’میں مغلوں کی وارث ہوں‘: لال قلعے کی ملکیت کی دعویدار بھارتی خاتون

کولکتہ کے نواح میں مقیم سلطانہ بیگم نے عدالت میں مقدمہ درج کروایا ہے کہ آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ کی حیثیت سے وہ نئی دہلی میں موجود سترہویں صدی کے لال قلعے کی حقیقی مالک ہیں، جو کبھی مغل اقتدار کا مرکز تھا۔

تاج محل تعمیر کرنے والے مغل خاندان کی وارث ہونے کی دعویدار ایک بے سہارا بھارتی خاتون نے لال قلعے کی ملکیت کا مطالبہ کیا ہے جو کبھی مغل بادشوں کی رہائش گاہ تھا۔

سلطانہ بیگم کولکتہ کے نواح میں ایک کچی آبادی کے اندر واقع دو کمروں کے ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہتی ہیں اور معمولی پینشن پر زندگی گزار رہی ہیں۔

ان کی تھوڑی سے متاع میں مرزا محمد بیدار بخت سے ان کی شادی کا ریکارڈ بھی شامل ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت کے آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے ہیں۔

1980 میں ان کی وفات کے بعد سلطانہ بیگم اپنی زندگی کی جدوجہد کر رہی ہیں اور گذشتہ ایک دہائی سے حکام سے درخواست کر رہی ہیں کہ ان کی شاہی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اور اس حیثیت کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے۔

68 سالہ سلطانہ بیگم نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں سوال کیا: ’کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ تاج محل کی تعمیر کرنے والے شہنشاہوں کی نسل اب انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی ہے؟‘

سلطانہ بیگم نے عدالت میں مقدمہ درج کروایا ہے جس میں یہ تسلیم کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ نئی دہلی میں موجود سترہویں صدی کے لال قلعے کی حقیقی مالک ہیں، جو کبھی مغل اقتدار کا مرکز تھا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ حکومت یقینی طور پر مجھے انصاف دے گی۔ جب کوئی چیز کسی کی ہو تو وہ اسے واپس کر دینی چاہیے۔‘

سلطانہ بیگم کا کیس اس دعوے پر منحصر ہے کہ ان کے مرحوم شوہر کا سلسلہ بہادر شاہ ظفر سے مل سکتا ہے، جو حکومت کرنے والے آخری مغل شہنشاہ تھے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے مشہور برطانوی تاجروں کے تجارتی منصوبے کے ذریعے ہندوستان کی فتح کے بعد بہادر شاہ ظفر کی 1837 میں تاج پوشی کے وقت تک مغلیہ سلطنت دارالحکومت دہلی کی حدود تک سکڑ چکی تھی۔

دو دہائیوں بعد ایک بڑے پیمانے پر بغاوت، جس کو اب ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کہا جاتا ہے، میں شورش پسند فوجیوں نے کمزور 82 سالہ بادشاہ کو اپنی بغاوت کا رہنما قرار دیا تھا۔

جنگ چھیڑنے کے بجائے شاعری لکھنے کو ترجیح دینے والے بہادر شاہ ظفر جانتے تھے کہ بغاوت دم توڑ چکی ہے۔

برطانوی افواج نے ایک ماہ کے اندر دہلی کو گھیر لیا اور بغاوت کو بے رحمی سے کچل دیا۔ شاہی خاندان کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود بہادر شاہ ظفر کے زندہ بچ جانے والے تمام 10 بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

بہادر شاہ ظفر بیل گاڑی میں سوار ہوکر پہرے میں ہمسایہ ملک میانمار جلاوطن ہو گئے  اور پانچ سال بعد قید میں خاموشی سے انتقال کر گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بغاوت کے بعد کے برسوں میں لال قلعے کی بہت سی عمارتیں مسمار کر دی گئیں اور 20 ویں صدی کے اوائل میں نوآبادیاتی حکام کی جانب سے اس کی تزئین و آرائش کا حکم دینے سے پہلے یہ قلعہ خراب ہو گیا تھا۔

اس کے بعد یہ قلعہ برطانوی راج سے آزادی کی ایک طاقتور علامت بن گیا ہے۔

ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اگست 1947 میں آزادی کے پہلے دن کے موقع پر قلعے کے مرکزی دروازے پر قومی پرچم لہرایا تھا اور اب ان کے جانشین ہر سال ایسا کرتے ہیں۔

سلطانہ بیگم کا عدالتی مقدمہ اس دلیل پر منحصر ہے کہ بھارت کی حکومت اس جائیداد پر غیرقانونی طور پر قابض ہے، جو ان کو منتقل کی جانی چاہیے۔

دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ ہفتے ان کی درخواست کو ’وقت کا سراسر ضیاع‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا، لیکن اس بارے میں فیصلہ نہیں دیا کہ آیا شاہی نسب پر ان کا دعویٰ جائز ہے یا نہیں۔

عدالت نے کہا کہ سلطانہ بیگم کی قانونی ٹیم یہ جواز پیش کرنے میں ناکام رہی ہے کہ بہادر شاہ ظفر کی جلاوطنی کے بعد 150 سال تک اس طرح کا مقدمہ کیوں نہیں لایا گیا۔

سلطانہ بیگم کے وکیل وویک مورے نے کہا کہ یہ مقدمہ جاری رہے گا۔

وویک مورے نے اے ایف پی کو فون پر بتایا: ’سلطانہ بیگم نے اس حکم کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے عدالت کے اعلیٰ بینچ کے سامنے درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

سلطانہ بیگم نے ایک غیر یقینی زندگی گزاری ہے، حتیٰ کہ بیوہ ہونے سے پہلے بھی اور اس وقت جب وہ کچی آبادی میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئی تھیں، جسے وہ اب اپنا گھر کہتی ہیں۔

مرزا محمد بیدار بخت کے ساتھ 1965 میں جب سلطانہ بیگم کی شادی ہوئی تو ان کی عمر14 سال تھی اور وہ اپنے شوہر سے32 سال چھوٹی تھیں۔ ان کے شوہر نجومی کے کام سے تھوڑے سے پیسے کماتے تھے اور اپنے خاندان کی کفالت سے قاصر تھے۔

انہوں نے بتایا: ’غربت، خوف اور وسائل کی کمی نے انہیں اس دہانے پر دھکیل دیا۔‘

سلطانہ بیگم اپنے ایک پوتے کے ساتھ چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتی ہیں، ہمسائیوں کے ساتھ مل کر باورچی خانہ استعمال کرتی ہیں اور کپڑوں کی دھلائی کے لیے سڑک پر لگا ہوا ایک مشترکہ نل استعمال کرتی ہیں۔

کچھ سالوں تک وہ اپنے گھر کے قریب ایک چھوٹی سی چائے کی دکان چلاتی رہیں لیکن سڑک چوڑی کرنے کے دوران اسے گرا دیا گیا اور اب وہ ماہانہ 6000 بھارتی روپے کی پینشن پر گزارا کرتی ہیں۔

لیکن انہوں نے یہ امید نہیں چھوڑی کہ حکام انہیں بھارت کی سامراجی وراثت اور لال قلعہ کا حقیقی مالک تسلیم کریں گے۔

انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ آج، کل یا 10 برسوں میں مجھے وہ مل جائے گا جس کی میں حقدار ہوں۔‘

’خدا نے چاہا تو میں اسے واپس حاصل کرلوں گی۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ انصاف ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا