بابا سیئر: چترال کے ’شاہ عبداللطیف بھٹائی‘

بابا سیئر، جو صوفی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ مستند شاعر بھی تھے، جن کی شخصیت گذشتہ دو صدیوں سے چترال کی لوک کہانیوں کا دل پسند موضوع ہے۔

(چترال کے علاقے شوگرام میں بابا سیئر کی آخری آرام گاہ(رضوان الزماں پڑپوتابابا سئیر 

بابا سیئر چترال کے علاقے شوگرام کے رہنے والے تھے۔ وہ ایک ایسی لڑکی سے محبت کرتے تھے جو دریائے چترال کے اس پار ریشن کی رہائشی تھی۔

ایک دفعہ بابا سیئر پل پار کر کے ریشن کی طرف جا رہے تھے کہ انہیں رسوں سے بنے طول پل کی دوسری طرف سے وہ لڑکی اس طرف آتی دکھائی دی۔

اب بابا سیئر ایک زبردست الجھن میں گرفتار ہو گئے۔ اگر وہ آگے بڑھتے ہیں تو تنگ پل کی وجہ سے اپنی محبوبہ کو چھو کر گزرنا پڑے گا، اگر واپس پلٹتے ہیں تو اس کی طرف پشت کرنا پڑے گی جو اس کی توہین ہے۔

یہ الجھن ایسی تھی کہ بابا سیئر کے پاس اس کا کوئی حل موجود نہیں تھا۔ آخر انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ آج بھی چترال کی لوک روایات کا حصہ بن گیا ہے۔ انہوں نے دور نیچے بپھرے ہوئے دریائے چترال میں چھلانگ لگا دی تاکہ دونوں مشکلوں سے بچ جائیں۔

یونیورسٹی آف چترال کے پروفیسر ظہور الحق دانش نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس واقعے کی تفصیلات بتا کر کہا کہ اس کا ذکر اس کے کھوار شعر ’یار من ہمین‘ میں بھی موجود ہے۔

ڈاق اژی غم نو ژانیم دوستو غَشو غم جاݰومان یارئے 
مہ کریم تت بیکو ساری دریاہو دی جم جاݰومان یارئے

مفہوم: مجھے پیدائش کے بعد غم کا تو نہیں پتہ، اگر کوئی میرے محبوب سے گستاخی کرے میں اس کو غم سمجھتا ہوں۔ میری پشت آپ کی طرف ہو، اس سے دریا میں چھلانگ لگانا بہتر سمجھتا ہوں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خوش قسمتی سے بابا صاحب کو تیرنا آتا تھا، اس لیے دوسری طرف نکل گئے، لیکن سردیوں کے موسم میں یقیناً یہ جست ہمت کی بات ہے۔

ماہر تعلیم اور چترالی زبان کے ادیب شیر ولی خان اسیر صاحب کہتے ہیں کہ یہ ایک سچا واقعہ ہے۔ بابا سیئر کی جو محبوبہ تھی وہ ان کی قریبی رشتہ دار تھیں اور یہ جو واقعہ لوگوں نے اسے دیکھا بھی تھا۔

شاہنامۂ چترال

بابا سیئر چترال کی مشہور تاریخی اور علمی و ادبی شخصیت ہیں، لیکن ان کے نام اور کام سے ملک کے دوسرے حصوں کے لوگ واقف نہیں ہیں۔ وہ فارسی اور چترالی زبان کے مستند شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ صوفی بزرگ بھی تھے، اور چترال کے مختلف علاقوں میں بکھری ہوئی لوک داستانوں کا موضوع بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک عمدہ فنکار بھی تھے اور لکڑی اور پتھروں پر ان کی کندہ کاری کے نمونے آج بھی محفوظ ہیں۔

18ویں اور 19ویں صدی میں زندگی گزارنے والے بابا سیئر کی شاعری سے متعلق چترال کے معروف ادیب شیر ولی خان اسیر صاحب کہتے ہیں کہ ’ان کی اکثر شاعری فارسی میں ہے، ہاں ان کا ایک گانا ’یورمن ہمین‘ اور اکادکا اشعار کھوار زبان میں ملتے ہیں، ان کی شاعری کی چاشنی اور صوفیانہ جھکاؤ کی وجہ سے بابا سیئر کو چترال کا حافظ شیرازی بھی کہا جاتا ہے۔‘

بابا سیئر نے عظیم فارسی شاعر فردوسی کی طرز میں ایک شاہنامہ بھی لکھا جو اپنی شعری خوبیوں کی بنا پر آج بھی اہمیت کا حامل ہے۔

لوک کہانیوں کا موضوع

معروف نقاد اور مقتدرہ قومی زبان کے سابق چیئرمین پروفیسر فتح محمد بابا سیر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’ان کی شخصیت گذشتہ دو صدیوں سے چترال کی لوک کہانیوں کا ایک دل پسند موضوع ہے۔ ان کی ذات اور کمالات کے گرد کئی کہانیاں بنی گئی ہیں اور یوں ان کی تاریخی شخصیت چترال کی لوک کہانیوں اور عوامی حکایات کا دلکش حصہ بن کر عوام کے لیے سرچشمۂ فیضان ہو کر رہ گئی ہے۔‘

بابا سیئر کے حالاتِ زندگی کے بارے میں مستند معلومات کی کمی ہے۔ محمد عرفان اپنی کتاب انتخاب شعرائے چترال میں بابا سیئر کے تاریخ پیدائش کے بارے ڈاکٹر پروفیسر عنایت اللہ فیضی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ان کی صیحیح تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات قدیم ماخذ میں درج نہیں ہے۔ 

لکڑی کے ستونوں، دیواروں اور پتھروں پر لکھتے وقت مرزا سیئر نے جو تاریخیں لکھی ہیں، نیز چترال کے والیاں ریاست کے حالات اور ان کی جنگی مہموں کا احوال ’شاہنامہ‘ کے انداز میں جس طرح لکھا ہے، اس سے ان اس دور کے واقعات کا اندازہ ہوتا ہے۔

سینہ بہ سینہ چلنے والے روایات کے مطابق 1760 کا عشرہ ان کی پیدائش کا تھا اور انہوں نے 1830 کے لگ بھگ وفات پائی۔
بابا سیئر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے امان اللہ ان کے حالاتِ زندگی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’بابا سیئر نے لکڑی کے ستونوں اور پتھروں پر تحریریں لکھی ہیں۔ ایک بڑے پتھر پر انہوں نے لکھا تھا وہ دریا میں گر گیا ہے۔ لکھائی تو محفوظ ہے، لیکن وہ پتھر الٹ گیا ہے۔ وہ پتھر بہت بڑا ہے، اور اس پر تحریر میں ان کے کچھ حالات مل جاتے ہیں۔‘

پروفیسر ظہور الحق دانش بابا سیئر کی شاعری اور تصانیف کے حوالے سے کہتے ہیں، ’مرزا محمد سیئر المعروف بابا سیئر کی اصل شاعری فارسی میں ہے۔ فارسی میں اُن کے غیرمطبوعہ مجموعہ شاعری کے حوالے سے باتیں عرصہ دراز سے موجود تھیں۔ سنہ 2008 میں چترال سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب، محقق اور فارسی ادب کے سکالر مولا نگاہ نگاہ نے دیوان بابا سیئر مع ترجمہ وہ تشریح ترتیب دیا، جسے مقتدرہ قومی زبان پاکستان نے چھاپا۔ اس کتاب کی رونمائی اکادمی ادبیات کے تعاون سے انجمن ترقی کھوار حلقہ پشاور کے زیر انتظام پشاور کے ایران کونسلیٹ خانہ فرہنگِ ایران میں ہوئی۔

اس کے علاوہ ایک اور کتاب شاہنامہ سیئر پہلے سے موجود ہے۔

’چترال کے ’شاہ عبداللطیف بھٹائی‘

بابا سیئر کے بارے میں چترال کے باہر کے لوگوں کو آگہی دینے کے لیے مستنصر حسین تارڑ نے خامہ فرسائی کی ہے۔ لکھتے ہیں: ’تم چترال کے سب سے عظیم صوفی شاعر کے مزار سے اگر لا تعلق ہو کر گزر گئے تو تم نے گناہ کیا۔ چند لمحوں کے لیے رک کر اس درویش شاعر کی عظمت کو سلام کیوں نہ کیا؟ تم نے گناہ کیا۔ بابا سیار چترال کے لیے وہی کچھ ہیں جو دہلی کے لیے نظام الدین اولیا ہیں، اجمیر کے لیے معین الدین چشتی ہیں، سندھ کے لیے بھٹائی ہیں اور لاہور کے لیے داتا صاحب ہیں۔‘

مستنصر مزید لکھتے ہیں کہ ’دراصل ہر درویش، صوفی اور شاعر کا مرتبہ، اس کی درویشی، تصوف اور شاعری کی عرش مزاجی کے مطابق نہیں ہوتا، بلکہ اس شہر اور اس مقام کے مطابق ہو تا ہے جہاں وہ دفن ہوتا ہے۔

’اگر وہ شہر یا مقام متمول ہو، اہم ہو، تو وہ بزرگ بھی اہم اور بر گزیدہ ہو جاتے ہیں ورنہ بابا سیار کی طرح نسبتا گمنام ہو جاتے ہیں، داتا گنج بخش بھی اگر لاہور میں نہ ہوتے، کسی گوپس یا وادیِ ترچ میر میں ہوتے تو شاید اتنے پیر کامل اور مشکل کشا نہ ہوتے، جتنے کہ اب لاہور میں ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی دولت، اور ناجائز دولت بھی کسی بزرگ کو بر تر ثابت کرنے میں بے حد معاون ثابت ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ادب