تحقیقاتی کمیٹی متاثرہ بچوں کی اصل تعداد، ان میں ایچ آئی وی منتقل ہونے کی وجوہات، علاج کے دوران سرنجوں کے مبینہ دوبارہ استعمال اور دیگر متعلقہ معاملات کا جائزہ لے گی۔
وزارتِ تجارت کے مطابق رجسٹرار کے فیصلے میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا تھا کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے۔