ہے۔ وہ دوسری مرتبہ مطلقہ ہونے کا طعنہ سننا نہیں چاہتی تھی، لہٰذا وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کر رہی تھی۔

میں نے سب انسپکٹر کو فوری طور پر پوسٹ مارٹم کے کاغذ تیار کرنے کا حکم دیا اور امجد ہرل اور اس کے بیٹے ارشد ہرل کو پابند کیا کہ وہ میری اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہ جائیں۔ میں نے متوفیہ عابدہ پروین کے بھائی کو بھی آئندہ دو چار روز کے لیے ملتان میں موجود رہنے کا پابند کیا۔

 نشتر اسپتال کے شعبہ حادثات و میڈیکل کے انچارج (جن کے ساتھ میرے دوستانہ مراسم تھے) ان کو بھی میں اپنی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے اس کیس پر خصوصی توجہ دینے کی گزارش کر چکا تھا۔

سب انسپکٹر نذیر گجر کو پوسٹ مارٹم کے لیے نشتر ہسپتال مامور کرکے میں واپس تھانے آ گیا۔ تھانے کے دروازے کے باہر ایک برقعہ پوش خاتون نے ہاتھ کے اشارے سے میری سرکاری گاڑی کو روکا۔ گاڑی رکتے ہی اس خاتون نے کہا، ’جی وڈے تھانیدار صاحب نوں ملنا اے۔‘

خاتون کافی گھبرائی ہوئی تھی۔ میں نے گیٹ پر کھڑے سنتری سے کہا کہ وہ خاتون کو میرے کمرے میں لے آئے۔ خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے عابدہ پروین کے حوالے سے بہت اہم معلومات دینا چاہتی ہے مگر اس کا نام نہیں آنا چاہیے۔

میں نے خاتون کی گھبراہٹ دیکھ کر اسے تسلی دی کہ وہ بے فکر ہو کر ساری بات تفصیل سے بتائے، اس کا نام صیغہ راز میں ہی رہے گا اور اس پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔

خاتون نے بتایا کہ ’میں عابدہ پروین کی دوست ہوں۔ وہ بہت حوصلے اور ہمت والی عورت تھی۔ وہ خود کشی نہیں کر سکتی، اسے ان ظالموں نے قتل کیا ہے۔‘

اس خاتون نے یہ بھی بتایا کہ متوفیہ عابدہ پروین کا سوتیلا بیٹا ارشد اور اس کا میاں امجد ہرل دونوں اس کی دکانیں اپنے نام لگوانے کے لیے اسے اکثر تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ اس نے ایک دن چپکے سے دکانوں کے ملکتی کاغذات میرے پاس امانتاً رکھوا دیے تھے کیونکہ اسے خطرہ تھا کہ یہ دونوں باپ بیٹا، یہ کاغذات اس سے چھین لیں گے۔ ساتھ ہی اس نے شاپر میں لپٹے ہوئے کچھ کاغذات میرے سامنے رکھ دیے۔

میں نے ان معلومات پر اس خاتون کا شکریہ ادا کیا اور اسے تسلی دی کہ ’آپ بے فکر رہیں، انشا اللہ اس کیس کو میں خود دیکھ رہا ہوں۔ اگر یہ قتل ثابت ہوا تو ملزمان بہت جلد سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔‘

کچھ ہی دیر بعد میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون شعبہ حادثات کے انچارج ڈاکٹر صاحب کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی نتائج کے مطابق متوفیہ عابدہ پروین کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی، نیز معدے میں کسی مشکوک کیمیکل یا زہریلے مواد کی موجودگی جانچنے کے لیے نمونے کیمیکل ایگزامینر کو بھجوا دیے گئے ہیں۔

میں نے فوری طور پر نذیر گجر سب انسپکٹر کے ذریعے دونوں باپ بیٹے کو تھانے بلوا کر ان کی تفتیش شروع کر دی۔

میں نے ان پر واضح کیا کہ ’پوسٹ مارٹم میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عابدہ پروین کی موت خواب آور گولیوں کے باعث نہیں بلکہ سانس بند ہو جانے کے باعث ہوئی ہے، اب آپ کی بہتری اسی میں ہے کہ خود بخود وقوعہ کی ساری تفصیلات بتا دیں، یا پھر اپنے انجام کے لیے تیار ہو جائیں۔‘

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے ان کے جھوٹ کا بھانڈا پہلے ہی پھوڑ دیا تھا۔ بالآخر تھوڑی تگ و دو کے بعد دونوں باپ بیٹوں نے سچ اگلنا شروع کر دیا۔

امجد ہرل نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے ارشد ہرل کی خواہش پر اپنی بیوی عابدہ کی دونوں دکانوں کو اپنے بیٹے کے نام لگوانا چاہتا تھا، لیکن عابدہ نے دکانوں کے ملکیتی کاغذات میرے حوالے کرنے کی بجائے کہیں چھپا دیے تھے۔

اس نے کہا: ’گذشتہ رات میرے بیٹے ارشد اور میری زوجہ عابدہ کے درمیان ان کاغذات کی حوالگی کے حوالے سے کافی جھگڑا ہوا۔ میری زوجہ عابدہ نے میرے بیٹے کے منہ پر طمانچہ مارا، جس پر میرا بیٹا طیش میں آ گیا اور اس نے عابدہ کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کا سانس بند کر دیا۔‘

’میں نے اپنے بیٹے کو بہت روکا کہ وہ ایسا نہ کرے لیکن جب تکیہ ہٹایا تو اس وقت تک عابدہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ ہم نے اسے خود کشی کا رنگ دینے کے لیے خواب آور گولیوں کا خالی پیک اس کے تکیے کے نیچے رکھ دیا اور پولیس کنٹرول 15 پر کال کر کے بتایا کہ عابدہ پروین نے خودکشی کر لی ہے۔‘

میں نے مقتولہ عابدہ پروین کے بھائی کو فون کر کے تھانے بلایا اور اسے سارے حالات و واقعات سے آگاہ کیا اور اس کی مدعیت میں قتل عمد 302 کی ایف آئی آر درج کروائی اور مقتولہ کی دکانوں سے متعلقہ ملکتی کاغذات (جو اس کی دوست نے مجھے دیے تھے) عابدہ پروین کے بھائی کے حوالے کر دیے۔

میں نے دونوں باپ بیٹوں کو حسب ضابطہ زیر دفعہ 302 گرفتار کر کے انہیں جیل بھجوا دیا۔

بعدازاں سامنے آنے والی کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ مقتولہ کے معدے سے ملنے والے مواد میں کسی نشہ آور یا زہریلے مواد کی موجودگی کے ثبوت نہیں ملے۔

اس طرح محض دو دکانوں کے لالچ میں ایک معصوم کو موت کے گھاٹ اتارنے والے دونوں سفاک ملزمان انتہائی چالاک اور مکار ہونے کے باوجود قانون کی گرفت سے بچنے میں ناکام رہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی