30 اپریل کو سرکاری میڈیا نے ایک تصویر جاری کی تھی جس میں آنگ سان سوچی لکڑی کی بینچ پر بیٹھی دو نامعلوم وردی پوش اہلکاروں سے بات کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ تاہم بعد میں اس تصویر کی حقیقت پر سوالات اٹھائے گئے۔
1969 میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد ایواؤ ہاکاماڈا دنیا میں سب سے طویل عرصے تک سزائے موت کا انتظار کرنے والے قیدی بن گئے۔