مذاکرات کے آغاز سے پہلے ترکی دھمکیاں دینا بند کرے: یونان

ترکی اور یونان کے درمیان جاری کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے یونان کے وزیر اعظم نے ترکی سے دھمکی آمیز رویہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یونان کے وزیر اعظم  کا کہنا ہے کہ ترکی اور یونان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے لیے مذاکرات کے آغاز سے قبل ترکی کو ’دھکیاں‘ دینا بند کرنا ہو گا (اے ایف پی)

ترکی اور یونان کے درمیان جاری کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے یونان کے وزیر اعظم نے ترکی سے دھمکی آمیز رویہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس متسوتاکیس کا کہنا ہے کہ ترکی اور یونان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے لیے مذاکرات کے آغاز سے قبل ترکی کو ’دھکیاں‘ دینا بند کرنا ہو گا۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات میں یونانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے آغاز سے قبل دھمکیوں کو روکنا ہو گا۔‘

کیریاکوس متسوتاکیس کا کہنا ہے کہ یونانی وزیر خارجہ نیکوس دیندیاس جمعے کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ترکی کی ’غیر قانونی‘ کارروائیوں سے آگاہ کریں گے۔

جمعرات کو یونان کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی تھی کہ وہ نیٹو کی ثالثی میں ترکی کے سات کشیدگی کم کرنے کے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ترکی اور یونان کے درمیان سمندری حدود اور سمندر سے گیس نکالنے کے معاملات پر کئی مہینے سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یونانی وزرات خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ شائع شدہ خبر کہ یونان اور ترکی نے کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے بے بنیاد ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

اس قبل نیٹو کے چیف جینز سٹولنبرگ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دونوں نیٹو اتحادیوں نے ’نیٹو میں تکنیکی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے جس کا مقصد مسلح کشیدگی میں کمی لاتے ہوئے بحیرہ روم میں حادثات اور کشیدگی میں اضافے کے امکانات کو کم کرنا ہے۔‘

یونانی وزارت خارجہ کے مطابق ’کشیدگی میں کمی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ترکی یونان کی سمندری حدود سے اپنے جہازوں کو واپس بلا لے۔‘

مذکورہ علاقے میں ترکی کی ڈرلنگ کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور یونان اور قبرص نے اسے اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی نے دس اگست کو اس علاقے میں اروک ریس تحقیقی جہاز اور جنگی جہازوں کو بھیجا تھا جس کے بعد اس مشن کے دورانیے میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

یونان کی جانب سے ترکی کی اس کارروائی کا جواب متحدہ عرب امارات اور کئی یورپی یونین کے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں کر کے دیا گیا ہے۔ یہ مشقیں اس علاقے سے کچھ زیادہ دور نہیں کی گئیں جہاں گذشتہ ہفتے ترکی نے بھی جنگی مشق کی تھی۔

یورپی یونین میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے ترکی پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ قدرتی وسائل کی تلاش میں کی جانے والی کوششوں کو روک دے ورنہ تنازعے کو بات چیت سے حل نہ کرنے پر ترکی کو پابندیوں کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

یونانی وزیر اعظم کے مطابق ترکی علاقے کے جغرافیے کو ’تبدیل‘ کرتے ہوئے بین الااقوامی قوانین کی ’خلاف ورزی‘ کر رہا ہے اور علاقائی استحکام کو ’خطرے‘ میں ڈال رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا