خامنہ ای محض ایک اور سیاسی رہنما نہیں تھے۔ وہ 1989 سے ایران کے اقتدار کے سب سے نمایاں چہرہ تھے۔
پولیس نے گرفتاری کی ایک رپورٹ میں کہا کہ ’دستیاب زبانی، دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے یہ واضح ہے کہ چندہ گننے کے لیے تعینات ملازمین نے تواتر کے ساتھ چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘