کرنل (ر) انعام سے ہونے والے سلوک پر معذرت خواہ: اٹارنی جنرل

وزارت دفاع نے جاسوسی کے الزام میں گذشتہ برس دسمبر میں کرنل (ر) انعام الرحیم کوان کے گھر سے گرفتار کیا تھا اور ایک ماہ نو دن حراست میں رہنے کے بعد رواں برس 22 جنوری کو انہیں عدالتی حکم کے باعث رہا کیا گیا تھا۔

کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم 2007 میں لیفٹننٹ کرنل کے عہدے سے فوج سے ریٹائر ہوئے(تصویر: سوشل میڈیا)

اٹارنی جنرل پاکستان نے منگل کو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی وکالت کرنے والے وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم کی حراست سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر معذرت کرلی، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے مقدمہ نمٹا دیا۔

قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

دواران سماعت جسٹس قاضی امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ’وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انعام الرحیم کی گرفتاری درکار نہیں ہے۔‘

جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید نے کمرہ عدالت میں کہا: ’کرنل (ر) انعام الرحیم کے ساتھ جو سلوک ہوا اس پر معذرت خواہ ہیں۔‘

خیال رہے کہ کرنل انعام کی حراست کے دوران اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے دلائل دیے تھے کہ ’کرنل انعام ایک جاسوس ہیں اور ان کے غیر ملکی عناصر سے رابطے ہیں، ان سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس لیے وہ زیر حراست ہیں۔‘

کرنل انعام کے وکیل طارق اسد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’حکومتی اداروں نے معافی تو مانگ لی لیکن جو تکلیف ان کی حراست کے دوران ان کے اہل خانہ نے دیکھی اس کا مداوا کون کرے گا؟ یہ ایک بہت بڑی زیادتی ہوئی تھی جس پر ہرجانہ دائر ہونا چاہیے لیکن کرنل انعام ہرجانہ دائر نہیں کرنا چاہتے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ضمانت کے طور پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس رکھوایا ہوا ان کا پاسپورٹ بھی اب واپس لیا جائے گا۔‘

حراست کب اور کیوں ہوئی؟

کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم 16 دسمبر 2019 کو لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے نے تھانے میں درخواست دی اور معاملہ عدالت پہنچا۔

بعدازاں وزارت دفاع نے عدالت کو بتایا تھا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے یہ ثابت ہونے پر کہ کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں، وزارت دفاع کو ان کی رہائی کا حکم دیا، جس پر انہیں رواں برس 22 جنوری کو عدالتی حکم پر رہا کردیا گیا تھا، تاہم وزارت دفاع نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اس موقعے پر کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم کے صاحبزادے حسنین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ’دفاعی اداروں اور کرنل انعام کے درمیان غلط فہمی تھی جو اب دور ہو گئی ہے اور اب معاملات ٹھیک ہیں۔‘

واضح رہے کہ رہائی کے بعد عدالت نے کرنل (ر) انعام کو خفیہ اداروں کے ساتھ تحقیقاتی معاملات میں تعاون کرنے کی بھی ہدایت جاری کی تھی۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے رہائی کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ کرنل انعام اپنا پاسپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائیں اور شہر سے باہر بھی سفر نہ کریں۔

کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم کون ہیں؟

کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم پاکستان میں گمشدہ افراد کے مقدمات کی پیروی کے لیے جانے جاتے ہیں جب کہ وہ فوج سے متعلق مقدمات کی بھی پیروی کرتے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرنل (ریٹائرڈ)  انعام الرحیم نے سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بینچ کو آرمی ایکٹ کی کاپی فراہم کرنے والے بھی یہی کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم تھے۔

کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم 2007 میں لیفٹننٹ کرنل کے عہدے سے فوج سے ریٹائر ہوئے، ان کا شمار جنرل مشرف کے ناقدین میں ہوتا تھا۔

ان کا آخری مقدمہ عاصم سلیم باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے حیثیت سے تعیناتی کے خلاف تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان