سپریم کورٹ کینیا کے مطابق، ’محض فائرنگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو جانا ازخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے تشدد، ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔‘
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیو کے پاس مستقل ملازمت نہیں تھی، وہ طلاق یافتہ تھا اور اکیلا رہتا تھا۔