باچا خان اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ ابھی میٹرک کا امتحان جاری تھا کہ برٹش انڈیا کی فوج کی طرف سے خط کا جواب آگیا جس میں ریکروٹنگ دفتر رپورٹ کرنے کا کہا گیا۔
پشتون
اس میوزیم کا تصور پیش کرنے والے تاریخ دان ایاز خان کہتے ہیں کہ پاکستان میں کہیں بھی ایسا میوزیم نہیں ہے، جہاں ان نامور پشتون ہیروز کے بارے میں معلومات ملتی ہوں، جن کا تاریخ میں بڑا نام اور مرتبہ تو ہے لیکن انہیں یکسر بھلا دیا گیا ہے۔