اقوام متحدہ کے ادارہ برائے نقل مکانی نے کہا کہ گذشتہ 10 روز میں بحیرہ روم میں ڈوبنے یا تباہ ہونے والی کشتیوں کی حتمی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔
بحیرہ روم
قومی اسمبلی سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد مجموعی طور پر 281 پاکستانی خاندانوں نے مدد کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کر رکھا ہے۔