پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں 10 مقامات پر ’ڈرونز ذخیرہ کرنے اور انہیں پاکستان کی جانب بھیجنے‘ کے لیے استعمال کے اہداف پر فضائی حملے کیے گئے۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق حملوں کے فوراً بعد پائپ لائن کی حفاظت کا جائزہ لینے کے لیے ایمرجنسی اور تکنیکی ٹیمیں تعینات کر دی گئیں ہیں۔