جب کوئی بول رہا ہو تو اسے سنو، عدالت نہ لگاؤ، صرف سنو۔ سنو اور سوچو، جو سن کے برا لگ رہا ہے وہ جب کسی پہ گزرا ہو گا تو اسے کتنا برا لگا ہو گا اور وہ زخم کتنا ہرا ہو گا کہ برسوں بعد بھی اس میں ٹیس اُٹھتی ہے۔
اپنے قومی بیانیے میں ایک بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہے کہ یہ پاکستان جتنا ہمارا ہے، اتنا ہی اقلیتوں کا بھی ہے۔