افغانستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان تعلیمی اداروں کو ڈی لسٹ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے تاکہ تقریباً 1300 طلبہ کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق آئندہ مسیحی، سکھ، پارسی، بہائی اور دیگر مذہبی برادریوں کے طلبہ کے لیے بھی ان کے اپنے مذاہب کی نصابی کتب تیار کی جائیں گی۔