بلوچستان: چوتھی کلاس کی اردو کتاب پر تنازع

کتاب میں لکھا گیا کہ بلوچستان میں بلوچ، براہوی اور پشتون قومیں رہتی ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ اور براہوی الگ الگ قومیں ہیں۔

کتاب میں درج متنازع سطور

بلوچستان کے سرکاری سکولوں کے لیے چوتھی جماعت کی اردو کتاب میں بلوچ اور براہوی کو الگ الگ قوم لکھنے پر ایک نئے تنازعے نے جنم لے لیا۔

جغرافیائی طور پر بلوچستان دو بڑے حصوں (پشتون اور بلوچ آبادی) پر مشتمل ہے۔ بلوچ آبادی میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں بلوچی اور براہوی زبان سرفہرست ہیں۔

چوتھی جماعت کی اردو کتاب کے ایک متنازع باب میں لکھا گیا کہ بلوچستان میں بلوچ، براہوی اور پشتون قومیں رہتی ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ اور براہوی الگ الگ قومیں ہیں۔

کچھ طلبا، سول سوسائٹی اور دانش ور حلقے کتاب میں شامل اس باب کو بلوچ قوم کی مبینہ تقسیم کی سازش قرار دے رہے ہیں۔

تاہم، براہوی کو الگ قوم ماننے والوں کا کہنا ہے کہ اس باب میں براہوی قوم کے حوالے سے جو لکھا گیا (یعنی براہوی الگ قوم ہے) وہ ان کے موقف کی تائید ہے۔

براہوی بیداری تحریک کے رہنما امداد سمالانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہمارا موقف شروع سے یہی رہا کہ یہاں کے قدیم او ر اصل باشندے براہوی قوم ہیں۔‘

سمالانی کے مطابق اس موقف کو اجاگر کرنے اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے اس سال ’براہوی کلچر ڈے‘ بھی منایا جس کی مخالفت ہوئی۔

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین یحییٰ خان مینگل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کتاب میں شامل متنازعہ باب کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یحیٰ مینگل کے مطابق انکوائری کمیٹی اس بات کی نشاندہی کرے گی کہ کتاب میں متازعہ مواد دانستہ شامل ہوا یا کسی کی غلطی سے۔

انہوں نے کہا ادارے نے اس حوالے سے وضاحت بھی جاری کردی ہے۔

دوسری جانب جامعہ بلوچستان کے شعبہِ براہوی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبیر شاہوانی سمجھتے ہیں کہ بلوچ اور براہوی کو الگ کرنے کا مقصد اس کی طاقت اور شناخت کو نقصان پہنچانا ہے۔

ڈاکٹر شاہوانی نے پوچھا کہ اگر زبان کی نام پر بلوچ کو تقسیم کریں تو یہاں آٹھ کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں پھر ان کو آپ کس درجے میں رکھیں گے یا انہیں الگ قوم بنادیں گے؟

’یہ سازش پر مبنی کوشش ہے، جس کے ذمہ دار وہ ہیں جن کی نظر سے یہ سب گزرا، پالیسی ساز ادارے ان چیزوں پر نظر رکھیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان