تھیٹر نے انہیں وہ ہنر دیا جو بعد میں کیمرے کے سامنے ان کی شناخت بنا، آواز پر گرفت، باڈی لینگویج پر کنٹرول، شفاف زبان، مکالمے کا اتار چڑھاؤ، توقف اور خاموشی۔
زندگی کی اتنی چہل پہل دیکھ کر لگتا ہے کہ کشمیر میں جیسے پوری دنیا آکر سما گئی ہے جو بقول بعض کشمیریوں کے کبھی کبھی غیرمعمولی بھی لگ رہا ہے۔