پاکستانی سیاست میں بھائیوں کی جوڑیاں

نواز شریف، شہباز شریف کے علاوہ بھی پاکستان میں سگے بھائیوں کی متعدد جوڑیاں سرگرم رہی ہیں جو ملکی سیاسی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

4  اکتوبر 2017 کی اس تصویر میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن  کے موقع پر (تصویر: اے ایف پی/ فائل)

پاکستان کی سیاست میں جہاں سیاسی وفادایاں تبدیل کرنا معمول ہے، جہاں ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت کا سفر عام سی غیر معیوب بات ہے، جہاں ضروری نہیں ہے کہ سیاسی جماعت کے سربراہ کے نظریات سے اتفاق ہوتا ہے یا نہیں، صرف ایک ہی چیز مقدم سمجھی جاتی ہے کہ پارٹی کا ٹکٹ کامیابی دلا سکتا ہے یا نہیں۔

یہ ساری چیزیں تو مشہور ہی ہیں لیکن وہاں سیاست میں سرگرم بھائیوں کی جوڑیاں بھی مشہور ہیں۔ ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

۱۔       نواز شریف اور شہباز شریف کی جوڑی بھی پاکستان کی سیاست میں شہرت رکھتی ہے۔ دونوں بھائیوں کی یہ جوڑی پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہو کر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مثال بن گئے ہیں۔ نواز شریف تو تین بار پاکستان کے وزیر اعظم رہے لیکن بعد میں سپریم کورٹ سے تاحیات ناہل قرار پائے۔ نواز شریف کی سیاست سے نااہلی کے بعد ان کے بھائی شہباز شریف جو پنجاب میں وزیر اعلیٰ تھے کو بھی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نو اپریل 22 کو شہباز شریف وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔

جنرل ضیاء الحق کے 1977 میں نافذ کیے جانے والے مارشل لا کے دوران پہلے بلدیاتی انتخابات میں نواز شریف نے 1979 میں کونسلری کا الیکشن لڑا تھا، اس میں کامیابی کے بعد اس وقت کے پنجاب کے فوجی گورنر جنرل غلام جیلانی نے انہیں محکمہ خزانہ کا وزیر مقرر کر دیا تھا۔ صوبائی وزیر خزانہ، صوبا ئی وزیر اعلیٰ، و زیر اعظم منتخب ہونے کے بعد تو نواز شریف نے اپنے بھائی کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا کہ پنجاب میں انہیں اپنا آدمی وزیر اعلیٰ چاہیے تھا۔

دونوں بھائیوں نے اپنے گھرانوں کو بھی سیاست کا حصہ بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف تو لندن جا کر بیٹھ گئے ہیں اور وہاں سے ہی سیاست کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ان کی جگہ شہباز شریف سیاست کا کاروبار کر رہے ہیں لیکن انہیں ہر ہر بات اور کام کے لیے بڑے بھائی کی تائید حاصل کرنا پڑتی ہے۔

2 جنرل ایوب خان اور ان کے چھوٹے بھائی سردار بہادر خان

پاکستان کے سابق صدر جنرل ایوب خان جس قومی اسمبلی میں 1962 میں قائد ایوان تھے، اسی میں ان کے چھوٹے بھائی سردار بہادر خان قائد حزب اختلاف تھے۔ یہ پہلی قومی اسمبلی تھی جو مار شل لا کے نفاذ کے بعد بنیادی جمہوریت کے تحت منتخب کرائی گئی تھی۔ سردار بہادر خان اسمبلی میں حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کیا کرتے تھے جو یقینا ایوب خان کو سخت ناپسند تھی۔

ایسی ہی نوک جھونک کے دوران سردار بہادر خان نے ایک مرتبہ ایک شعر بھی پڑھا تھا جو خاصے طویل عرصے تک زبان عام و خاص بھی رہا تھا اور اس کا چر چا بھی خوب ہوا تھا۔

 دیوار چمن پر زاغ و زغن مصروف ہیں نوحہ خوانی میں
 ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے، انجام گلستان کیا ہو گا

سردار بہادر خان نے بیگم نور الصباح جنہوں نے ان کا مختصر خاکہ تحریر کیا ، بتا یا تھا، ’میں نے ایوب خان کی پالیسیوں پر دسیوں اعتراض کر دیے۔ وہ خود بھی اپنے بھائی کے رویے سے پریشان تھے۔ مجھ سے کافی دیر باتیں کرتے رہے اور ان کی غلطیوں کی نشان دہی کی۔ مگر آخر میں بولے بیگم صاحبہ کیا کیا جائے۔ میں ان سے چھوٹا ہوں آپ کو تو معلوم ہے ہم پرانے لوگوں میں چھوٹا بڑے کے سامنے زبان نہیں کھول سکتا مگر تب بھی حتی الامکان میں نے ان کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ لیکن ان کے مشیر عجیب لوگ ہیں وہ ان کے گرد ہالہ کیے ہوئے ہیں۔ جب میں نے دیکھا کہ ان لوگوں کے سامنے میری نہیں چلے گی تو حزب اختلاف کی لیڈری قبول کر لی۔ ‘

سردار بہادر خان وزیر بھی رہے۔

3 باچا خان، ڈاکٹر عبدالجبار صاحب

 خان غفار خان عرف باچا خان یا بادشاہ خان اور ڈاکٹر خان صاحب کے نام سے مشہور سیاست دان چھوٹے بڑے بھائی تھے۔ ڈاکٹر خان صاحب بڑے بھائی تھے۔ ان کا نام خان عبدالجبار خان تھا۔ وہ صوبہ سرحد جو اب خیبر پختونخوا ہے، میں کانگریس حکومت کے وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے قائد اعظم سے ملاقات کی تھی۔ وہ سیاست میں بہت لچک دار رویہ رکھتے تھے جس کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہوتا تھا۔ ون یونٹ کے ایک معمار بھی کہلاتے تھے۔

 1956 میں ری پبلکن پارٹی قائم کی تھی تو ڈاکٹر خان صاحب اس کے کنوینر ہونے کے ساتھ ساتھ کالعدم مغربی پاکستان کے وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔ پارٹی میں اسمبلی کے اراکین ہی شامل ہو گئے تھے ۔ 1957 میں ڈاکٹر صاحب مستعفی ہو گئے تھے۔ وہ لاہور میں اپنے بیٹے کے گھر مقیم تھے کہ 1958 میں ایک پٹواری عطا محمد نے ان پر چاقو سے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا تھا۔ اس پٹواری کو ڈاکٹر صاحب نے کسی وجہ سے ملازمت سے بر طرف کر دیا تھا۔

 بڑے بھائی کے بر عکس چھوٹے بھائی باچا خان سخت گیر سیاست کرتے تھے۔ ان کی تنظیم خدائی خدمت گار تحریک تھی۔ ان کی قائد اعظم سے ملاقات ہوئی، اصولی طور پر یہ طے ہو گیا تھا کہ وہ تحریک پاکستان کی حمایت کریں گے۔ لیکن صوبہ خیبر پختون خوا میں ان کے سیاسی حریف خان قیوم خان نے لیگ کی قیادت اور ان کے درمیاں ایسی غلط فہمیاں پیدا کردیں جس کی بنا پر ان کی پاکستان حمایت ہمیشہ کے لیے ناپید ہو گئی۔ وہ دینی طور پر کٹر مسلمان تھے۔ اور ہندو مسلمان اتحاد کے داعی تھے۔ انہیں سرحدی گاندھی بھی پکارا جاتا تھا۔ ان کا انتقال 1988 میں ہوا۔ وہ جلال آباد، افغانستان میں دفن ہیں۔

4 اکبر بگٹی اور بھائی احمد نواز

 بلوچستان کے بگٹی قبیلہ کے سربراہ اکبر بگٹی اپنی سخت گیر طبیعت کی وجہ سے اپنے ہم عصر سیاست دانوں میں بھی سب ہی کے ساتھ فاصلے پر تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی احمد نواز بگٹی بھی ان کی موجودگی میں اپنے ہونٹوں پر خاموشی کی ٹیپ چپکا کر رکھتے تھے۔ اکبر بگٹی کو 1958 سے قبل وزیر اعظم فیروز خان نون کی کابینہ میں دفاع کا وزیر مملکت مقرر کیا گیا تھا۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ تھے۔

 1958 میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد قتل کے ایک مقدمہ میں انہیں سزا ہوگئی تھی اور وہ حیدرآباد جیل میں قید کیے گئے تھے۔ بھٹو نے انہیں 1973میں بلوچستان کا گورنر اس وقت نامزد کیا تھا جب بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت کو ختم کیا گیا تھا۔ انہیں غوث بخش بزنجو کی جگہ گورنر نامزد کیا گیا۔ اکبر بگٹی نے جمہوری وطن پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بھی قائم کی تھی۔ اکبر بگٹی کی 2006 میں ایک دھماکے میں ہلاکت ہوگئی تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی احمد نواز بگٹی بلوچستان کی عطا اللہ مینگل کی کابینہ میں 1970میں وزیر خزانہ تھے۔ وہ 1970 میں نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ 1985 میں غیر جماعتی انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ان کا انتقال 2005 میں ہوا تھا۔

5 پیر پگارو اور بھائی نادر شاہ

 پیر پگارو و برادران : سندھ کے انتہائی با اثر گدی نشیں پیر پگارو مرحوم مردان شاہ کے والد محترم پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کو جنہیں سوریہ بادشاہ کے خطاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

 قیام پاکستان سے قبل انگریز حکومت نے 20مارچ 1943 میں حیدرآباد جیل میں سوریہ بادشاہ کو پھانسی کی سزا دی تھی تو سید مردان شاہ کو ان کے چھوٹے بھائی پیر نادر شاہ سمیت کم عمری میں ہی انگلستان روانہ کر دیا تھا۔ انگریز نہیں چاہتا تھا کہ وہ پاکستان میں رہیں، اپنے والد کے مریدوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکیں اور اپنے والد کی گدی نشیں بن سکیں۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان جب انگلستان کے دورے پر گئے تو انہوں نے صاحبزدگان کی حوالگی کو مطالبہ کیا تھا اور 1951 میں ان کی واپسی پر پیر صاحب کی گدی 1952 میں بحال کر دی تھی۔ گدی کی بحالی پر حروں نے بڑا جشن منایا تھا۔ بعض حلقے تو اب تک بھی خوشیاں مناتے ہیں۔

 گدی کی بحالی کے بعد پیر پگارو نے تو اس دور میں سیاست میں حصہ لینا شروع نہیں کیا تھا البتہ پیر نادر شاہ انتخابات میں حصہ لیتے تھے۔ مرحوم پیر صاحب نے 1988کے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن اس انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار پرویز علی شاہ کامیاب ہو گئے تھے۔ پیر پگارو مرحوم کے تینوں بیٹوں ، موجودہ پیر پگارو، جو پیر صبغت اللہ ثانی ہیں، پیر صدر الدین عرف یونس سائیں، اور علی گوہر شاہ نے سیاست میں حصہ لیا۔ پیر صبغت اللہ صوبائی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ وہ سیاسی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ بھی ہیں اور گرینڈ ڈیموکریٹک آلائنس (جی ڈی اے) کے نام سے سیاسی جماعتوں کے ایک اتحاد کے سربراہ بھی ہیں۔ پیر صدر الدین بھی صوبائی اور وفاقی وزیر رہے ہیں۔

6 یوسف ہارون اور محمود ہارون

 مسلم لیگ کے خدا ترس معتبر سیاست داں حاجی سر عبداللہ ہارون کے تین بیٹے تھے، یوسف ہارون، محمود ہارون، سعید ہارون۔ تینوں سیاست میں سرگرم تھے۔ یوسف ہارون سندھ اسمبلی کے قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔ ان کے ہی دور میں سندھ ٹیننسی ایکٹ منظور ہوا تھا۔ یوسف ہارون وزیر اعلیٰ نہیں رہے۔ ایوب خان نے انہیں 1969 میں مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا تھا لیکن ایک روز بعد ہی جنرل یحییٰ خان نے ملک میں دوسرا مارشل لا نافذ کر دیا جس کے ساتھ ہی ان کی ایک روزہ گورنری بھی ختم ہو گئی۔

 یوسف ہارون کے چھوٹے بھائی محمود ہارون کراچی میونسپل کارپوریشن کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کراچی کے علاقے لیاری اور کھڈہ کو اپنا حلقہ انتخاب بنایا تھا جہاں سے انہیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ البتہ وہ ایوب خان کے صوبائی وزیر رہے اور جنرل ضیاء الحق کے وفاقی وزیر داخلہ مقرر ہوئے تھے۔

7 مخدوم برادران        

ہالہ کا مخدوم خاندان پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد سے پارٹی کے ساتھ منسلک ہے۔ اتار چڑھاؤ کے باوجود مخدوم برادران پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی رہے۔ پاکستان کے کیے خاندانوں کی طرح یہ پورا خاندان بھی سیاست میں سرگرم ہے۔ طالب المولیٰ اور ان کے بیٹے امین فہیم پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے1977 مارشل لا کے نفاز کے بعد خلیق الزمان پارٹی کو پارٹی کا صوبائی صدر مقرر کیا گیا تھا۔ مخدوم طالب المولی پارٹی میں اس طرح کے کردار کے لیے تیار نہیں تھے۔ رفیق الزمان، شفیق الزمان بھی سرگرم ہوئے۔ امین فہیم کی زندگی میں ہی ان کے بیٹے جمیل الزمان سرگرم ہوئے اور منتخب ہوئے اور صوبائی و زیر بنائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی سعید الزمان انتخابی میدان میں کود پڑے۔ انہیں تھرپارکر سے صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کرایا گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جمیل الزمان قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ ان کے بیٹے محبوب الزمان صوبائی وزیر ہیں، سابق رکن سندھ اسمبلی سعید الزمان کو سندھی ادبی بورڈ کو چیئرمیں نامزد کیا گیا ہے۔ ایک اور بھائی رفیق الزمان ضلع مٹیاری سے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

8۔ اللہ بخش سومرو اور مولا بخش سومرو

یہ ضلع شکارپور کی سیاست میں سرگرم رہنے والے دو بھائی تھے۔ اللہ بخش سومرو قیام پاکستان سے قبل سندھ کے پریمئر تھے۔ وہ کامیاب پریمئر کہلاتے ہیں۔ سندھ اتحاد پارٹی قائم کر کے وہ دو مرتبہ سندھ کے پریمئر (اس زمانے میں وزیر اعلیٰ کو پریمئر کہا جاتا تھا) رہے۔ نامعلوم شخص کے ہاتھوں وہ اس وقت قتل ہو گئے تھے جب ایک تانگےمیں سفر کر رہے تھے۔

 ان کے بعد ان کے ایک بیٹے رحیم بخش سیاست میں سرگرم ہوئے۔ ان کے بھائی خان بہادر حاجی مولا بخش سومرو 1970 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی میں منتخب ہوئے۔ وہ مرکزی اور صوبائی وزیر رہے اور ضیاء دور میں جنرل ضیاء کے مشیر مقرر ہوئے تھے۔ ان کے بڑے بیٹے الہٰی بخش سومرو قومی اسمبلی کے سپیکر مقرر ہوئے۔ وہ کئی مرتبہ وفاقی وزیر بھی رہے۔

مولا بخش کے دوسرے بیٹے افتخار سومرو جو صنعت کار ہیں لیکن جنرل ضیاء الحق کے دور میں صوبائی وزیر تھے۔ خان بہادر اللہ بخش کے بڑے بھائی احمد میاں سومرو ایوب دور میں اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مقرر ہوئے تھے۔ احمد میاں کے بڑے بیٹے محمد میاں سومرو سندھ کے گورنر مقرر ہوئے۔ سینٹ کے دو مرتبہ چیئر مین رہے اور عمران خان حکومت میں وفاقی وزیر نجکاری تھے۔

9۔ غلام مصطفیٰ جتوئی، غلام مرتضیٰ جتوئی

 صوبہ سندھ کے ضلع نو شہرو فیروز کے سیاست دان غلام مصطفیٰ جتوئی بھٹو دور میں سندھ کے وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ کڑوی گولی بھی شکر میں لپیٹ کر پیش کرتے تھے۔ مارشل لا کے نفاذ کے بعد انہیں پیپلز پارٹی نے سندھ کا صدر مقرر کر دیا تھا۔ مرحومہ بے نظیر بھٹو کو شک گزرا کہ جتوئی جنرل ضیاء کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں جس پر بات بڑھی تو ان کے بارے میں پارٹی نے نعرہ لگوا دیا، ’بھٹو ہیرو ہیرو، جتوئی زیرو زیرو۔ ‘

اس کے بعد ہی پارٹی سے ان کی عملا ًعلیحدگی ہو گئی اور انہوں نے 1986میں لاہور میں نیشل پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا جس میں اس وقت کی معروف شخصیات نے شمولیت کی تھی۔ پارٹی صرف نام کی حد تک ہی رہی۔ البتہ پارٹی ٹکٹ پر جتوئی کے آبائی ضلع نوشہرو فیروز سے ان کے بیٹے ضرور منتخب ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے غلام مرتضے جتوئی وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ آج کل دو بیٹے عارف اور مسرور سندھ ا سمبلی کے رکن ہیں۔

 1988 کے انتخابات میں، جو بھٹو کی پھانسی کے بعد پہلا انتخاب تھا، جتوئی ایک غیر معروف وکیل رحمت اللہ بیہن کے مقابلے میں بری طرح ناکام ہو گئے تھے۔ غلام مصطفیٰ کھر نے جو جتوئی کے دیرینہ دوست تھے، جتوئی کو اپنی خالی کردہ ایک نشست پر کوٹ ادو پنجاب سے کامیاب کرایا۔ جتوئی اس طرح قومی اسمبلی میں پہنچ گئے اور قائد حزب اختلاف منتخب کروا دیے گئے۔

 1970 کے انتخابات میں غلام مصطفیٰ جتوئی نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا انتخاب لڑا تھا اور ان کے چھوٹے بھائی غلام مجتبیٰ جتوئی نے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد بھٹو نے جب 1973 میں جتوئی کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا تو مجتبیٰ سے صوبائی اسمبلی کی نشست خالی کرائی گئی جس پر مصطفیٰ جتوئی منتخب ہو کر وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے۔ سیاست مصطفیٰ جتوئی کرتے تھے جب کہ زمینداری مجتبی جتوئی کیا کرتے تھے۔ مصطفیٰ جتوئی بڑے بھائی تھے ا س لیے چھوٹے بھائی مجتبیٰ جتوئی سیاسی معاملات میں خاموش ہی رہا کرتے تھے۔

10۔ کھر برادران

 ایو ب خان حکومت کے تحت 1962 اور 1965 میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی میں ایک رکن مظفر گڑھ کے ملک غلام مصطفیٰ کھر بھی تھے۔ ان کے تعلقات ایوب کابینہ کے رکن ذالفقار علی بھٹو سے تعلقات ہو گئے تھے۔ بھٹو نے انہیں پنجاب کا گورنر مقرر کر دیا۔ 1973 کے آئین کی منظوری کے بعد انہیں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے بھٹو کے ساتھ اختلاف کا آغاز ہو گیا تھا۔ حالانکہ بھٹو نے کھر اور معراج محمد خان کو اپنا سیاسی جانشین قرار دیا تھا لیکن دونوں نے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ہی پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

بے نظیر بھٹو نے انہیں 1988 میں پانی اور بجلی کی اہم وزارت دی۔ پھر پارٹی سے ان کے اختلاف ہو گئے۔ انہوں نے فنکشنل لیگ، عوامی تحریک اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی لیکن انہیں سیاست میں ویسی شہرت اور عروج حاصل نہیں ہو سکا جو انہیں پیپلز پارٹی میں حاصل تھا۔ کھر کے والد محمد یار کھر اپنے علاقے کے بڑے زمیندار شمار ہوتے تھے۔ ان کے بیٹوں میں غلام مصطفیٰ کے علاوہ غلام میلادی، غلام عربی، غلام ربانی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب لوگ مختلف اوقات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔ غلام عربی تو اپنے علاقے میں ’عوام کا ثالث ‘ کی حیثیت سے مشہور تھے۔ لوگ ان کے پاس اپنے ہر قسم کے مسائل کے حل کے لیے آیا کرتے تھے۔ ان کا انتقال 2013 میں ہوا۔ ان کی ایک بھتیجی (ربانی کھر کی بیٹی) امور خارجہ کی دوبارہ وزیر مملکت مقرر ہوئی ہیں۔

11۔ میر علی احمد خان اور میر رسول بخش خان تالپور

ان کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ میر علی احمد بڑے بھائی ہیں۔ خاکسار تحریک سے وابستہ رہے پھر ری پبلکن پارٹی میں شامل ہو گئے اور وزیر بن گئے۔ علی ا حمد بڑے میر صاحب کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی رسول بخش حیدرآباد میں ہی رہائش پذیر رہے۔ وہ حقیقی معنوں میں عوامی سیاست کرتے تھے۔ پان بیڑی محنت کشوں کی یونین ہو، تانگہ بانوں کی یونین ہو، رکشہ ڈرایئورں کی ینونین ہو، رسول بخش سر پرستی کے لیے مشہور تھے۔ اس کے علاوہ بلدیہ کی سیاست میں بھی سرگرم رہتے تھے۔

بھٹو نے سندھ میں میر برادران کے مکان کو ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ میر گارڈن میں ہی بھٹو نے پیپلز پارٹی قائم کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد بھٹو نے رسول بخش کو سندھ کا گورنر مقرر کر دیا۔ میر علی احمد تالپور بھٹو کی بدین سے خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے تھے۔ بھٹو کے ساتھ اختلاف اس حد تک رہا کہ علی احمد تالپور جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں وزیر دفاع مقرر ہو گئے۔ میر رسول بخش مارشل لا حکومت میں صوبائی مشیر مقرر ہو گئے تھے۔

 12۔ میر علی بخش خان تالپور، میر امام بخش خان تالپور

 سندھ سے سیاست میں سرگرم رہے۔ 1970 کے عام انتخابات میں میر علی بخش قومی اسمبلی کے رکن اور چھوٹے بھائی امام بخش صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ علی بخش شریف النفس سادہ مزاج شخص تھے جو بائیں بازو کی سیاست میں یقین رکھتے تھے۔ جب بھٹو دور میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران علی بخش پہاڑوں پر چڑھے ہوئے حکومت مخالف عناصر کی مدد کرتے تھے، وہ انہیں خوراک پہنچاتے تھے اور ضروریات کا سامان پہنچاتے تھے۔

بھٹو حکومت نے انہیں پیپلز پارٹی کا رکن قومی اسمبلی ہونے کے باوجود حراست میں لیا۔ علی بخش پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ انہیں دماغی بیماری ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے دماغ میں ٹیومر ہو گیا تھا جو ان کی موت کا سبب بن گیا۔ علی بخش کے بڑے بیٹے منور تالپور آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال کے شوہر ہیں۔ کئی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی انور تالپور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے ہیں۔ علی بخش کے چھوٹے بھائی امام بخش تالپور بھی انتقال کر گئے ہیں۔

13۔ حفیظ پیرزادہ اور بھائی مجیب پیرزادہ

 عبدالستار پیر زادہ پاکستان کی پہلی مرکزی حکومت میں وزیر مقرر ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ سندھ کے وزایر اعلیٰ مقرر ہوئے۔ ستار پیرزادہ کے بڑے بیٹے عبدالحفیظ پیرزادہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ بھٹو نے انہوں ایک دفعہ ’سوہنا منڈا‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

حفیظ پیرزادہ نے وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد کراچی میں ڈنگو مل وکیل کے ساتھ کام شروع کیا۔ ڈنگو مل کمپنی میں اس وقت بھٹو بھی شامل تھے۔ وہیں سے ان کی دوستی پروان چڑھی۔ 80برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ پیپلز پارٹی کی لگام جب بے نظیر بھٹو کے ہاتھ آئی تو اکثر ’چچا‘ ان کے ساتھ سفر جاری نہ رکھ سکے۔ حفیط پیرزادہ اور ممتا بھٹو بھی ان لوگوں میں شامل تھے۔ حفیظ پیرزادہ اور ممتازبھٹو نے عطا اللہ منگل اور افضل بنگش کے ساتھ مل کر 1985 میں کنفیدڑیشن کا فلسفہ پیش کیا اور سندھی بلوچ پشتون فرنٹ کی بنیاد رکھی لیکن فرنٹ چل نہیں سکا اور خود بخود ختم ہو گیا۔

ایک طرح سے حفیظ پیرزادہ جنہوں نے 1973 کا آئین لکھنے میں بھٹو کے معاونت کی تھی، عملی سیاست سے تائب ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنی وکالت شروع کر دی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے پیسے اور شہرت میں کمال ترقی پائی۔ حفیظ پیرزادہ کے چھوٹے بھائی مجیب پیرزادہ کو مرحومہ بے نظیر بھٹو نے 1990کے انتخابات میں ٹکٹ دیا تھا اور وہ کامیاب ہو گئے تھے۔ لیکن وہ بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ سفر جاری نہیں رکھ سکے۔

14۔ ارباب امیر حسن، ارباب غلام رحیم، ارباب عبداللہ

صوبہ سندھ کے وسیع و عریض ریگستان تھرپارکر کے ارباب امیر حسن مقامی سیاست میں اپنے عوام دوست رویہ اور کردار کی وجہ سے بے انتہا مشہور تھے۔ 1970 کے عام انتخابات میں جب سندھ میں پیپلز پارٹی کا طوفان تھا، ارباب امیر حسن آزاد امیدوار کی حیثیت سے سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے تھے۔

امیر حسن کی موت کے بعد ان کے چھوٹے بھائی ارباب غلام رحیم عملی سیاست میں ڈسٹرکٹ کونسل کا انتخاب لڑ کر شامل ہوئے۔ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ انہوں نے تو طب کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن سیاست کا حصہ بن گئے۔ تیسرے بھائی ارباب عبداللہ تھے وہ بھی سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن سڑک کے ایک حادثہ کا شکار ہو گئے۔ ارباب غلام رحیم وزیر اعظم عمران خان کے آخری مہینوں میں سندھ امور کے سلسلے میں مشیر بھی مقرر ہو گئے تھے۔

نوٹ۔ مزید برادران سیاست میں موجود ہیں لیکن جگہ کی کمی کی وجہ سے ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ