چترال گول نیشنل پارک سے مارخور غائب ہونے لگے؟

رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی نے مارخور کا گوشت اسلام آباد سپلائی کرنے کا الزام عائد کیا ہے، لیکن وائلڈ لائف چترال نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے مارخور کے شکار سے اچھی خاصی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جس سے علاقے کے عوام اور حکومت دونوں کو فائدہ ہوتا ہے (تصویر :وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ  خیبر پختونخوا)

 

پہاڑی علاقوں میں پائے جانے والے قیمتی جانور مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے، لیکن 2019 سے 2021 کے درمیان مارخوروں کی بڑی تعداد چترال گول نیشنل پارک سے غائب ہو گئی ہے، جس سے مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔

کمیونٹی ڈیولپمنٹ کنزرویشن و پارک ایسوسی ایشن کے بانی رکن اور تنظیم کے جنرل سیکریٹری حسین احمد کہتے ہیں کہ ’ہر سال چترال کے گول نیشنل پارک میں مارخوروں کی گنتی ہوتی ہے۔ ہم لوگ دسمبر کے مہینے میں گنتی کرتے ہیں۔ کیونکہ مارخور پہاڑوں سے نیچے آتے ہیں۔ مختلف دروں میں ہمارے نمائندے ہوتے ہیں جو ان کی گنتی کرتے ہیں اور وائلڈ لائف والے گنتی کے لیے سائنٹیفک طریقے استعمال کرتے ہیں، اس عمل کے لیے کیمروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔‘

مارخوروں کی گنتی کے حوالے سے حسین احمد کہتے ہیں: ’2019 میں یہ تعداد 2868 تھی اور 2021 میں یہ تعداد کم ہوکر 2000 رہ گئی۔ یہ تعداد وائلڈ لائف کے مطابق ہے، لیکن  ہمارے مطابق یہ تعداد 800 ہے اور تشویش ناک حد تک کم ہو گئی ہے۔‘

بقول حسین احمد: ’ہم  وائلڈ لائف والوں سے کئی بار کسی تیسرے ادارے یا تنظیم سے گنتی کروانے کا مطالبہ کر چکے ہیں، لیکن سنوائی نہیں ہو رہی۔ اگر وائلڈ لائف کا موقف صحیح ہے تو پھر بھی 868 مارخور کم ہیں اور وہ کہاں غائب  ہوگئے؟ شاید وہ اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے۔‘

تنظیم کے بارے میں حسین احمد نے بتایا کہ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کنزرویشن و پارک ایسوسی ایشن حکومت پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ یہ تنظیم ماحولیات اور کنزرویشن کے سلسلے میں کام کرتی ہے، جسے حکومت کی طرف سے فنڈز ملتے تھے، لیکن گذشتہ دو سال سے حکومت کی جانب سے فنڈز بھی روک دیے گئے ہیں، اس لیے واچرز کو ادائیگی نہیں ہو رہی۔

انہوں نے سوال کیا: ’ایسے میں ان جانوروں کی دیکھ بھال کیسے کی جا سکتی ہے۔ باقی ہم اپنی طرف سے کوشش کرتے ہیں۔ ہم لوگوں نے پرندوں اور جانوروں کے شکار اور درختوں کی کٹائی کے سلسلے میں اقدامات کیے ہیں۔ ہم لوگ اپنے بنیادی حق سے ہی دستبردار ہوگئے ہیں۔ ہم چترال گول سے استفادہ نہیں کرتے تاکہ جانور اور درخت محفوظ ہوں،  لیکن حکومتی اداروں کی جانوروں اور پودوں کے تحفظ کے سلسلے میں عدم دلچسپی قابل افسوس ہے۔‘

چترال گول نیشنل پارک میں مارخوروں کے غائب ہو جانے کے بارے میں رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا: ’قومی جانوروں کا غیر قانونی شکار ہو رہا ہے اور ان کا گوشت اسلام آباد میں سپلائی کیا جاتا ہے، جن کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ مارخوروں کی تعداد تشویش ناک حد تک کم ہوکر 800 رہ گئی ہے۔ مارخوروں کا غیر قانونی شکار کیا جاتا ہے، جس میں حکومتی اہلکار ملوث ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، جس سے مارخوروں کی نسل ختم ہوتی جارہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے مارخور کے شکار سے اچھی خاصی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جس سے علاقے کے عوام اور حکومت دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ 

وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے مطابق گذشتہ ہفتے ٹرافی ہنٹنگ کے پرمٹس کی سب سے زیادہ بولی 160,150 امریکی ڈالر میں لگی اور دوسری بولی 155,100 امریکی ڈالر اور تیسری بولی 135,150 امریکی ڈالر میں لگی۔

البرہان ولیج کنزرویشن کے صدر شہزادہ سکندر الملک کے مطابق مارخور کے شکار کا یہ پرمٹ فروخت ہونے کے بعد اس سے جو پیسہ ملتا ہے، اس کا 80 فیصد حصہ علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے اور عموماً اسے علاقے میں ترقیاتی کاموں وغیرہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد رقم حکومت کو جاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مارخور کے شکار کے اس انتظام کے تحت بالخصوص عمر رسیدہ مارخور کا چناؤ کیا جاتا ہے، چھوٹے مارخور کا شکار نہیں کیا جاتا۔

اس سلسلے میں ڈی ایف او چترال سرمد حسین شاہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اس سلسلے میں موقف تو نہیں دیا لیکن ایک دستاویز ضرور فراہم کی، جس کے مطابق 2019کے تیسرے فریق برفانی چیتا فاؤنڈیشن کے مطابق چترال گول نیشنل پارک میں مارخوروں کی تعداد 2850 تھی جبکہ 2020 کے وائلڈ لائف کے سروے کے مطابق ان کی آبادی 2000 تھی۔ 

تعداد میں کمی کی وجہ سروے کے لیے استعمال کیا گیا طریقہ کار بھی ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں اداروں نے سروے کے لیے الگ الگ طریقہ کار استعمال کیے تھے اور ایک وجہ مارخوروں کا خوراک کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنا بھی ہے۔

چترال گول مینجمنٹ پلان 2008 سے 2018 کے مطابق 452 مارخور بارڈر کراس کرکے افعانستان چلے گئے تھے۔ خوراک کی تلاش کے علاوہ بارڈر پر خاردار تار لگانے کے لیے چترال گول نیشنل پارک میں لوگوں کی نقل و حرکت بھی ہے، اس وجہ سے کچھ مارخور سینٹرل چترال کی مقامی آبادی میں بھی دیکھے گئے تھے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات