بحیرہ روم میں طوفان سے متعدد کشتیاں لاپتہ، سینکڑوں اموات کا خدشہ: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے نقل مکانی نے کہا کہ گذشتہ 10 روز میں بحیرہ روم میں ڈوبنے یا تباہ ہونے والی کشتیوں کی حتمی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔

بنگلہ دیشی تارکین وطن 18 جنوری 2026 کو SOS Mediterranee نامی این جی او کے ذریعے چلائے جانے والے ریسکیو جہاز ’اوشین وائکنگ‘ کے عقبی ڈیک پر بیٹھے ہوئے ہیں، جب یہ بحیرہ روم میں 18 جنوری 2026 کو جنوبی اٹلی کے پالرمو میں اترنے کے بعد بندرگاہ کی طرف روانہ ہو رہا ہے (اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے نقل مکانی سے متعلق ادارے انٹرنیشنل مائگریشن ایجنسی (آئی ایم او) نے پیر کو کہا ہے کہ بحیرہ روم میں گذشتہ 10 روز کے دوران خراب موسم کے باعث متعدد جہازوں کے ڈوبنے اور لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں اور اس سمندر کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں افراد کے جان سے جانے یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔

آئی او ایم کے مطابق گذشتہ 10 دنوں کے دوران بحیرہ روم میں ایک شدید طوفان جو سائکلون ہیری کی وجہ سے شروع ہوا تھا، خیال کیا جاتا ہے کہ کئی کشتیاں لاپتہ ہو گئی ہیں جس سے سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں۔

’خراب موسم کی وجہ سے تلاش کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ بحیرہ روم میں ڈوبنے یا تباہ ہونے والی کشتیوں کی حتمی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتی ہے۔

’یہ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ یہ راستہ تارکین وطن کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک گزرگاہ ہے۔‘

نقل مکانی سے متعلق ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ تین افراد، جن میں تقریباً ایک سال کی جڑواں بچیاں بھی شامل تھیں، کے جان سے جانے کی تصدیق اٹلی کے شہر لیمپیڈوسا میں ایک کشتی کی تلاش اور بچاؤ کے آپریشن کے بعد ہوئی، جو تیونس کے شہر سفیکس سے روانہ ہوئی تھی۔

’ان کی زندہ بچ جانے والی ماں کے مطابق بچیوں کی موت ہائپوتھرمیا کی وجہ سے ہوئی۔‘

ادارے کا مزید کہنا تھا کہ ہائپوتھرمیا ہی کی وجہ سے مزید ایک شخص کی موت بھی واقع ہوئی۔

آئی او ایم نے کہا کہ اسی کشتی سے بچ جانے والوں نے بتایا کہ ایک اور جہاز جو ایک ساتھ روانہ ہوا لیکن کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچا

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’وہ جہاز کہا ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوا ابھی تک معلوم نہیں ہے۔‘

ایجنسی نے ایک اور کشتی سے زندہ بچ جانے والے شخص کی رپورٹ کی تصدیق کی جسے مالٹا کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز نے ایک دوسرے جہاز کے ملبے سے بچایا۔

’مذکورہ جہاز کے کم از کم 50 افراد لاپتہ یا جان سے جا سکتے تھے۔‘

آئی او ایم نے کہا کہ اس کے علاوہ، لیبیا کے توبروک کے قریب ایک جہاز کے ملبے میں 51 افراد کی اموات کا خدشہ ہے۔

’غیر محفوظ اور گنجائش سے زیادہ مسافر لے جانے والی کشتیوں پر تارکین وطن کی سمگلنگ ایک مجرمانہ فعل ہے۔‘ 

ایجنسی نے مزید کہا کہ ’خطے میں شدید طوفان کے دوران سمندری سفر پر روانہ ہونا اس طرز عمل کو اور بھی قابل مذمت بناتا ہے، کیونکہ لوگوں کو جان بوجھ کر ایسے حالات میں سمندر میں بھیجا گیا تھا جس میں موت کا خطرہ ہوتا تھا۔‘

ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں وسطی بحیرہ روم میں کم از کم 1340 افراد جان سے چلے گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا