برطانیہ کی خفیہ دفاعی دستاویزات بس سٹاپ سے برآمد

برطانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق اس کے ایک ملازم نے بتایا تھا کہ گذشتہ ہفتے وہ دستاویزات کھو گئی تھیں جس کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی تھی۔

یہ ہینڈ آؤٹ فوٹو 26 جون 2021 کو جارجیا میں برطانوی سفارتخانے نے جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ برٹش رائل نیوی کا ڈسٹرائر ایچ ایم ایس ڈفینڈر بحیرہ اسود میں باتومی کی بندرگاہ میں داخل ہو رہا ہے (اے ایف پی)

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ اس کے خفیہ دفاعی دستاویزات انگلینڈ کے ایک بس سٹاپ پر کیسے پہنچ گئیں۔ ان دستاویزات میں اس جنگی جہاز کی نقل و حرکت کا خاکہ پیش کیا گیا تھا جس کی وجہ سے روس نے کرائمیا ساحل سے دور انتباہی گولیاں چلائی تھیں۔

برطانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق اس کے ایک ملازم نے بتایا تھا کہ گذشتہ ہفتے وہ دستاویزات کھو گئی تھیں جس کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی تھی۔

شمالی آئرلینڈ کے وزیر برانڈن لیوس نے اتوار کو سکائی نیوز کو بتایا کہ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بارے میں بروقت اطلاع دی گئی تھی اور اندرونی طور پر تفتیش جاری ہے۔‘

ایک نامعلوم شخص نے بی بی سی کو اطلاع دی تھی کہ اسے 50 صفحات پر مشتمل خفیہ اطلاعات جنوبی لندن کے علاقے کینٹ کے بس سٹاپ کے عقب سے ملی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق ان صفحات میں روس کے ممکنہ رد عمل کے بارے میں بات کی گئی تھی جو برطانیہ کے ایچ ایم ایس ڈفینڈر کے کرائمیا کے ساحل کے قریب یوکرائن کے پانیوں سے گزرنے پر آ سکتا تھا۔  

روس کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کو بحیرہ اسود میں نیوی کے جہاز پر انتباہی گولیاں چلائی تھیں جو کہ اس کے خیال میں اس کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ ’وہ یوکرین کی سمندری حدود سے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے معصومیت سے اپنے راستے جا رہا تھا۔‘

ماسکو کے مطابق وہ حادثہ کرائمیا میں کیپ فاؤلینٹ کے ساحل کے قریب پیش آیا جسے روس نے 2014 میں یوکرائن سے حاصل کرکے اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ روس کے اس عمل کو بین الاقوامی برادری کی اکثریت تسلیم نہیں کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برآمد ہونے والی خفیہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے برطانوی حکام کو یہ معلوم تھا کہ بحری جہاز کے راستے پر روس کی جانب سے رد عمل آ سکتا ہے لیکن متبادل راستہ اختیار کرنے سے ماسکو یہ سمجھتا کہ ’برطانیہ خوف زدہ ہے یا بھاگ گیا ہے۔‘

ایک اور دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جو راستہ اختیار کیا گیا اس سے ’یوکرین کی حکومت کے ساتھ بات چیت کے تبادلے کا موقع ملے گا... جس راستے کو برطانیہ یوکرین کے علاقائی پانیوں کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے۔‘

روسی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز برطانوی سفیر کو طلب کر کے حادثے پر ’شدید احتجاج‘ کیا تھا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیشکوف نے اسے ’جان بوجھ کر کی جانے والی اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔

روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انتباہی گولیاں چلائی گئیں تھیں اور ایچ ایم ایس ڈفینڈر کے اطراف بم گرائے گئے تھے۔

بس سٹاپ سے ملنے والی دیگر خفیہ دستاویزات میں دیگر معلومات کے علاوہ ایسی معلومات بھی تھیں جن میں افغانستان میں نیٹو کے آپریشنز بند ہو جانے کے بعد بھی برطانوی فوج کی وہاں موجودگی کا منصوبہ موجود تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا