پاکستان، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ سعودی عرب کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، جبکہ انہوں نے خطے میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور آزادی برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
یہ بیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ترکی، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد منگل کو جاری کیا گیا، جس میں خطے میں جاری تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ رواں ماہ حوثیوں کے مختلف حملوں میں سعودی عرب میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک بڑی آئل پائپ لائن کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق چاروں وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطیٰ سمیت وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل مشاورت کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
PR No.
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) September 22, 2026
Consultative Meeting of the Foreign Ministers of Egypt , Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye
pic.twitter.com/1njZHUPgou
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف تمام حملوں، بشمول حالیہ حوثی حملوں، کی شدید مذمت کی اور مملکت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ نے مزید اس بات کی تصدیق کی کہ سعودی عرب کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع، اپنے علاقے اور اپنے عوام کے تحفظ کا فطری حق حاصل ہے۔
حوثی گروپ نے حالیہ ہفتوں کے دوران یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر باب المندب آبنائے کے اطراف میں پیش قدمی کی ہے، جس سے تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اس سے قبل آبنائے ہرمز کے راستے میں امریکی ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے بھی توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے خطے میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور آزادی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد پر زور دیا۔
پاکستان نے جون میں اس مفاہمتی یادداشت کے لیے ثالثی میں کردار ادا کیا تھا، جس کا مقصد فوجی کارروائیاں روکنا اور وسیع تر تصفیے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق مذاکرات بھی شامل تھے۔
تاہم دونوں فریقوں نے کچھ ہی عرصے بعد ایک دوسرے کے خلاف حملے دوبارہ شروع کردیے اور اس کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔
وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے فلسطینی مسئلے کی مرکزی حیثیت کا بھی اعادہ کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا، جن میں حق خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا ناقابل تنسیخ حق بھی شامل ہے۔‘