یہ مذاکرات ایران اور مکہ اتحاد کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہیں۔
حوثی مذہب کو ایک پردے کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن اگر ان کے سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہوں تو انہیں مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں یا کسی شہری ہوائی اڈے پر موجود زائرین کو نشانہ بنانے میں کوئی عار نہیں ہوتی۔