ترجمان عافیہ موومنٹ پاکستان کے مطابق ’واقعہ ہفتے کی صبح ٹیکسس میں پیش آیا۔ نامعلوم مسلح افراد نے عماد صدیقی کو ان کی رہائش گاہ کے قریب نشانہ بنایا اور فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔‘
فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ پہلی ملاقات میں ’عافیہ نے مجھے فوراً پہچان لیا لیکن میں عافیہ کونہیں پہچان سکی، جب عافیہ کی آواز سنی تو یقین آیا کہ یہ میری بہن ہے لیکن اس کے چہرے کے خدوخال خطرناک حد تک تبدیل ہو چکے تھے جس نے مجھے چونکا دیا۔‘