جب تک لالچی زندہ ہیں نوسرباز کبھی بھوکے نہیں مر سکتے

ایک شخص کی کہانی جو اپنی لالچ اور سادہ لوحی کے ہاتھوں ایک شاطر انسان کے ہتھے چڑھ گیا۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

میں سیشن کورٹ میں پیشی کے بعد تھانے پہنچا تو محرر نے بتایا کہ 47 کے بی سے عبدالرزاق نام کا ایک بندہ صبح سے میرے انتظار میں ان کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔

میں نے محرر سے تفصیلات جاننا چاہیں تو اس نے کہا کہ ہم نے اس سے معلومات لینے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بضد ہے کہ صرف آپ کو علیحدگی میں بتائے گا۔

کچھ ہی دیر میں وہ شخص میرے سامنے موجود تھا اور کافی گھبرایا ہوا لگ رہا تھا۔

میں نے اسے  کہا کہ وہ مطمئن ہو کر اپنا مسئلہ بتائے اس کی حتی المقدور قانون کے مطابق مدد کی جائے گی۔ اس کی بے چینی کو بھانپتے ہوئے میں نے سنتری کو بلا کر کہا کہ جب تک میں نہ کہوں میرے کمرے میں کوئی داخل نہ ہو۔

عبدالرزاق نامی شخص نے بتایا کہ وہ اسی علاقے کے تھانے میں چک نمبر 47/کے بی کا رہائشی ہے اور محنت مزدوری کرکے اپنے گھر کے اخراجات چلاتا ہے۔

اب اس نے جو کہانی سنانا شروع کی وہ اسی کی زبانی سنیے۔

میں نے عرصہ دس سال پہلے گاؤں کے وسط میں برلب سڑک، اپنی ڈھائی مرلے کی ذاتی جگہ پر ایک چائے کا کھوکھا بنا رکھا تھا، جہاں گاؤں کے لوگوں کے علاوہ راہگیر بھی رک کر چائے وغیرہ پیتے اور تازہ دم ہو کر اگلے سفر پر روانہ ہوتے۔

ہمارے گاؤں میں نٹوں کا ایک خاندان بھی رہائش پذیر تھا جو شادی بیاہ اور میلوں، ٹھیلوں میں ڈھول بجا کر اور کھیل تماشا کرکے روزی روٹی کماتا تھا۔ اس خاندان کے زیادہ تر افراد پانچ چھ سال قبل ہمارے گاؤں سے لاہور شفٹ ہوچکے تھے۔

اب گاؤں میں نٹوں کا صرف ایک آدھ گھر باقی رہ گیا تھا۔ اسی خاندان کا ایک لڑکا تنویر نٹ کبھی کبھار اپنے چچا صدیق نٹ سے ملنے آتا اور دو چار روز گزارنے کے بعد واپس چلا جاتا۔ وہ ہمارے سامنے گاؤں میں ڈھول بجاتا اور چھوٹے موٹے کرتب کرکے گاؤں والوں سے آٹا اور پیسے اکٹھے کیا کرتا تھا، مگر جب سے وہ لوگ لاہور شفٹ ہوئے تو اس کی چال ڈھال مکمل طور پر بدل گئی تھی۔

اب وہ کاٹن کا کلف لگا ہوا سوٹ، کلائی میں راڈو کی گھڑی، ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں اور گلے میں بڑی سی سونے کی چین پہنتا اور گولڈ لیف سگریٹ کی ڈبی اس کے ہاتھ میں لیے گاؤں میں بڑی شان سے گھومتا۔  

وہ جب گاؤں آتا تو میرے کھوکھے پر دو چار گھنٹے ضرور گزارتا۔ لوگ جب اس سے استفسار کرتے تو وہ بتاتا کہ اس نے لاہور میں ایک پارٹی کے ساتھ مل کر پراپرٹی کی خرید و فروخت کا کام شروع کر رکھا ہے اور بہت جلد وہ اپنے باقی خاندان والوں کو بھی یہ کھیل تماشے والا کام چھڑوا کر اپنے ساتھ لے جائے گا۔

وہ جب بھی گاؤں آتا لوگ تنویر نٹ کی تبدیل شدہ حالت اور چال ڈھال کو دیکھ کر سو طرح کی چہ میگوئیاں کرتے۔

تنویر نٹ کے چچا صدیق نٹ نےبھی نٹوں والا کام تقریباً چھوڑ رکھا تھا۔ گاؤں میں دس مرلے پر مشتمل اس کا ذاتی مکان تھا اور اپنے گھر کی بیٹھک میں ہی اس نے ایک چھوٹی سی ہٹی بنا رکھی تھی جہاں سے گاؤں کے بچے ٹافیاں وغیرہ خریدتے تھے۔

صدیق نٹ نے ذاتی مکان ہونے کے باعث ہی اپنے باقی بھائیوں کے ساتھ لاہور شفٹ ہونے سے انکار کیا تھا۔ صدیق نٹ نے اپنی اکلوتی بیٹی کی منگنی اپنے بھتیجے تنویر نٹ کے ساتھ کر رکھی تھی شاید اس لیے تنویر نٹ گاہے بگاہے ہمارے گاؤں آتا جاتا رہتا تھا۔

ایک دن تنویر نٹ میرے کھوکھے پر آیا اور مجھے دودھ پتی بنانے کو کہا۔ اس وقت کوئی اور شخص کھوکھے پر موجود نہیں تھا۔

تنویر نے مجھے کہا، ’عبدالرزاق کیا صبح سے شام تک دس دس بیس بیس روپے کماتا رہتا ہے؟ تو نہیں چاہتا کہ تیرا اچھا سا بنگلہ ہو؟ نوکر چاکر ہوں، تو میری طرح کاٹن کا سوٹ پہن کر صاحبوں کی طرح حکم چلائے؟‘

میں نے ہنس کر کہا، ’ہمارے مقدر میں یہی مزدوری لکھی ہے اور ویسے بھی ہم کون سا پڑھے لکھے ہیں کہ شہر میں بابو لگ جائیں گے۔‘

تنویر نٹ نے کہا، ’دیکھ عبدالرزاق، راتوں رات امیر ہونے کے ایک سو ایک نسخے ہیں میرے پاس، لیکن میں پاگل نہیں ہوں کہ ہر ایک کو بتاتا پھروں۔ میرے گھر والے بھی اگر میرے مشوروں پر عمل نہ کرتے تو آج لاہور میں عیش کی زندگی گزارنے کی بجائے یہاں ڈھول اور اپنی قسمت دونوں کو پیٹ رہے ہوتے۔‘

میں نے تنویر نٹ کے سامنے دودھ پتی کا کپ رکھا اور خود بھی اس کے پاس بیٹھ گیا۔ تنویر نے چائے کا گھونٹ بھرا اور مجھے کہنے لگا، ’عبدالرزاق دیکھ اگر تو واقعی اپنی قسمت بدلنا چاہتا ہے تو تجھے میرے ساتھ دو وعدے کرنا ہوں گے۔ ایک تو، تو میری بات کو ہمیشہ راز رکھے گا اور دوسرا، تو ویسا ہی کرے گا جیسا میں کہوں گا، بس پھر دیکھ کہ تیری قسمت کیسے چمکتی ہے۔‘

سر جی میرا ہوٹل بہت اچھا چل رہا تھا، مجھے سکون باعزت دیہاڑی مل جاتی تھی لیکن تنویر نٹ کی لچھے دار گفتگو اور راتوں رات امیر بننے کی خواہش نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور میں نے اس سے تفصیل پوچھنا چاہی۔

تنویر نٹ نے کہا، ’میں سب باتیں ابھی نہیں بتا سکتا، رات کو میرے چچا صدیق نٹ کے گھر کے عقب میں عشا کے بعد آ جانا۔‘

رات کو میں کھوکھا بند کر کے سیدھا تنویر نٹ سے ملنے کے لیے اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچا۔

تنویر نٹ سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے وہیں میرا انتظار کر رہا تھا۔

تنویر نٹ نے مجھ سے دوبارہ وہی دو وعدے لیے کہ ایک تو میں اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کسی کو نہیں بتاؤں گا اور دوسرا اس کے پلان کے مطابق عمل کروں گا۔

اس کے بعد تنویر نٹ نے بتانا شروع کیا کہ وہ لوگ کس طرح امیر ہوئے۔  

تنویر نے بتایا کہ اس کے دادا پاکستان بننے سے پہلے ایک قافلے کے ساتھ راجستھان گئے۔ شام کے وقت وہ ایک ندی کنارے چھوٹے سے ٹیلے پر بیٹھے بانسری بجا رہے تھے کہ وہاں کے کوتوال نے انہیں اپنے ساتھ راجہ کے خیمے میں چلنے کو کہا۔ راجہ سیر و تفریح کی غرض سے وہاں قریب ہی خیمہ زن تھا۔

راجہ نے دادا جان سے چار گھنٹے تک بانسری سنی اور پھر خوش ہو کر سو اشرفیاں اور اپنے شاہی تاج میں جڑا قیمتی یاقوت دادا جان کو انعام کے طور پر عطا کیے۔ دادا جان نے اس پوٹلی کو اپنی پگڑی میں باندھا اور قافلے سے چھپتے چھپاتے ہوئے، کسی نہ کسی طرح واپس گاؤں پہنچ گئے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر گاؤں میں بھی کسی کو پتہ چلا تو وہ غریب اور کمزور ہونے کے باعث ان قیمتی تحائف سے محروم ہو جائیں گے، لہٰذا انہوں نے اس پوٹلی کو پگڑی سمیت ایک صندوقچی میں رکھا جسے ہمیشہ تالا لگا رہتا تھا اور اس کی چابی دادا جان کے گلے میں ہوتی تھی۔

تنویر نٹ نے مزید بتایا کہ اس کے دادا نے 15 سال قبل اپنی وفات سے چند روز پہلے اس کے والد کو اکیلے میں اس راز سے آگاہ کرتے ہوئے صندوقچی کی چابی حوالے کی اور نصیحت کی کہ اس راز کو راز ہی رکھا جائے حتیٰ کہ اپنے بھائیوں تک کسی کو پتہ نہ چلے۔

اس نے بتایا، ’جب دادا جان والد صاحب کو یہ سب بتا رہے تھے تو میں اس ساری گفتگو کو چپکے سے سن رہا تھا۔ کچھ دن بعد دادا جان کا انتقال ہوا تو میں نے وہ صندوقچی کہیں چھپا دی اور ایک دن موقع دیکھ کر اس صندوقچی کو توڑا اور اس میں سے اشرفیوں کی تھیلی نکالی اور لاہور آ گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لاہور کے صرافہ بازار میں میں نے سونے کی پانچ پانچ اشرفیاں مختلف سناروں کو فروخت کیں جو مجموعی طور پر 45 لاکھ میں فروخت ہوئیں۔

’اس رقم سے میں نے لاہور سمن آباد میں ایک چھوٹا سا گھر خریدا اور گھر والوں کو گاؤں سے وہاں شفٹ کیا۔ اب آتا ہوں اصل مدعے کی طرف۔ وہ یہ ہے کہ راجستھان کے راجہ نے اپنے تاج میں جڑا جو یاقوت میرے دادا کو دیا تھا وہ ابھی تک میرے پاس ہے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ کیسے جان جوکھوں سے میں نے بچا کر رکھا ہوا ہے۔

لاہور میں ایک سنار نے اس کی قیمت 50 لاکھ لگائی اور میرے انکار پر اس نے پولیس کو اطلاع کر دی جس پر میں نے کچھ ’دے دلا‘ کر جان چھڑوائی۔ پھر میرے ایک جوہری دوست نے مجھے پتھر دیکھ کر بتایا کہ اس پتھر کی مالیت پاکستان میں ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے لیکن اگر اسے دبئی میں بیچا جائے تو 25، 30 کروڑ کا آرام سے بک جائے گا۔

’اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اسے بیچنا خطرے سے خالی نہیں ہے، اگر سرکار کو پتہ چل گیا تو وہ اس قیمتی یاقوت کو اپنے قبضے میں لے لے گی اور ویسے بھی دبئی میں ریٹ بھی کئی گنا زیادہ ملے گا اور رقم بھی محفوظ رہے گی۔

’اب مسئلہ یہ ہے کہ دبئی میں مال بیچنے کے لیے ہمیں ایک کمپنی رجسٹرڈ کروانا ہوگی، جس کے لیے کم از کم دو لوگوں کو ہونا ضروری ہے اور اب میں اس معاملے میں کسی انجان شخص پر اعتبار نہیں کرسکتا۔

’میں چاہتا ہوں کہ اگر تم میرے ساتھ شامل ہو جاؤ اور ہم مل کر دبئی میں کمپنی رجسٹرڈ کروا لیں تو اس یاقوت کو بیچ کر جتنی رقم ملے گی وہ ہم دونوں آدھی آدھی کر لیں گے اور باقی زندگی عیش و آرام کے ساتھ بسر کریں گے، لیکن کمپنی رجسٹریشن کا خرچہ تمھیں برداشت کرنا پڑے گا جو پاکستانی روپوں میں 18 لاکھ بنتے ہیں۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے 18 لاکھ خرچ کرو گے تو چھ ماہ کے اندر 18 کروڑ کے مالک بن جاؤ گے۔‘

میں نے تنویر نٹ سے کہا، ’بات تو تمہاری ٹھیک ہے، مگر اس وقت میرے پاس جمع پونجی لاکھ ڈیڑھ روپے ہے، میں اتنی بڑی رقم کا بندوبست کیسے کر سکتا ہوں اور پھر مجھے کیا گارنٹی ہے کہ تم رقم اور یہ قیمتی پتھر دونوں لے کر بھاگ نہیں جاؤ گے؟‘

تنویر نٹ نے قہقہہ لگایا اور سگریٹ کا لمبا کش لیتے ہوئے کہا، ’تمہاری اس تشویش کا حل تو بہت ہی آسان ہے ہم دونوں گاؤں کے کسی قابل بھروسہ شخص کے پاس وہ قیمتی پتھر امانتاً رکھ دیتے ہیں اور اسے بتا دیتے ہیں کہ ہم دونوں کی رضامندی کے بعد اسے واپس کیا جائے۔ جب کمپنی رجسٹرڈ ہو جائے گی تو وہ قیمتی یاقوت ہم دونوں مل کر دبئی کی مارکیٹ میں بیچ دیں گے اور تمہارے دبئی آنے جانے کا خرچہ اور ٹکٹ وہ سب بھی میرے ذمے ہوگا مگر ادائیگی قیمتی یاقوت کے بکنے کے بعد ہو گی۔‘

ساتھ ہی اس نے جیب سے ایک خوبصورت جیولری باکس نکالا، جس کے اندر کئی مومی لفافوں میں لپٹا ہوا وہ سرخ یاقوت موجود تھا۔ تنویر نٹ نے ایک جھلک دکھانے کے فوراً بعد اس جیولری باکس کو واپس اپنی بغلی جیب میں ڈال لیا۔

میں نے تنویر نٹ سے سوچ بچار کے لیے دوبارہ کچھ مہلت دینے کا کہا تو اس نے کہا، ’عبدالرزاق، تمہارے پاس سوچنے کے لیے کل رات تک کا وقت ہے، لیکن دھیان رہے کہ یہ موقع پھر ہاتھ نہیں آئے۔‘

سر جی، تنویر نٹ نے پتہ نہیں مجھ پر کیا جادو کر دیا تھا کہ مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ ساری رات، اپنا گھر، گاڑی، عیاشی والی زندگی کے پرکشش خواب نے مجھے گھیرے میں لیے رکھا۔

جہاں تک رقم لے کر بھاگنے کی تشویش تھی اس کا حل بھی اس نے بتا دیا تھا اور کمپنی رجسٹریشن کے بعد دبئی جانے کا سارا خرچہ اور ٹکٹوں وغیرہ کی ذمہ داری بھی وہ لے رہا تھا۔

خیر میں نے اپنی جمع پونجی ڈیڑھ لاکھ روپے اسے بطور بیانہ دے کر ڈیل طے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اگلی صبح میں ڈیڑھ لاکھ روپے اپنی تہمند کے پلو میں باندھے تنویر نٹ کے چچا صدیق نٹ کے گھر پہنچا اور تنویر کو آواز دی۔

تنویر شاید سو رہا تھا۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد وہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملتے ہوئے باہر نکلا اور مجھے اتنی علی الصبح اپنے سامنے دیکھ کر کافی حیران ہوا۔

میں نے اس کے بولنے سے پہلے ہی کہہ دیا کہ مجھے اس کی رات والی ڈیل منظور ہے۔ اس نے مجھے انگلی کے اشارے سے خاموش رہنے اور تھوڑا آگے چلنے کا کہا۔

تھوڑی دور جا کر تنویر نٹ نے کہا کہ وہ مجھے خود چائے کے کھوکھے پر آ کر ملے گا اور اس نے آئندہ اپنے چچا کے گھر آنے سے بھی منع کر دیا۔

چنانچہ میں واپس دکان پر آ گیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد تنویر نٹ بھی میرے  ہوٹل پر آ گیا۔ اس وقت ہوٹل پر دو تین لوگ موجود تھے۔ تنویر کے لیے بھی میں نے دودھ پتی بنائی اور اس کے آگے رکھی۔

جب ہوٹل پر موجود باقی لوگ اٹھ گئے تو تنویر نٹ نے مجھے اپنے پاس بلا کر میرے فیصلے کی بابت پوچھا۔ میں نے پوٹلی میں بند، اپنے جمع شدہ ڈیڑھ لاکھ روپے بطور بیعانہ اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ڈیل منظور ہے لیکن مجھے بقیہ رقم جمع کرنے کے لیے کچھ وقت چاہیے۔

تنویر نٹ نے رقم کی پوٹلی اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا، ’ہمارے پاس وقت زیادہ نہیں ہے، کمپنی جتنی تاخیر سے رجسٹرڈ ہوگی یہ قیمتی یاقوت اتنی ہی تاخیر سے بکے گا، لہٰذا کوشش کرو کہ رقم کا بندوبست جلد از جلد ہو جائے۔‘

تنویر نٹ نے یہ بھی بتایا کہ وہ آج کچھ دنوں کے لیے لاہور جا رہا ہے تاکہ وکیل سے کمپنی رجسٹریشن کے لیے کاغذات بنوا سکے اور وہ ہفتے، دس دن میں بقایا رقم کے لیے دوبارہ آئے گا۔ ساتھ ہی تنویر نٹ نے میرا اعتماد جیتنے کے لیے واضح کیا کہ وہ دونوں معاہدے کے مطابق آج ہی ہم دونوں یہ قیمتی یاقوت والا جیولری باکس گاؤں کے کسی معزز شخص کے پاس رکھوا دیں گے مگر اسے اس بیش قیمت پتھر اور اس کے پس منظر اور اپنے معاہدے کی بابت  ہرگز، ہرگز نہیں بتائیں گے۔

چنانچہ ہم دونوں نے اس امانت کو وقتی طور پر رکھنے کے لیے دیہی کونسلر چوہدری امین کا انتخاب کیا۔ میں نے ہوٹل پر ایک لڑکے کو بٹھایا اور خود تنویر نٹ کے ساتھ چوہدری امین کے ڈیرے پر چلے گئے۔ چوہدری امین اپنے ڈیرے پر موجود تھے اور ہماری خوش قسمتی کہ اس وقت ان کے ذاتی ملازموں کے علاوہ ان کے اردگرد کوئی موجود نہیں تھا۔

تنویر نٹ نے تمہید باندھتے ہوئے چوہدری امین کو بتایا کہ ہمارا کچھ آپس میں لین دین کا مسئلہ چل رہا ہے جس کے تصفیے تک ہم متفقہ طور پر یہ کچھ جیولری آپ کے پاس امانتاً رکھوا رہے ہیں۔ آپ نے یہ امانت ہم دونوں کی رضامندی کے بغیر کسی ایک فریق کے حوالے نہیں کرنی۔

چوہدری صاحب نے پہلے تو جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن پھر ہم دونوں کے اصرار پر وہ راضی ہوگئے۔

تنویر نٹ اسی رات لاہور چلا گیا۔ میں نے بھی اپنا کھوکھا بیچنے کے لیے لوگوں سے رابطے شروع کر دیے تاکہ جلد از جلد رقم کا بندوبست کر سکوں۔

بہت سے لوگوں کو تشویش ہوئی کہ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں۔ بہت سے لوگوں حتیٰ کہ میرے گھر والوں نے مجھے منع کیا کہ میں کھوکھا فروخت نہ کروں، مگر میں نے سب کو یہی بتایا کہ ایک تو میں نے شہر میں کسی کا قرضہ دینا ہے اور دوسرا میں کوئی اپنا کاروبار کرنا چاہتا ہوں۔

بالآخر کافی تگ و دو کے بعد میرا ہوٹل مع سامان صرف 14 لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔

دس دن کے بعد تنویر نٹ کچھ کاغذات لے کر دوبارہ گاؤں آ گیا۔ اس نے اسی طرح مجھے رات کے وقت اپنے چچا کے گھر کی عقبی سائیڈ پر بلایا۔ مجھ سے 14 لاکھ کی رقم وصول کی اور کمپنی رجسٹریشن کے لیے تیار کردہ کچھ کاغذات پر میرے انگوٹھے لگوائے اور جلد بقیہ اڑھائی لاکھ کا بندوبست کرنے کا کہہ کر واپس لاہور روانہ ہو گیا۔

باقی اڑھائی لاکھ کے بندوبست کی کوئی سبیل نہیں بن پا رہی تھی۔ ہوٹل بکنے کی وجہ سے کوئی مجھے ادھار دینے پر بھی آمادہ نہیں تھا گھر میں ایک بھینس اور ایک گائے موجود تھی جو بچوں کی پرورش کا واحد ذریعہ بچ گئی تھی۔

ہم ایک وقت کا دودھ بیچتے ہیں اور دوسرے وقت کا۔ دودھ بچوں کے استعمال میں آ جاتا ہے اور اسی دودھ سے ملنے والی تھوڑی بہت رقم سے اپنا کام چلاتے ہیں۔ میں نے تنویر نٹ سے فون پر کہا کہ وہ باقی رقم اپنی جیب سے خرچ کر لے اور جب ہمارا مال بک جائے تو مجھ سے ڈبل وصول کر لے، مگر اب وہ کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ جب بھی بات کرتا ہوں وہ کہتا تھا کہ بقیہ رقم کا بندوبست ہوا؟ جواب نفی میں سن کر وہ فوراً فون بند کر دیتا۔

سر جی، اب اس نے تین دن پہلے مجھے 15 دن کی مہلت دی ہے کہ اگر اس دوران پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو پھر ڈیل کینسل اور ایک پائی واپس نہیں ملے گی۔ سر جی اگر میں اپنی گائے اور بھینس دونوں بیچ بھی دوں تو بھی دو لاکھ سے زیادہ کی نہیں بکیں گی۔ سر جی اگر پھر بھی میری ڈیل توڑ نہ چڑھی تو میں برباد ہو جاؤں گا بلکہ ہو چکا ہوں۔

اس نے مجھے بتایا کہ اگر تنویر نٹ کو پتہ چل گیا کہ میں تھانے گیا ہوں یا میں نے کسی کو بتایا ہے تو بھی وہ میری ڈیل کینسل کر دے گا۔

ساتھ ہی اس نے روتے ہوئے کہا کہ سر جی میں کل دو دفعہ تھانے آتے آتے رستے سے یہ سوچ کر واپس لوٹ گیا تھا کہ کہیں میری ساری جمع پونجی خاک میں نہ مل جائے لیکن آپ کی شہرت سن کر ہمت کر کے آپ تک پہنچا ہوں۔

میں نے اسے تسلی دی کہ وہ کسی کو تھانے جانے کا بالکل نہ بتائے اور صرف میرے ساتھ رابطے میں رہے۔ میں جان چکا تھا کہ یہ سادہ لوح شخص کسی مکار اور چالاک نوسرباز کے ہاتھوں اپنا سب کچھ لٹا بیٹھا ہے۔

اس ساری واردات میں خوش آئند بات یہ تھی کہ تنویر نٹ کے ساتھ اس کا ٹیلیفونک رابطہ تاحال بحال تھا۔

میں فوری طور پر اس مبینہ طور پر بیش قیمت یاقوت کی حقیقت جاننا چاہتا تھا۔

چوہدری امین دیہی کونسلر (جس کے پاس ان دونوں نے مبینہ طور پر قیمتی یاقوت بطور امانت رکھوایا تھا) انتہائی شریف النفس اور اچھی شہرت کا حامل تھا اور کبھی کبھار تھانے بھی آتا جاتا رہتا تھا۔

میں نے اپنے موبائل سے چوہدری امین کو کال کی اور انہیں جلد از جلد میری سرکاری رہائش گاہ پر ملنے کو کہا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ تھانے میں کسی ملازم کو بھی اس بابت کوئی خبر پہنچے۔

چوہدری امین اپنے گھر پر ہی موجود تھے چنانچہ انہیں میری رہائش گاہ تک آتے ہوئے زیادہ دیر نہیں لگی۔

میں نے چوہدری صاحب کے لیے چائے بنوائی اور اسی دوران انہیں عبدالرزاق کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

چوہدری امین نے کہا، ’مجھے نہیں پتہ کہ اس جیولری باکس میں کیا ہے۔ میں امانتاً رکھنا بھی نہیں چاہتا تھا مگر دونوں کے اصرار پر ویسے ہی گھر میں رکھوا دیا۔

میں نے چوہدری صاحب سے درخواست کی کہ بہت ہی اچھا ہو اگر وہ اس جیولری باکس کو کسی طرح یہاں منگوا سکیں کیونکہ میں نے صرافہ بازار میں اپنے ایک دوست اور انتہائی معروف پتھر شناس بندے کو بلوایا ہے جو اپنے آلات کے ساتھ کچھ ہی دیر میں یہاں پہنچ جائے گا۔

چوہدری صاحب نے وہیں بیٹھے ہوئے اپنے گھر فون کر کے اس جیولری باکس کی لوکیشن سمجھائی اور اسے گھر سے منگوانے کے لیے اپنے ڈرائیور کو روانہ کر دیا۔

اگلے 15 منٹ میں پتھر شناس ہمارے صراف دوست بھی ہمارے درمیان موجود تھے۔ انہیں جان بوجھ کر ساری تفصیلات سے نابلد رکھا گیا، کیونکہ انہیں صرف اس پتھر کی جانچ کے لیے بلایا گیا تھا۔

تھوڑی دیر بعد وہ جیولری باکس بھی ہمارے سامنے پہنچ گیا۔ ان سب کی موجودگی میں ہم نے جیولری باکس کو کھولا۔ اس کے اندر تہہ در تہہ مومی کاغذ میں ملفوف ایک پتھر کو نکالا اور اس صراف کو جانچ کے لیے کہا۔

صراف نے پتھر دیکھتے ہی قہقہہ لگایا اور کہا، ’یہ پتھر آپ نے کہاں سے منگوایا ہے؟‘

میں نے ان کی ہنسی کو مذاق میں ٹالتے ہوئے کہا، ’قیمتی پتھر ہے اس لیے جانچ کے لیے آپ کو زحمت دی۔‘

اس نے دوبارہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ’یہ ایک انتہائی معمولی پتھر ہے جس کی قیمت ڈیڑھ سو روپے سے کسی صورت زیادہ نہیں۔‘ ہم نے چائے پلانے اور شکریہ ادا کرنے کے بعد پتھر شناس زرگر کو روانہ کر دیا۔

میرا اندیشہ بالکل درست تھا۔ وہ سادہ لوح شخص اس مکار نوسرباز کے ہاتھوں لٹ چکا تھا۔

میں نے عبدالرزاق مدعی کا بیان احتیاطاً لکھوا کر رکھ لیا تھا تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج عمل میں لایا جا سکے۔

لیکن اب سب سے بڑا چیلنج ملزم کو گرفتار کرنا اور لوٹی ہوئی رقم اس مظلوم کو واپس دلوانا تھا، جس کے لیے ہم نے چوہدری امین کی معاونت حاصل کی۔

ہم نے مدعی عبدالرزاق کو تھانے بلوایا، پہلے سے لکھے ہوئے بیان پر اس کا انگوٹھا لگوایا۔

ہم نے چوہدری امین کی معاونت سے ایک فرضی گاہک تیار کیا جس نے 47 کے بی جا کر عبدالرزاق کی گائے اور بھینس کی دو لاکھ 70 ہزار فرضی بولی لگائی اور دونوں جانور ڈالے میں ڈال کر پھاٹک میں جمع کروا دیے گئے۔ اس فرضی کارروائی کا مقصد گاؤں میں اس بات کا چرچا کروانا تھا کہ عبدالرزاق نے اپنے مویسشی بیچ دیے ہیں تاکہ اگر تنویر نٹ گاؤں کے کسی بھی شخص سے رابطے میں ہو تو اسے یہ خبر مل سکے کہ واقعی عبدالرزاق نے اپنے مویشی بیچ دیے ہیں۔

اس کے بعد میں نے اپنے سامنے عبدالرزاق سے اس نوسرباز تنویر نٹ کو فون کروایا۔ تنویر نٹ نے فون اٹھاتے ہی پوچھا، ’رقم کا کیا بنا؟ صرف ایک ہفتہ بقایا رہ گیا ہے۔ اگر رقم نہ ملی تو ڈیل ختم۔‘

عبدالرزاق نے جب بتایا کہ اس نے اپنے مویشی بیچ کر بقیہ رقم کا بندوبست کر لیا ہے تو تنویر نٹ نے ’زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا اور کہنے لگا، ’بقیہ پیسوں کی وصولی کے طریقہ کار کے لیے میں رات کو آٹھ نو بجے فون کروں گا۔‘

ہم نے عبدالرزاق کو اگلی کال تک اپنے پاس رکنے کی ہدایت کی۔

عبدالرزاق اس بات سے مکمل طور پر بے خبر تھا کہ ہم اس جعلی یاقوت کی مکمل جانچ پڑتال کروا چکے ہیں۔ اس کے نزدیک اس کی رقم اس قیمتی پتھر کے عوض محفوظ ہے جو چوہدری امین کے پاس رکھا گیا ہے۔

رات ساڑھے آٹھ بجے عبدالرزاق کے فون پر گھنٹی بجی۔ توقع کے عین مطابق یہ اسی نوسرباز تنویر نٹ کا فون تھا۔

تنویر نٹ نے کہا کہ وہ وقت کم ہونے کے باعث گاؤں نہیں آ سکے گا لہٰذا اس نے عبدالرزاق کو بقیہ رقم کے ہمراہ شالیمار ہوٹل بورے والا آنے کو کہا۔ ہم نے عبدالرزاق کو اشارہ کیا کہ وہ بورے والا آنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کرے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور صبح 11 بجے کا وقت طے ہوا۔

ہم نے عبدالرزاق کو کچھ رقم تھیلے میں ڈال کر دی کہ وہ صبح یہ تھیلا اپنے ساتھ لے جائے اور اس کے حوالے کرنے کی بجائے دبئی جانے کے حوالے سے اگلے پروگرام کے بارے میں پوچھے۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ تنویر نٹ کو زیادہ سے زیادہ انگیج کیا جائے۔

اگلی صبح میں نے اس ملزم کی گرفتاری کے لیے سادہ کپڑوں میں اپنے تین قابل اعتماد کانسٹیبلوں کی ڈیوٹی لگا دی تھی جو شالیمار ہوٹل میں پوزیشن سنبھال چکے تھے اور میں خود بھی اپنے گن مین جان محمد کے ہمراہ پرائیوٹ گاڑی میں شالیمار ہوٹل کے قریب موجود تھا۔

ساڑھے دس بجے کے قریب سفید کاٹن کے سوٹ میں ملبوس ظاہری طور پر معزز دکھائی دیکھنے والا نوجوان شالیمار ہوٹل میں داخل ہوا اور اس نے ویٹر کو پانی اور چائے کا آرڈر دیا۔

ٹھیک 15 منٹ کے بعد جب مدعی عبدالرزاق پیسوں والا تھیلا بغل میں دبائے شالیمار ہوٹل کے ہال میں داخل ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا تو دور سے اسی خوش پوش نوجوان نے ٹیبل سے ہاتھ بلند کر کے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

عبدالرزاق نے بھی اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور اس کی جانب چل پڑا۔ ٹیبل پر پہنچتے ہی تنویر نٹ نے جوش و خروش کے ساتھ عبدالرزاق کو گلے لگایا اور اس کے لیے چائے کا آرڈر دے کر اس سے حال چال پوچھنے لگا۔ اسی اثنا میں اس کے پاس والی میزوں پر بیٹھے ہوئے ہمارے جوانوں نے اسے دبوچ لیا اور ہوٹل سے باہر لے آئے۔ وہ بپھرے ہوئے انداز میں عبدالرزاق کو گھور رہا تھا، مگر اب وہ پولیس کی گرفت میں تھا۔

میں نے تھانے میں ڈیوٹی آفیسر کو بذریعہ فون ہدایت کی کہ فوری طور پر پہلے سے موجود استغاثہ کی روشنی میں فراڈ، دھوکہ دہی، جعلی رجسٹریشن کاغذات کی تیاری، 420/468/472 تعزیرات پاکستان کے تحت ملزم تنویر نٹ وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کریں۔

میں نے مدعی مقدمہ عبدالرزاق کو گاڑی کی اگلی سیٹ پر اپنے ساتھ بٹھایا اور اسے اس جعلی یاقوت کی حقیقت کے بارے میں بتایا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

میں نے چوہدری محمد امین کونسلر کے ذریعے تنویر نٹ کے چچا کو بھی تفتیش کے لیے تھانے بلوا لیا۔ تھانے پہنچتے ہی ملزم تنویر کے ہوش ٹھکانے آ گئے اور اس نے فر فر بولنا شروع کر دیا تھا۔

ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ پچھلے دس سال سے دھوکہ دہی اور فراڈ کر کے سادہ لوح لوگوں سے پیسے اینٹھ رہا ہے مگر اپنے طریقۂ واردات کی وجہ سے آج تک پکڑا نہیں گیا، اس لیے کسی تھانے میں اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے۔ ساتھ ہی ملزم نے منت سماجت شروع کر دی کہ اس کے سسر کو اس کے فراڈ کی تفصیلات نہ بتائی جائیں۔

ہم نے ملزم پر واضح کیا کہ اگر عبدالرزاق مدعی کے پورے پیسے برآمد نہ ہوئے تو تمھارے چچا سسر کو بھی اس مقدمے میں چالان کیا جائے گا کیونکہ تم صرف انہی کی معرفت اس گاؤں 47 کے بی میں موجود تھے اور اسی وجہ سے تم نے عبدالرزاق جیسے سادہ لوح شخص کو اپنے فراڈ کی بھینٹ چڑھایا۔

اگلے روز ہم نے علاقہ مجسٹریٹ سے ملزم کا پانچ روزہ ریمانڈ لیا۔ ہم نے چوہدری امین صاحب سے وہ ’یاقوت‘ بھی حسب ضابطہ قبضہ میں لیا جس کی بنیاد اس نے سارا پلان تیار کیا تھا۔

ایسے کیسوں میں ڈائریکٹ ریکوری بہت مشکل ہوتی ہے، لیکن پھر بھی ہمارے مستقل دباؤ پر ملزم کے اہل خانہ نے ساڑھے پانچ لاکھ روپے نقد ریکوری کی مد میں جمع کروا دیے۔

ان ڈائریکٹ سیٹل منٹ کے حوالے سے چوہدری امین کونسلر نے بہت معاونت کی اور اس کے مقامی دباؤ کے باعث ملزم تنویر نٹ کے سسسر صدیق نٹ نے گاؤں میں اپنا پختہ مکان مالتی دس لاکھ روپے، پنچایتی طور پر عبدالرزاق مدعی کے نام لگوا دیا۔

علاقہ مجسٹریٹ نے ملزم کو دس یوم کے جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر حوالات بھجوائے جانے کے اقدامات صادر فرمائے۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہم نے ملزم کو تمام ممکنہ میسر ثبوتوں کے ساتھ چالان عدالت کیا اور مدعی مقدمہ عبدالرزاق کو اس کی لوٹی ہوئی رقم واپس دلانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی سے نوازا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی