یونان ایسے اقدامات نہ کرے جو اس کی ’بربادی‘ کا باعث بنیں: ترک صدر

صدر رجب طیب اردوغان نے بحیرہ روم میں یونان کی جانب سے مشترکہ فوجی مشقوں کے آغاز کے اعلان پر خبردار کیا ہے کہ ترکی کسی کو ’کوئی رعایت‘ نہیں دے گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے یونان کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے جو اس کی ’بربادی‘ کا باعث بن سکتے ہوں۔

ترک صدر کی جانب سے ایتھنز کے لیے یہ سخت پیغام بدھ کو اس وقت سامنے آیا جب یونان نے چند گھنٹوں قبل فرانس، اٹلی اور قبرص کے ساتھ اس خطے میں فوجی مشقوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور یونان کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ بحیرہ روم میں جنگی مشقوں کے اعلان نے انقرہ کو مزید مشتعل کر دیا ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان نے ان ممالک کو خبردار کیا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کسی کو ’کوئی رعایت‘ نہیں دے گا۔

1071 میں جنگِ مالازگرٹ، جب سلطنت عثمانیہ سے قبل ترک قبائل نے بازنطینیوں کو شکست دی تھی، کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر اردوغان نے کہا: ’بحیرہ روم، بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ اسود میں ترکی کسی بھی اس چیز سے دستبردار نہیں ہو گا جس پر ہمارا حق ہے۔‘

انہوں نے ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں مزید کہا: ’ہماری نظر کسی اور کے علاقوں، خودمختاری اور مفادات پر نہیں ہے لیکن ہم اپنے خطے میں انہیں کوئی رعایت نہیں دیں گے۔‘

اردوغان نے نیٹو کے اتحادی یونان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے طریقوں کو تبدیل کریں اور ان غلطیوں سے بچیں جو ان کے لیے تباہی کا راستہ ثابت ہوں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ سب یہ دیکھیں کہ ترکی اب ایک ایسا ملک نہیں ہے جس کے صبر، عزم اور ہمت کا امتحان لیا جا سکتا ہو۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم کچھ کریں گے تو ہم اس کا عملی مظاہرہ  بھی کریں گے اور اس کی قیمت ہم ادا کریں گے۔‘

یونان اور ترکی کے درمیان سابقہ قسطنطنیہ یا موجودہ استنبول میں بازنطینی ورثے کو مساجد میں تبدیل کرنے، پناہ گزینوں کے مسٔلے اور دیگر امور پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی گیس کے ذخائر کی دریافت نے بھی تعلقات کو مزید کشیدہ کردیا ہے۔ ترکی نے یورپی یونین اور ایتھنز کی طرف سے خطے میں توانائی کی تلاش کو فوری طور پر روکنے کے مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔

ترکی نے 10 اگست کو اپنے تحقیقی بحری جہاز کو خطے کے متنازع پانیوں میں گیس کی تلاش کے لیے بھیجا تھا۔ اس تحقیقاتی مشن کی سرگرمیاں گذشتہ اتوار کو ختم ہونے والی تھیں لیکن اب انہیں جمعرات تک بڑھا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب جرمنی نے یورپ میں اس تازہ کشیدگی کو دور کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں اور اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے منگل کو اپنے وزیر خارجہ کو انقرہ اور ایتھنز کے لیے روانہ کیا تھا۔

دونوں فریقوں نے کہا کہ وہ جرمن وزیر سے بات چیت کے لیے تیار ہیں جبکہ جمعرات اور جمعے کو برلن میں یورپی یونین کے غیر رسمی وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا