یونان کو جنگ کی دھمکی کے بعد ترکی کی شمالی قبرص میں جنگی مشقیں

شمالی قبرص میں کی جانے والی یہ جنگی مشقیں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ترکی کے علاوہ کوئی اور ملک شمالی قبرص کی آزاد حیثیت کو قبول نہیں کرتا۔

20 جولائی 2020 کو لی گئی اس  تصویر میں شمالی قبرص  کے دارالحکومت نیکوسیا  میں ترک فوجی  بکتر بند گاڑیوں میں گشت کرتے ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

ترکی کی افواج نے اتوار کو شمالی قبرص میں سالانہ جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب ترکی اور یونان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

شمالی قبرص میں کی جانے والی یہ جنگی مشقیں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ ترکی کے علاوہ کوئی اور ملک شمالی قبرص کی آزاد حیثیت کو قبول نہیں کرتا۔

ترکی کی سکیورٹی کمانڈر کے نائب صدر فوات اوکتے نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ ان مشقوں کا نام 'مڈیٹرینین سٹروم' یعنی بحیرہ روم کا طوفان رکھا گیا ہے۔

اوکتے کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمارے ملک اور ترکش ری پبلک آف شمالی قبرص کی سکیورٹی ترجیحات ناگزیر ہیں۔'

ترکی کے وزیر دفاع نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ مشقیں جمعرات تک کامیابی سے جاری رہیں گی۔

قبرص کا علاقہ دو نیٹو اتحادی ممالک یعنی ترکی اور یونان کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔ 1974 سے قبرص میں ترکی کی افواج موجود ہیں جو یونان میں موجود فوجی حکمرانوں کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے ہی وہاں پر موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی سمندر کے اندر گیس اور تیل کی تلاش کے کئی مشنز پر کام کر رہا ہے۔ یونان کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے اس کی سمندری حدود کا حصہ ہیں جبکہ ترکی اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان اس معاملے پر گذشتہ کئی ماہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ہفتے کو یونان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'وہ یا تو سیاست اور سفارت کاری کی زبان سمجھیں گے یا میدان جنگ میں تلخ تجربوں کی۔'

اس سے قبل نیٹو کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے، جس سے کشیدگی میں کمی آئے گی، لیکن یونان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ اس نے ترکی سے کسی قسم کے مذاکرات کی حامی نہیں بھری۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں بھی یونان کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ بحیرہ روم میں جنگی مشقوں کے اعلان نے انقرہ کو مشتعل کردیا تھا اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے  یونان کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو اس کی ’بربادی‘ کا باعث بن سکتے ہوں۔

دوسری جانب یونان کے وزیر اعظم نے ترکی سے دھمکی آمیز رویہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشیدگی کو کم کرنے لیے مذاکرات کے آغاز سے قبل ترکی کو ’دھکیاں‘ دینا بند کرنا ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا