'ترکی مثبت اقدامات جاری رکھے تو یونان مذاکرات کے لیے تیار'

 یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکیس نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ 'ترکی کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ یورپی یونین کے سمٹ سے پہلے اور بعد میں اپنے مثبت اقدامات جاری رکھے تاکہ اس بحران کا خاتمہ ہو سکے۔'

 یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکیس نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ 'ہم ایجین سمندر اور بحیرہ روم کے متنازع علاقوں پر بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں(اے ایف پی)

یونان کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے 'مثبت اقدامات' کے جاری رہنے کی صورت میں وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

 یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکیس نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ 'ترکی کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ یورپی یونین کے سمٹ سے پہلے اور بعد میں اپنے مثبت اقدامات جاری رکھے تاکہ اس بحران کا خاتمہ ہو سکے۔'

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یونانی وزیر اعظم کا کہنا تھا: 'اگر ہمیں کافی شواہد مل جائیں تو ہم فوری ترکی کے ساتھ تمام بڑے مسائل پر بات کرنے لیے تیار ہیں۔ ہم ایجین سمندر اور بحیرہ روم کے متنازع علاقوں پر بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔'

ترکی اور یونان دونوں نیٹو ممالک کے درمیان اختلاف نے خطے کو ایک بحران سے دو چار کر رکھا ہے۔ حالیہ تنازعے میں کئی یورپی یونین کے ممالک یونان کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے ہیں۔ خاص طور پر فرانس نے یونان کے ساتھ جنگی مشقوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

ترکی سمندر کے اندر گیس اور تیل کی تلاش کے کئی مشنز پر کام کر رہا ہے۔ یونان کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے اس کی سمندری حدود کا حصہ ہیں جبکہ ترکی اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان اس معاملے پر گذشتہ کئی ماہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔

یاد رہے یونان کی جانب سے یہ بیان ترکی کے اپنے قدرتی وسائل کی تلاش کے لیے بھیجے جانے والے بحری جہاز کو واپس بلانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی نے یہ جہاز دس اگست کو ترکی اور یونان کے جنوب میں واقع سمندری علاقے میں تعینات کیا تھا جس کا مقصد اس علاقے میں موجود قدرتی وسائل کے ذخائر کو تلاش کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی کا ایک جنگی جہاز بھی تعینات تھا۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں بھی یونان کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ بحیرہ روم میں جنگی مشقوں کے اعلان نے انقرہ کو مشتعل کردیا تھا اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے یونان کو خبردار کیا کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو اس کی ’بربادی‘ کا باعث بن سکتے ہوں۔

دوسری جانب یونان کے وزیر اعظم نے ترکی سے دھمکی آمیز رویہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشیدگی کو کم کرنے لیے مذاکرات کے آغاز سے قبل ترکی کو ’دھکیاں‘ دینا بند کرنا ہو گا۔

جرمنی جو کہ اس وقت یورپی یونین کا صدر ہے نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ ترکی کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکی ان کوششوں کو ایک موقع دینا چاہتا ہے۔

ترک عہدیدار کے مطابق یونانی حکام کی جانے سے دیے جانے والے نرم بیانات بھی مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ترکی یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کو موقع دینا چاہتا ہے۔ یورپی یونین وزرائے خارجہ کا اجلاس یورپی رہنماؤں کے سمٹ سے قبل 24 اور 25 ستمبر ہو منعقد کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ترکی اور یونان کے درمیان مذاکرات میں یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے دوسرے ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار چارلس میچل کے مطابق ترکی اور یونان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کو مزید موثر بنانے کے لیے دوسرے ممالک بھی ان میں سہولت کار کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق جرمنی بطور یورپی یونین کے صدر کے پہلے ہی جولائی سے سفارت کارانہ کوششوں میں مصروف ہے یہ کردار ادا کرنے کے لیے بہترین متوقع امیدوار ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا