پردے کے پیچھے طمانچے

جب کوئی بول رہا ہو تو اسے سنو، عدالت نہ لگاؤ، صرف سنو۔ سنو اور سوچو، جو سن کے برا لگ رہا ہے وہ جب کسی پہ گزرا ہو گا تو اسے کتنا برا لگا ہو گا اور وہ زخم کتنا ہرا ہو گا کہ برسوں بعد بھی اس میں ٹیس اُٹھتی ہے۔

20 نومبر 2019 کو فریال گوہر کراچی میں ڈاچی فیسٹیول میں شریک ہیں (انسٹاگرام، نیر ٹریڈیشنز)

حسن کو اگر مجسم دیکھنا ہو تو فریال گوہر کو دیکھ لیجیے اور اس حسن کے ساتھ اگر کسی کا جوڑ بنتا تھا تو وہ جمال شاہ تھے۔

ایک ایسا ہی جوڑا نعیم بخاری اور طاہرہ سید کا تھا۔ تیسرا جوڑا طاہرہ واسطی اور رضوان واسطی تھے۔ یہ ہمارے بچپن کے تین ایسے کپل تھے کہ ان کو دیکھ کے خواہ مخواہ ہی چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش پیدا ہو جاتی تھی۔ اگر ساتھ ایسا ہوتا ہے تو اکیلے کیوں رہا جائے۔

پھر ان میں سے دو جوڑیاں ٹوٹ گئیں۔ جیسے کارنس پہ رکھے کانچ کے دولہا دلہن کے مجسمے میں دراڑ پڑ جائے۔ دکھ ہوا اور بہت دکھ ہوا۔ حسن کے اپنے ہی نمبر ہوتے ہیں۔

پچھلے دنوں جب فریال صاحبہ نے گھریلو تشدد کا ذکر کیا تو ان کے چاہنے والوں کو یوں لگا کہ اس ٹوٹے ہو ئے مجسمے کی کرچیاں چبھ گئی ہوں۔ ہم جن سے محبت کرتے ہیں انہیں شکستہ نہیں دیکھ سکتے۔ کسی کو بھی یقین نہیں آیا اور جمال شاہ نے تردید بھی کی ہے مگر مجھے یقین ہے۔

کئی برس پہلے یو ایم ٹی کے ایک فنکشن پہ جمال شاہ صاحب کو بلایا۔ نفاست، تہذیب اور رکھ رکھاؤ ان پہ ختم ہے۔ اس کے بعد بھی ان سے پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہا لیکن کبھی ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس پہ گرفت کی جا سکے۔

لیکن گوشت پوست کا انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ اس کے رویے کی کوئی تاویل اور توجیہہ نہیں دی جا سکتی۔ وہی انسان جو میرے لیے شجر سایہ دار ہو گا، کسی اور کے لیے نہایت برا بھی ہو سکتا ہے۔ وہی انسان جو ایک لمحے پہلے تک کمال کا بذلہ سنج نظر آرہا ہو گا، اگلے ہی لمحے غیض و غضب کی تصویر بھی بن سکتا ہے۔

گھریلو تشدد ایک بہت سنجیدہ چیز ہے اور پاکستان کی حد تک تو میں کہہ سکتی ہوں کہ تقریباً سبھی پوٹینشل متشدد ہیں۔ ہاتھ کسی نے اٹھایا یا نہیں وہ ایک الگ بات ہے لیکن کگر پہ ٹکے پتھر کی طرح کہ کب گر جائے، گھریلو تشدد بھی کب اور کس سے سر زد ہو جائے کچھ خبر نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس رویے کو ہمارے ایک اور رویے سے درست ثابت کیا جاتا ہے۔ ’بھئی کچھ کیا ہی ہو گا جو ایسے آدمی نے بھی ہاتھ اٹھا لیا۔‘ تو بات یہ ہے کہ مرد تو دن میں دس ایسی باتیں کرتے ہیں کہ اگر عورتیں کریں تو انہیں نیلو نیل کر دیا جائے۔ پھر ان کا ہاتھ کیوں نہیں اٹھتا؟

صدیوں کے پدر شاہی سماج نے مرد کو یہ سکھا دیا ہے کہ تم جو بھی کرو گے، کر گزرو، تمہیں سات خون معاف ہیں اور تمہارا مقدمہ لڑنے کے لیے سارا معاشرہ کھڑا ہے جب کہ عورتوں کے لیے ایک نگہت داد کتنا بول لے گی؟ عاصمہ جہانگیر تو رہی نہیں۔

آج بھی یہی ہوا۔ فریال گوہر نے ماضی کے کسی زخم کا ذکر کیا ہی تھا کہ پورا سماج بیلٹس لے کر دوبارہ سے ان پہ پل پڑا۔ زخم بھر جاتے ہیں اور تکلیف بھی نہیں دیتے، یہ ہم عورتیں خوب جانتی ہیں کیونکہ سبزی کاٹتے ہوئے، روٹی پکاتے ہوئے، تیزاب سے ٹوائلٹ رگڑتے ہوئے، برتن مانجھتے ہوئے، بچے پیدا کرتے ہوئے، زخم لگنے، خون بہنے، ہیمو گلوبن کم ہونے، چکرا کے گرنے کی ہم عادی ہوتی ہیں۔

تکلیف اس بے وقعتی کی ہوتی ہے جو ہم محسوس کرتے ہیں اور اذیت اس بات کی ہوتی ہے کہ جب ہم بند دروازوں کے پیچھے پڑنے والے طمانچے کا 30 سال بعد بھی ذکر کرتے ہیں تو ہمیں جھٹلایا جاتا ہے۔ شہرت کے لیے جھوٹ، سیاسی پناہ کے لیے گھڑا گیا فسانہ۔

اتنے عرصے بعد کیوں بولیں؟ اتنی حسین، ذہین اور باصلاحیت عورت کو بھی یہ اعتراف کرنے میں دہائیاں لگیں تو عام عورت کی کہانیاں تو اس کے ساتھ ہی چلی جاتی ہیں۔ ہم میں سے کس نے کبھی اپنی نانی دادی کے پاس بیٹھ کے پوچھا کہ یہ اتنی لمبی زندگی جو گزری کیسے گزاری ؟

پوچھا بھی ہو گا تو سچ کس نے بولا ہو گا اور اگر بولا بھی ہو گا تو ہم میں سے کتنے یقین کر سکتے ہیں کہ ہمارے نانا دادا جو دیکھنے میں گلیکسوز بے بی جتنے معصوم اور سانتا کلاز جیسے پارسا لگتے ہیں، کبھی جلاد بھی رہے ہوں گے؟

زندگی بڑی عجیب چیز ہے صاحبو اور انسان بہت عجیب و غریب۔ پس جب کوئی بول رہا ہو تو اسے سنو، عدالت نہ لگاؤ، صرف سنو۔ سنو اور سوچو، جو سن کے برا لگ رہا ہے وہ جب کسی پہ گزرا ہو گا تو اسے کتنا برا لگا ہو گا اور وہ زخم کتنا ہرا ہو گا کہ برسوں بعد بھی اس میں ٹیس اُٹھتی ہے۔

کہتے ہیں عمر بڑھتی ہے تو پرانی چوٹوں میں بھی درد اٹھتا ہے۔ اگر کسی نے اپنا درد بیان کیا ہے تو اسے سن لیجیے اور اپنے اندر کے پوٹینشل متشدد کو لمحہ بھر کو سلا دیجیے۔ مہربانی ہو گی۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر