سعودی عرب کے ’تحفظ کے لیے کوئی بھی قدم‘ اٹھانے کو تیار ہیں: مصر

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ قاہرہ کے لیے یہ ’ناقابل تصور‘ ہے کہ وہ اس وقت خاموش تماشائی بنا رہے جب مملکت کو ’نقصان پہنچے یا اس کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہو۔‘

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی 15 ستمبر، 2026 کو قاہرہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے مصافحہ کر رہے ہیں (فائل فوٹو/روئٹرز)

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کو کہا ہے کہ اگر سعودی قیادت نے درخواست کی تو وہ سعودی عرب کے ’تحفظ کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے‘ کو تیار ہیں۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مصری صدر کا کہنا تھا کہ مصر علاقائی جنگوں میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ قاہرہ کے لیے یہ ’ناقابل تصور‘ ہے کہ وہ اس وقت خاموش تماشائی بنا رہے جب مملکت کو ’نقصان پہنچے یا اس کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں کسی سے لڑنے یا کسی پر حملہ کرنے کی بات نہیں کر رہا۔ ہم صرف دفاع کی بات کر رہے ہیں۔‘

اگرچہ مصر حوثی مخالف اتحاد کا رکن ہے، لیکن اس کا کردار یمن میں لڑائی کے بجائے زیادہ تر بحیرہ احمر کی سمندری سکیورٹی سے متعلق رہا ہے۔

مصر اور سعودی عرب تاریخی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ان کے سٹریٹیجک اقتصادی تعلقات ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مصری صدر نے کہا کہ مصر سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی رہنمائی کے مطابق عمل کرے گا، جنہوں نے یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بحیرہ احمر میں سکیورٹی اور جہاز رانی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کے لیے 15 ستمبر کو السیسی سے ملاقات کی تھی۔

عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ اس کے لیے مصری پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے، اور میں درخواست کرتا ہوں کہ ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ اگر ہم سے کہا جائے تو وہ ہمیں یہ اختیار دے سکے۔‘

ان کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد، پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ اس درخواست کے جواب میں اتوار کو دوپہر ایک بجے (1000 جی ایم ٹی) ایک مکمل اجلاس منعقد کرے گی، تاہم اس نے ایجنڈا ظاہر نہیں کیا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس نے اپنی جانب آنے والے ڈرونز کی ایک نئی لہر کو راستے میں ہی تباہ کر دیا ہے جب کہ اس کا اتحادی ملک مصر یمن کے حوثیوں کے مسلسل حملوں سے دفاع کے لیے مملکت کی مدد کرنے پر غور کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریاض حوثیوں کے خلاف جنگ میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ حوثی ملیشیا کے فوجی ترجمان نے ہفتے کو کہا کہ گذشتہ روز ہونے والے درجنوں سعودی حملوں میں ’متعدد‘ افراد جان سے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔

کئی سال کے تعطل کے بعد جولائی میں یمن تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب کو اپنی تیل کی تنصیبات، ٹینکرز اور ٹرانزٹ مراکز پر حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے، جن میں گذشتہ ہفتے ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 افراد کی جان گئی۔

سعودی فوجی اتحاد کے ایک ترجمان نے ہفتے کو کہا کہ اس نے ’گذشتہ چند گھنٹے کے دوران ریاض، مشرقی صوبے اور جنوب کے علاقوں میں چار ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کر دیا ہے۔‘

حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باعث غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی ہوائی اڈے استعمال نہ کریں، یا سرے سے اس ملک کا دورہ ہی نہ کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا