کرکٹ سے دوری: ’دعا کرتا تھا یہ وقت کسی دشمن پر بھی نہ آئے‘

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں عمر اکمل نے کرکٹ میدان سے دور گزرے وقت اور پی ایس ایل 7 کے ذریعے اپنی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے بھروسہ کرنے پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستانی ٹیم کے بلے باز عمر اکمل کا کہنا ہے کہ انہیں صرف کرکٹ کھیلنے اور گراؤنڈ میں وقت گزارنے کا شوق تھا لیکن وہ سب سے دور ہوگئے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں عمر اکمل نے کرکٹ میدان سے دور گزرے وقت کے متعلق کہا: ’ہر نماز کے بعد دعا کرتا تھا کہ ایسا وقت اللہ دشمن پر بھی نہ لائے۔‘

عمر اکمل کا کہنا تھا کہ ان کے کلب نے انہیں کبھی نہیں روکا مگر اس دوران وہ نیٹ پریکٹس بھی نہیں کر سکتے تھے کیوں کچھ مسائل رہے تھے۔

انہوں نے بتایا: ’میں فجر کی نماز پڑھ کر ٹریننگ کرنے چلا جاتا تھا۔ اس وقت گراؤنڈ میں کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔‘

عمر اکمل نے بتایا کہ ایک دو لڑکے بلا کر ہی میں بیٹنگ کی ٹریننگ کرتا رہا۔

یاد رہے کہ عمر اکمل کو فروری 2020 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر معطل کیا گیا تھا اور بعد ازاں اپریل 2020 میں ان پر ہر قسم کی کرکٹ پر تین سال کی پابندی لگا دی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جولائی 2020 میں ہی عمر اکمل کی اپیل پر ان پر عائد تین سالہ پابندی کی مدت کم کر کے ڈیڑھ برس کر دی گئی، جو اگست 2021 میں ختم ہو گئی تھی۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 7 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ذریعے کم بیک سے متعلق عمر اکمل کا کہنا تھا کہ وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے بھروسہ کر کے انہیں میچ کھلایا۔

انہوں نے بتایا: ’جتنے میچز نہیں کھیلے اس دوران سر ویو رچرڈ، معین خان، عمر گل نے مجھ سے مثبت باتیں کیں کہ جب بھی موقع ملا تو آپ نےکچھ  کرکے دکھانا ہے۔‘

عمر اکمل نے پی ایس ایل 7 کے اپنے پہلے میچ کے متعلق بتایا: جب میں بیٹنگ کے لیے جانے لگا تو مجھے گلی بھائی نے کان میں کہا کہ ایسے مواقع پر تم نے پاکستانی ٹیم، فرنچائزز کو کافی میچز جتوائے ہیں بس یہ سوچ کر اندر جانا۔‘

بابر اعظم سے رابطوں سے متعلق سوال پر عمر اکمل کا کہنا تھا کہ ان دو سالوں میں وہ بہت مصروف رہے اور پاکستان میں نہیں تھے، لیکن جب  ساتھ کھیلیں گے تو بات چیت ہوتی رہے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ