کیا چمگادڑ واقعی خوفناک اور انسانوں کی تباہی کا باعث ہیں؟

کیا چمگادڑ جیسا جانور، جسے صدیوں سے منحوس اور خوفناک سمجھا جاتا ہے، انسان کا نجات دہندہ ثابت ہو سکتا ہے؟

گویا پہلے چمگادڑوں کے برا ہونے میں کوئی گنجائش باقی تھی کہ 2020 میں کوویڈ 19 کی عالمی وبا کی ذمہ داری بھی ان پر ڈال کر بدنامی کی شدت میں اضافہ کرتے ہوئے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی گئی۔ (تصویر: وکی پیڈیا)

ہمارے دلوں میں چمگادڑ کے ڈر سے منسلک بہت سی باتوں کا ذمہ دار ڈریکولا ہے۔ 

یہ خون چوسنے والے بدخو چمگادڑوں کے ٹھکانوں کے ساتھ رہنے والے خون چوسنے والی ٹرانسلوانیائی چڑیلوں کی بدولت ہے کہ چمگادڑ جیسے بےضرر اڑن ممالیہ کی شہرت ایک خوفناک مخلوق کے طور پر ہو گئی ہے۔ ڈریکولا کے ساتھ چمگادڑوں کی ڈراؤنی نسبت کے سبب بہت سے لوگ ان سے خوف کھاتے ہیں۔ وہ انہیں انتہائی خطرناک مخلوق سمجھتے ہیں جو ڈراؤنے خوابوں کا سامان بنتی ہے۔

اس بدنامی کا نقش اس مقبول عام قصے نے مزید گہرا کیا ہے جس کے مطابق چمگادڑ آپ کے بالوں میں گھس کر وہیں اٹکی رہ جاتی ہیں۔ ان ممالیہ جانوروں کے بارے میں بننے والے ایک تازہ دستاویزی فلم Bat Superpowers کی پروڈیوسر سیلی بلیک نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پہلے ان سے بہت خوفزدہ تھیں۔ ’یہ بالکل ہی افسانوی بات ہے کہ چمگادڑ آپ کے بالوں میں پھنس جاتی ہیں لیکن یہ فلم بنانے سے پہلے میں ان سے بہت خوفزدہ تھی۔

’جوانی کے ایام کے دوران میرے ابتدائی بوائے فرینڈز میں سے ایک کے خاندان کی ملکیت کینیڈا میں ایک کاٹیج تھا۔ وہ اس کی ایک اور منزل تعمیر کر رہے تھے اور اس کی چھت نہیں تھی۔ انہوں نے مجھے کاٹیج کے اوپری حصے میں زبردستی چھوڑ دیا۔ آدھی رات کو اڑتی چمگادڑوں سے میری آنکھ کھل گئی اور میں سچ میں بہت زور سے چِلانے لگی۔ اس کے بعد اس سخت جاں کینیڈین خاندان نے کہا، ’اوکے، یہ لڑکی ہمارے لیے نہیں ہے۔‘

 چمگادڑ ایک قسم کے ایسی مخلوق بن گئی جسے ہر جگہ خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ ان سے ہالووین کے تہوار میں بچوں کو ڈرانے کا کام لیا جاتا ہے اور یہ بیلا لگوسی کی 1940 میں آنے والی ’دا ڈیول بیٹ‘ جیسی لافانی ڈراؤنی فلموں اور ’دا بیٹ پیپل‘ اور چمگادڑوں کو خوشگوار نام سے پیش کرنے والی ’ہیومن ہارویسٹ‘ جیسی (اکثر مضحکہ خیز) فلموں میں نمودار ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب اوزی اوزبورن نے مشہورِ زمانہ سٹیج پر سب کے سامنے چمگاڈر کا سر منہ سے کاٹ ڈالا تو اس نے ان کے بارے میں قائم شدہ تاثر بالکل بھی مثبت انداز میں تبدیل نہیں کیا۔

دنیا کے کونے کونے میں چمگادڑوں کو شیطان بنا دیا گیا۔ مثال کے طور پر سپین کی جانب سے امریکیوں کو اپنی نوآبادیات بنانے سے تین ہزار سال قبل پروان چڑھنے والی میزو امریکن ثقافت میں چمگادڑوں کا سایہ لوگوں کے لیے برا شگون سمجھا جاتا تھا۔ یہ مردہ لوگوں کی سرزمین کا نشان تھیں۔ کسی شخص کا چمگادڑ دیکھنے کا مطلب موت کی آمد ہوتی تھی۔

گویا پہلے ان کے برا ہونے میں کوئی گنجائش باقی تھی کہ 2020 میں کوویڈ 19 کی عالمی وبا کی ذمہ داری بھی ان پر ڈال کر بدنامی کی شدت میں اضافہ کرتے ہوئے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی گئی۔ پہلے ہی یہ مخلوق عذاب کی خوفناک شب کا پیشہ خیمہ سمجھی جاتی تھی کہ ان پر صدی کی بدترین وبائی بیماری پھیلانے کا الزام بھی لگا دیا گیا۔ غیر معمولی مدافعتی نظام کی مالک اس مخلوق کے لیے یہ نئی بات نہ تھی کیونکہ ماضی میں بھی یہ ایبولا، سارز اور مرز جیسے وائرس پھیلانے کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔

ڈیوک میڈیکل سکول سے وابستہ لنفا وانگ ان ممالیہ جانوروں کے ممکنہ طبی فوائد کے مطالعہ میں مصروف دنیا کے معروف ماہرین میں سے ایک ہیں۔ ان کا تو ایک طرح سے نام ہی ’بیٹ مین‘ پڑ گیا ہے۔

انہوں نے چمگادڑوں سے انسان میں منتقل ہونے والے وائرس کے خطرات کو واضح کیا ہے۔ ’چمگادڑ کے جسم میں رہتے ہوئے وائرس کو ایک مضبوط دفاعی نظام کے خلاف جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ لیکن جب وہ انسان جیسے میزبان کے گھر چھلانگ لگاتے ہیں تو انہیں گویا کھلا میدان مل جاتا ہے جہاں وہ ہنگامہ برپا کر سکتے ہیں۔‘

چونکہ کوویڈ 19 سے دنیا کو لاکھوں اموات اور عالمی لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا اس لیے کچھ صدائیں ایسی بھی بلند ہوئیں کہ چمگادڑوں کی بڑے پیمانے پر مکمل بیخ کنی کی جائے۔ بلیک اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’ایک خوف تھا کہ ایشیا میں لوگ چمگادڑوں کو بڑے پیمانے پر مار ڈالیں گے جہاں مختلف قسم کے وائرس سے چمگادڑوں کا تعلق جڑ رہا تھا۔

’شروع میں لوگوں کا فطری رد عمل یہی تھا۔ لوگ کہہ رہے تھے اگر یہ وائرس چمگادڑوں سے پھیلا ہے تو آؤ ان سے جان چھڑائیں۔‘ لیکن بالآخر ہم نے ایسا ہوتا نہیں دیکھا۔ شاید لوگوں نے چئیرمن ماؤ کی چین سے چڑیا ختم کرنے کی ناکام مہم سے کچھ سبق سیکھا ہو۔‘

1958 میں مستقبل کی سمت عظیم جست لگانے کے سلسلے کی پہلی کڑیوں میں سے ایک کے طور پر ’چڑیاں مکاؤ مہم‘ شروع کی گئی کیونکہ ان میں سے ہر ایک پر سالانہ کم و بیش دو کلو اناج کھانے کا الزام تھا۔ نتیجتاً انہیں ذبح کرنے کی اجتماعی کاوشوں نے ماحولیاتی نظام بالکل ہی غیرمتوازی کر ڈالا اور چین کی عظیم قحط سالی کو جنم دیا۔ بلیک کہتی ہیں: ’ماحولیاتی نظام کا وسیع پیمانے پر یہ پہلا سبق تھا۔ لوگوں کو اچانک احساس ہوا کہ یہ سب چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔‘

لیکن، اور کیا آپ کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہاں ایک ’لیکن‘ ہو گا؟، چمگادڑوں کو غیر منصفانہ طور پر بدنام کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ کئی سال سے انہیں میڈیا میں خوب رگیدا گیا۔

تاہم اب نئی سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ننھے سے ہوا کے دوش پر اڑنے والے جانور انسانوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ہماری لمبی عمر کے لیے ان کا کردار واقعی بہت اہم ہو سکتا ہے۔

چمگادڑ ہر وقت 60 ایسی بیماریاں ساتھ لیے پھرتی ہیں جو ان کے توانا مدافعاتی نظام کے خلاف کارگر نہیں ہوتیں لیکن ان میں سے اکثر (جیسا کہ rabies) انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ وہ حیران کن طور پر اپنے سائز جیسی مخلوق کی نسبت زیادہ مدت تک زندہ رہتی ہیں۔ اس کا راز کیا ہے؟ اور ان کی منفرد بائیولوجی کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم اپنے بارے میں کیا جان سکتے ہیں؟

سائنس دان اس امکان کی کھوج لگا رہے ہیں کہ ممکن ہے چمگادڑ انسانی نسل کو کینسر، الزائمر، ذیابیطس، آٹو امیون بیماریوں، فالج اور دل کی مختلف امراض سے لڑنے میں مدد دے سکے۔ کئی صدیوں تک انسانوں کو خوفزدہ رکھنے والا یہ جانور کیا غیر متوقع طور پر ہمارا نجات دہندہ بن کر نکلے گا؟

 28 اپریل بروز جمعرات، شام آٹھ بج کر 50 منٹ پر بی پی ایس امریکہ پر دکھائی جانے والی ’بیٹ سپر پاورز‘ نامی دستاویزی فلم ایسی حیران کن پیش رفت کا ذکر کرتی ہے جو ہمارے لیے نجات دہندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ دستاویزی فلم دلائل پیش کرتی ہے کہ چمگادڑوں میں حیاتیاتی خصوصیات سے پُر ایسا خزانہ ہوتا ہے جو ہماری بہت مدد کر سکتا ہے۔

 ان کے اندر بہت سی بے مثل طاقتیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے پاس ایکو لوکیشن (echo-location) سسٹم ہے جو مکمل اندھیرے میں انہیں واضح دیکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ وہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتی ہیں جو کسی بھی دوسرے جانور سے زیادہ ہے۔

مزید برآں وہ بہت سے وائرس اور عمر رسیدگی کے خلاف ناقابل تسخیر قوت کی مالک ہیں اور منظم انداز میں کام کرنے والا بہترین مدافعتی نظام جیسا قابل فخر اثاثہ رکھتی ہیں۔ لاکھوں برس کا ارتقا کے نتیجے میں چمگاڈر غیر معمولی مخلوق بن کے ابھری ہیں جو ممکنہ طور پر طویل اور صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہونے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔

اب اس جانور کے لیے وہ حقارت آمیز رویہ بھی نہیں جو ماضی میں کم و بیش ہر جگہ رہا ہے۔

’بیٹ سپر پاورز‘ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح یہ چونکا دینے والی تحقیقات چمگادڑ کے بارے میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہماری حقارت آمیز سوچ کو ختم کر کے ہمیں اس سے محبت کرنا سکھا رہی ہے۔

 بلیک بتاتی ہیں کہ ان کی فلم کا مقصد عرصہ دراز سے مذموم قرار دی جانے والی اس ممالیہ جانور کا صحیح تصور بحال کرنا تھا۔ ’بیٹ مین ایک ہیرو ہے سو بیٹ (چمگادڑ) بھی اسی درجے پر فائز ہے۔ ہم انہیں شیطان بنا ڈالتے ہیں جبکہ اصل میں وہ بہت شاندار ہیں۔ یہ مکڑوں کی طرح ہے۔ انہیں رینگنے والی خوفناک مخلوق کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن وہ باغات کے لیے بہترین ہیں۔

’چمگادڑوں کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ انہیں خوب بدنامی سمیٹنا پڑی لیکن ایکو سروسز اور کیڑوں مکوڑوں سے ہماری جان چھڑانے جیسی بہت سی وجوہات کی بنا پر ہمیں ان سے محبت کرنی چاہیے۔ لیکن اس سے بڑھ کر وہ طبی اعتبار سے بھی ایک خزانہ ہیں۔ ان کے پاس ایسا بہت کچھ ہے جو ہمارے لیے رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔

چمگادڑوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے معاملے میں بلیک تنہا نہیں ہیں۔ پوری دنیا میں چمگادڑوں کا دفاع ان کے منہ پھٹ اور پرجوش محبت کرنے والے کر رہے ہیں۔ پروڈیوسر کا کہنا ہے، ’دنیا بھر میں واقعی چمگادڑوں کے بہت متحرک اور پرجوش پرستار گروہ ہیں جو ان کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے لڑتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 ’بہت سارے لوگ چمگادڑوں کی دلچسپ اور اہم نوعیت کے بارے میں آگاہ ہو رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے دنیا کی بہت سی انواع کے بارے میں لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ وہ قیمتی ہیں اور انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔‘

بیٹ سپر پاورز کے ڈائریکٹر رفائل ہٹیئر یہی بات دہراتے ہیں: ’کہانی سنانا کافی مشکل کام تھا کیونکہ ایک طرف چمگادڑ کئی طرح کے وائرس سے بھری ہوتی ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے اندر بہت ساری امراض کا ممکنہ علاج ہے۔ ہم نے یہ سب پیچیدگی سکرین پر دکھانے کی کوشش کی۔ ہو سکتا ہے چمگادڑ خطرے کا باعث ہو لیکن یہی خطرے سے نجات کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں بہت کم خوف محسوس کرنا چاہیے۔

’مجھے امید ہے کہ دستاویزی فلم کے اختتام تک لوگ جان لیں گے کہ چمگادڑ نہایت غیر معمولی اور حیران کن مخلوق ہے۔ میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ لوگ کسی بھی جانور کو خطرے یا پریشانی کے بجائے حیرت اور استعجاب سے دیکھیں۔ ایک چمگادڑ واقعی ناقابلِ یقین مشین ہے۔ میرا خیال ہے لوگ اس کی سطحی سوجھ بوجھ کے ساتھ اس سے دور بھاگ جاتے ہیں۔‘

اس سلسلے میں اہم کام Bat1k نامی پروجیکٹ کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو اس وقت موجود چمگادڑوں کی 1400 نسلوں کے جینوم کو ترتیب دینے کی اہم کوشش ہے۔  بلیک کا کہنا ہے کہ ’اس میدان میں بہت زیادہ امید اور جذبہ ہے۔

 Bat1k نے پہلا پتھر رکھ دیا ہے کیونکہ اس سے پہلے کسی نے چمگادڑوں کے جینوم ترتیب دینے کی زحمت نہیں کی تھی۔ وہ بغیر وجہ ایسا نہیں کر رہے۔‘ چمگادڑ کے جینوم انسانوں کے لیے بہت سی مہلک بیماریوں کی ہماری بہتر تفہیم میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تحقیق کی بنیادی کلید چمگادڑ کے مضبوط مدافعتی نظام اور اڑنے کی صلاحیت کے درمیان گہرے تعلق میں پوشیدہ ہے۔ ہٹیئر اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہیں: ’یہ دونوں چیزیں باہم منسلک ہیں۔ چمگادڑوں کے اڑنے کا عمل ان کے جسم میں مدافعتی ردعمل کا باعث بنتا ہے۔

’سو ان کا مدافعتی نظام دیکھ بھال کے لیے ہمیشہ بیدار رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہوا جب کوئی انفیکشن ہوتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے مدافعتی نظام پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ بالکل ابتدائی مرحلے میں ہوتا ہے اس لیے جسم کو زیادہ مشقت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ انفیکشن سے لڑنے کے لیے تیار ہیں اور یہ ان کی اڑنے کی صلاحیت کا ضمنی نتیجہ ہے۔‘

یہ حقیقت حیران کن ہے کہ چمگادڑ پیش بندی کے طور پر Interferon Alpha نامی مادہ پیدا کرتی ہے جس کا کام مدافعاتی خلیوں کو متحرک کرنا ہوتا ہے۔

ہٹیئر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں: ’اس کے برعکس ہمارا مدافعاتی نظام عمومی طور پر غیر متحرک ہوتا ہے۔ اس لیے جب کوئی انفیکشن ہو جائے تو ہماری جوابی کارروائی انتہائی شدید ہونی چاہیے۔‘ اگر ہم یہ سیکھ سکیں کہ چمگادڑ کے سپر چارجڈ مدافعتی نظام کو کیسے اپنانا ہے تو انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔‘

دوسرا پہلو جو ہمارے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے وہ ہے چمگادڑ کی غیر معمولی لمبی عمر۔ فطرت کا معمول یہ ہے کہ جانور جتنا بڑا ہو اتنا ہی زیادہ عرصہ زندہ رہتا ہے۔ مگر چمگادڑ کا معاملہ اس سے بالکل الٹ ہے۔ ایک چوہا اوسطاً دو سال زندہ رہتا ہے لیکن برینڈٹ نسل کی چمگادڑ سال کی عمر تک پہنچ سکتی ہے۔ گویا اس کی عمر توقع سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے جسم کے لحاظ سے اس کی ممکنہ عمر انسان کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔

بلیک پرجوش انداز میں کہتی ہیں: ’میرے بنیادی نکات میں سے ایک یہ ہے کہ چمگادڑ کبھی بوڑھی نہیں ہوتی۔ شاید یہ ڈریکولا کی طرح ہیں! آپ دو، 10 یا 20 سالہ چمگادڑ کو دیکھ کر ان کی عمروں کا فرق نہیں بتا سکیں گے۔

ان کی جسامت کے مقابلے میں یہ ناقابلِ یقین لمبی عمر ہے۔

 ’Bat1k ‘پروجیکٹ کے حیرت انگیز نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ چمگادڑ کے ٹیلومیر Telomeres (کروموسومز کے آخرے سرے پر ٹھوس سٹرکچر) عمر کے ساتھ گھِستے یا کم نہیں ہوتے۔ کیا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ کسی طرح اسے سمجھیں اور نسل انسانی پر منطبق کریں؟ ‘

بدقسمتی سے چمگادڑوں کی مزید تفہیم کے راستے میں رکاوٹ شاید ہم خود ہوں گے۔ ہم انسان واہیات انداز میں بالعموم وہی چیز تباہ کر رہے ہیں جس کی ہمیں مدد درکار ہے۔  بلیک کا کہنا ہے: ’چمگادڑوں کی رہائش گاہیں انسانی تجاوزات کے ممکنہ خطرے کی زد میں ہیں لہٰذا ہمیں ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘

 ٹیکساس میں واقع سیل بیمبرگر علاقے میں چمگادڑوں کا مطالعہ کرنے والے سائنس دان جیرڈ ہومز بھی دیگر مخلوقات کی انسانی تباہی سے فوری تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ وہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ’ایک ماہر حیاتیات کے طور پر لوگوں کو چمگادڑوں کی اہمیت سے آگاہ کرنا میرا کام ہے۔‘ 

ہٹیئر کو امید ہے کہ بیٹ سپر پاورز کے دیگر فوائد بھی ہیں، جو ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ ’ان چیزوں کے بارے میں زیادہ متجسس ہوں جو ڈراؤنی محسوس ہوتی ہوں۔ ان کے پیچھے ہمیشہ دلچسپ کہانی چھپی ہوتی ہے۔‘

 بلیک اس بات سے اتفاق کرتی ہیں ’میں دوبارہ کبھی چمگادڑوں کو پہلے کی طرح نہیں دیکھوں گی۔ اگر آپ چمگادڑوں سے خوفزدہ ہیں تو میرا خیال ہے یہ فلم آپ کے دیکھنے کے انداز کو بدل کر رکھ دے گی۔ میں چمگادڑوں سے ڈرتی تھی لیکن اب ان کی مداح ہوں۔ ‘

آئیے حرف آخر کے لیے  Bat1k کی شریک بانی ایما ٹیلنگ سے رجوع کرتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی کالج ڈبلن میں پروفیسر بھی ہیں جہاں انہوں نے ممالیہ جانوروں کے مالیکیولائی ارتقا کے لیے لیبارٹری قائم کر رکھی ہے، جسے عرف عام میں ’بیٹ لیب‘ کہتے ہیں۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چمگادڑ ہماری بقا کے لیے کس قدر ضروری ہو سکتی ہیں۔ ’چمگادڑ اب تک کے تمام جانوروں میں سب سے زیادہ دلچسپ ہیں۔ وہ قابل توجہ اور غیر معمولی مخلوق ہیں۔

’چمگادڑ تمام ممالیہ جانوروں میں سب سے زیادہ بدنام اور ممکنہ طور پر سب سے زیادہ خوفناک مخلوق ہے۔ لیکن اگر ہم انہیں ذرا مختلف ڈھنگ سے دیکھیں تو انسانی وجود کو بہتر بنانے کے لیے بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔‘

پھر وہ واقعی سپر پاور ہوں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق