طالبات کے جینز پہننے میں آخر مسئلہ کیا ہے؟

جتنی توجہ آپ لڑکیوں کے لباس کو بہتر بنانے پر دیتے ہیں، اگر اتنی توانائی آپ پڑھائی کے معیار کو بہتر بنانے میں صرف کریں تو شاید معیار بہتر ہو سکے۔

(بشکریہ ٹیلی مارٹ)

حال ہی میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی کی طرف سے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق طالبات کے جینز پہننے، میک اپ کرنے اور جیولری پہننے پر پابندی عائد کی گئی، اور ان کو قمیض شلوار کے ساتھ عبایہ پہننے کا بھی حکم دیا گیا۔

یہ حکم وہاں کام کرنے والی خواتین اساتذہ کےلیے بھی تھا، جبکہ وہاں پڑھنے والے طلبہ پر پتلون نہ پہننے کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ اسی طرح کا ہی ایک نوٹیفیکشن گذشتہ ماہ کے اوائل میں مانسہرہ کی ہزارہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے بھی دیکھنے میں آیا تھا، جس میں طالبات کےلیے کم و بیش ایسی ہی ہدایات دیکھنے میں آئی تھیں۔ 

لیکن اس میں ایک چیز جو لاجواب تھی وہ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے ترجمان کی طرف سے لڑکیوں کے جینز پہننے پر پابندی کے حوالے سے عجیب و غریب دلیل تھی۔

موصوف نے فرمایا کہ ’چونکہ جینز ایک مہنگا لباس ہے اس سے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے غریب طلبہ میں احساس محرومی پیدا نہ ہو، تو اس لیے طالبات کے جینز پہننے پر پابندی لگائی گئی ہے۔‘

اس مضحکہ خیز دلیل سے تو اچھا تھا کہ موصوف یہ ہی کہہ دیتے کہ انہوں نے اپنے علاقے کی روایات کے حساب سے یہ احکامات صادر فرمائے ہیں، کیونکہ عموماً خیبر پختونخوا میں خواتین کے پردے کو ان کی روایات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے گذشتہ سال وہاں کے سکولوں اور کالجوں میں بھی طالبات کےلیے ایسا ڈریس کوڈ نافذ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مگر کیا طالبات کے بارے میں ایسے احکامات صرف خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں ہی جاری کیے جاتے رہے ہیں؟ تو اس ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی طرف سے بھی طالبات کے جینز پہننے پر ناصرف پابندی لگائی گئی بلکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والی طالبات پر جرمانے بھی عائد کیے گیے۔

اسی طرح پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے اکثر طالبات کے لیے ایسی ہی ہدایات دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ لہٰذا اس طرح کی پابندی کا تعلق کسی مخصوص علاقے کی روایات سے تو بالکل بھی نہیں ہے۔ تو پھر اس کی وجہ کیا ہے؟

 میرے نزدیک اس کی وجہ ہمارے سماج کی وہی فرسودہ سوچ ہے کہ اس طرح کا ماڈرن لباس پہننے والی اور بن ٹھن کر رہنے والی عورت فحاشی کا مرتکب ہوتی ہے۔ جو پھر سماج میں انتشار کا باعث بنتا ہے۔ ایسی عورتوں کے کردار کو بھی مشکوک سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ پردے میں رہنے والی عورت کو پاکباز اور پارسا سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حقیقت ہو۔

اس پر مجھے اپنی یونیورسٹی کی زندگی کا ایک تجربہ یاد آ رہا ہے۔ ہماری کلاس میں جو لڑکیاں تھوڑا سا ماڈرن لباس پہنتی تھیں، اچھا میک اپ کرتی تھیں، ان کے کردار پر اکثر بغیر کچھ جانے انگلیاں اٹھائی جاتی تھیں۔ مگر جو لڑکیاں عبایہ پہنتی تھیں، ان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

ہماری ایک کلاس فیلو نہ صرف عبایہ پہنتی تھی، بلکہ چہرے، ہاتھوں کو بھی ڈھانپ کر رکھتی تھی۔ وہ صرف کلاس میں آتی تھی، لیکچر لے کر واپس چلی جاتی تھی۔ اور اس دوران کسی سے بہت زیادہ بات بھی نہیں کرتی تھی۔ کلاس کے سب لڑکے اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے کہ ایک لڑکی کو ایسے ہونا چاہیے۔ مگر پتا نہیں کیوں مجھے اس پر شک سا رہتا تھا۔ اور ایک دن اتفاقیہ طور اس کو ایک کلاس روم میں ایک لڑکے کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرتے ہوئے دیکھا۔ یہی نہیں بعد میں اس کی کچھ ایسی تصاویر بھی نظر سے گزریں جن کو دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔

اپنا یہ تجربہ بتانے کا مقصد کسی کے کردار پر انگلی اٹھانا نہیں ہے، نہ ہی مجھے اس کے وہاں وہ سب کرنے پر اعتراض ہے۔ یہ بتانے کا مقصد صرف سمجھانا ہے کہ نہ تو با پردہ لباس اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی گناہ نہیں ہو گا اور نہ ہی جینز یا ماڈرن لباس پہننے والی ہر عورت برے کردار کی حامل ہوتی ہے۔

لہٰذا ملک کے تعلیمی نظام چلانے والوں سے یہی گزارش ہے کہ جتنی توجہ آپ لڑکیوں کے لباس کو بہتر بنانے پر دیتے ہیں، اگر اتنی توانائی آپ پڑھائی کے معیار کو بہتر بنانے میں صرف کریں تو شاید ہمارا کوئی تعلیمی ادارہ دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں شامل ہو سکے۔

سکول اور کالجوں کو تو چھوڑیں، یونیورسٹیوں میں ہی نااہل اساتذہ کی بھر مار ہے۔ ریسرچ کا برا حال ہے۔ کتنے عرصہ سے وہی گھسا پٹا سلیبس پڑھایا جارہا ہے۔ مگر آفرین ہے اربابِ اختیار کے لیے ان چیزوں کو بہتر کرنے کی بجائے ان کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ لڑکیوں کے جینز پہننے کا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس