خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سٹیٹ بینک، الیکشن کمیشن اور وزارت دفاع کی رپورٹس کا جائزہ لے گا اور ان کی روشنی میں تحریری ہدایات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔