’ان سکواش ایبل،‘ جہانگیر خان

آج سے 40 سال قبل جہانگیر خان نے پہلی بار برٹش اوپن جیت کر فتوحات کے سلسلے کی وہ بنیاد رکھی جس کی مثال سکواش تو کجا، کسی اور کھیل میں نہیں ملتی۔

جہانگیر خان 16 مارچ 2017 کو کراچی میں (اے ایف پی)

(جہانگیر خان کی جانب سے آٹھ اپریل 2022 کو اپنا پہلا برٹش اوپن ٹورنامنٹ جیتنے کی 40ویں سالگرہ کے موقعے پر خصوصی تحریر)

یہ 10 دسمبر 1963 کی بات ہے جب سکواش کے سابق عالمی چیمپیئن روشن خان کے گھر ایک بیٹے نے جنم لیا۔ اس بیٹے کی ولادت سے قبل روشن خان نے ایک خواب دیکھا کہ ایک بزرگ نے پھولوں کا ایک ہار ان کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا، ’لو روشن ہم نے تمہیں پھول دیے، مبارک ہو۔‘
روشن خان اور ان کی بیوی نے اس بچے کا نام جہانگیر خان رکھا۔ جہانگیر گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ چار پانچ سال کی عمر میں محسوس ہوا کہ بچہ بہت چڑچڑا، ضدی اور ہر وقت روتا رہتا ہے۔ روشن خان نے اسے ڈاکٹر کو دکھایا تو پتہ چلا کہ اسے ہرنیا ہے۔ آپریشن ہوا مگر اس کی حالت میں کوئی فرق نہیں پڑا، 11 سال کی عمر میں پتہ چلا کہ اسے دوسری طرف بھی ہرنیا ہے۔

روشن خان اپنے بڑے بیٹے طورسم خان کی طرح جہانگیر خان کو بھی سکواش کا کھلاڑی بنانا چاہتے تھے مگر اس کی بیماری کی پیش نظر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے صرف پڑھائی کی طرف محدود رکھا جائے۔

طورسم خان ان دنوں لندن میں تھے۔ یہ بات جب انہیں معلوم ہوئی تو انہوں نے روشن خان سے کہا، ’آپ اسے میرے پاس انگلینڈ بھیج دیں، میں اسے وہاں کے اعلیٰ ترین سکول میں تعلیم دلواﺅں گا۔‘

کچھ دن بعد طورسم خان نے روشن خان سے کہا، ’جہانگیر سکواش کھیلنا چاہتا ہے، آپ اس کی بیماری کی پروا نہ کریں اور اسے کھیلنے دیں۔‘

روشن خان کی طرف سے اجازت مل گئی اور یوں جہانگیر خان نے سکواش کھیلنا شروع کر دی۔ جہانگیر خان میں محنت کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، پھر انہیں رحمت خان جیسا کوچ اور دوست میسر آ گیا، جس نے اس پر بہت محنت کی۔
16 اکتوبر 1979 کو جب جہانگیر خان کی عمر محض 15 سال 10 ماہ چھ دن تھی اس نے آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں ورلڈ ایمیچر سکواش چیمپیئن شپ کے فائنل میں انگلستان کے فل کینین کو 2-9، 9-3، 9-3 اور 9-5 سے شکست دے کر یہ چیمپیئن شپ جیت لی۔

یہ سکواش کی دنیا میں جہانگیر خان کے ایک طویل سفر کا نقطہ آغاز تھا۔


اس ٹورنامنٹ کی ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی تمام تر امیدیں اطلس خان سے وابستہ تھیں جو محب اللہ خان (جونیئر) کے چھوٹے بھائی تھے۔ دوسرے نمبر پر دولت خان تھے جبکہ جہانگیر خان کو محض تجربہ حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جہانگیر خان تو ٹورنامنٹ کے فاتح قرار پائے، اطلس خان سیمی فائنل میں فل کینین کے ہاتھوں شکست سے ہم کنار ہوئے اور دولت خان ابتدائی آٹھ کھلاڑیوں میں بھی شامل نہیں ہو سکے۔
اسی برس صرف سوا ماہ بعد 28 نومبر کو جہانگیر خان کے بڑے بھائی طورسم خان آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں آسٹریلین اوپن سکواش ٹورنامنٹ کا ایک میچ کھیلتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔

جہانگیر خان کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ صدمہ بے شدید اور بالکل اچانک تھا جس کی انہیں بالکل توقع نہیں تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس خواب کو پورا کریں گے جو طورسم خان نے ان کے مستقبل کے لیے دیکھا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طورسم خان پہلی شخصیت تھے جنہوں نے جہانگیر خان کے تاب ناک مستقبل میں جھانکا تھا۔ اب ایک طرف پی آئی اے کے سربراہ ایئر مارشل نور خان نے جہانگیر خان کی سرپرستی کا فیصلہ کیا اور دوسری طرف رحمت خان نے عزم کیا کہ وہ جہانگیر کو سکواش کا عالمی چیمپیئن بنوا کر ہی دم لیں گے۔
جہانگیر خان نے اپنے ان چاہنے والوں کو مایوس نہیں کیا اور صرف ڈیڑھ برس کے اندر اپریل 1981 میں برٹش اوپن سکواش ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں اپنے ہم وطن ہدایت جہاں اور سیمی فائنل میں ایک اور ہم وطن قمر زمان کو شکست دے کر پہلی مرتبہ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہاں نو اپریل 1981 کو ان کا مقابلہ آسٹریلیا کے جیف ہنٹ سے ہوا جو اس سے پہلے یہ ٹورنامنٹ سات مرتبہ جیت کر ہاشم خان کا سات مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ برابر کر چکے تھے۔
جیف ہنٹ نے یہ ٹورنامنٹ اس مرتبہ بھی جیت لیا اور جہانگیر خان کو نہ صرف 9-2، 9-7، 5-9 اور 9-7 سے شکست دے دی بلکہ سب سے زیادہ مرتبہ برٹش اوپن سکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا نیا ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔ جہانگیر خان نے دنیائے سکواش کے اس سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ حصہ لیا تھا۔ ان کے لیے فائنل تک پہنچنا اور ایک گیم میں جیف ہنٹ کو شکست دینا ہی کافی تھا۔
اسی برس طورسم خان کی دوسری برسی کے اگلے روز 29 نومبر کو جہانگیر خان سکواش کا ورلڈ اوپن ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے اس سفر کا آغاز تھا جس کی کوئی نظیر یا مثال سکواش کی دنیا میں تو کجا، بقیہ کھیلوں کی دنیا میں بھی دور دور تک نہیں ملتی۔
سوا چار ماہ بعد آٹھ اپریل 1982 کو جہانگیر خان پاکستان کے ہدایت جہاں کو برٹش اوپن سکواش ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دے کر یہ اعزاز بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس کے بعد جہانگیر خان نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ جہانگیر خان کی کامیابیوں نے ایک افسانوی حیثیت اختیار کرلی اور ان کے مسلسل ناقابل شکست ہونے پر ایک نیا لفظ وجود میں آیا تھا: Unsquashable۔
پانچ برس بعد11 نومبر 1986 کو جہانگیر خان کی ان مسلسل فتوحات کا طلسم اس وقت ٹوٹا جب انہوں نے ایک دعوے کے مطابق مسلسل 555 میچ جیتنے کے بعد فرانس کے شہر تولوز میں ہونے والی عالمی اوپن سکواش چیمپئن شپ میں نیوزی لینڈ کے راس نارمن کے ہاتھوں شکست کھائی۔ یہ نہ صرف سکواش بلکہ کھیلوں کی دنیا کا بھی چونکا دینے والا واقعہ تھا۔
جہانگیر خان کی اس شکست کا سبب وہ چوٹ تھی جو ڈیڑھ ماہ قبل انہیں 19 ستمبر 1986 کو ملائیشیا اوپن سکواش چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں لگی تھی۔ جہانگیر خان اپنی شکست کے ٹھیک 14 دن بعد 25 نومبر کو سوئٹزر لینڈ کے شہر شیلبرن میں سوئس ماسٹر سکواش ٹورنامنٹ میں راس نارمن سے اپنی شکست کا بدلہ لینے میں کامیاب ہو گئے اور اس کے بعد ان کی فتوحات کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا جو 23 نومبر 1993تک جاری رہا۔

اس دوران انہوں نے دنیائے سکواش کا ہر بڑا ٹورنامنٹ جیتا۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے دس مرتبہ برٹش اوپن اور چھ مرتبہ ورلڈ اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کا چھ مرتبہ ورلڈ اوپن سکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ تو جان شیر خان توڑ چکے ہیں مگر ان کا دس مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آج بھی برقرار ہے۔


جہانگیر خان اسد ملک کے بعد پاکستان سے تعلق رکھنے والے دوسرے کھلاڑی تھے جن کی تصویر پاکستان کے ڈاک ٹکٹ پر شائع ہوئی۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سے سرفراز کیا۔

انہیں ’دوسرے  کے سب سے بڑے کھلاڑی‘ کا خطاب عطا کیا گیا۔ 1998 میں انہیں ورلڈ سکواش فیڈریشن کا نائب صدر منتخب کیا گیا اور 2002 سے 2008 تک انہوں نے اس عالمی تنظیم کے صدر کے عہدے پرخدمات انجام دیں جبکہ 2007 لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔
جہانگیر خان سکواش کی دنیا سے ریٹائر ہو گئے مگر وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں پر ہمیشہ حکومت کرتے رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل