چمگادڑوں پر جتنا دباؤ ڈالیں گے وہ اتنے وائرس پھیلائیں گی: سائنسدان

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چمگادڑوں کو دشمن سمجھنا اور انہیں ختم کرنے کی کوششیں کرنا وائرسز پر قابو پانے میں مدد گار نہیں ہو سکتا۔کینیڈا کے ماہر وبائی امراض وکرم مشرا کے مطابق: 'آپ چمگادڑوں پر جتنا دباؤ ڈالیں گے وہ اتنے وائرس پھیلائیں گی۔'

چمگادڑ ایک متنوع گروہ ہے جس میں انٹارکٹیکا کے علاوہ ہر براعظم پر 1400 سے زیادہ اقسام پر پائی جاتی ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

ریو ڈی جنیرو کے پیڈرا برانکا سٹیٹ پارک میں رات کا وقت تھا جب برازیل کے چار سائنس دانوں نے شدید بارش کے دوران کیچڑ میں راستہ تلاش کرنے کے لیے اپنی ٹارچوں کو روشن کیا۔ یہ محققین ایک مشن پر تھےجس میں چمگادڑوں کو پکڑنا اور اگلی عالمی وبا سے بچنے میں مدد دینا شامل تھا۔

گھپ اندھیرے میں تھوڑا ہی آگے ایک چمگادڑ نے نائلون کے جال میں پھنسنے کے بعد بلند آواز میں چیخنا شروع کر دیا۔ محققین میں سے ایک نے چمگادڑ کو اس جال میں سے نکالا، جس نے اپنے نوک دار دانتوں کو اس کے ہاتھ پر موجود دستانے میں پیوست کر دیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق نومبر کی سیاہ رات میں برازیل کے فیوکرز انسٹی ٹیوٹ میں سرانجام دی جانے والی اس سرگرمی کا مقصد جنگلی جانوروں میں موجود وائرسوں کو جمع کرنا اور ان پر تحقیق کرنا تھا۔

اس کا مقصد ان دیگر وائرسوں کی نشاندہی کرنا ہے جو انسانوں کے لیے انتہائی جان لیوا اور مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں میں ان وائرسز کو پھیلنے سے روکنا بھی اس تحقیق میں شامل ہے۔

ایک جڑی ہوئی دنیا میں کسی ایک جگہ پر پھیلنے والے وائرس سے پوری دنیا کو خطرات لاحق ہیں جسے کرونا (کورونا) وائرس نے ثابت کیا ہے۔ دنیا بھر میں مزید وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی بہت سی کوششوں میں برازیلی ٹیم کی کوشش بھی شامل ہے۔

یہ محض اتفاق نہیں کہ بہت سارے وبائی امراض کے ماہرین چمگادڑوں پر پوری توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔چمگادڑوں کو ایک سے زیادہ وائرسوں کا ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے جو حالیہ وبائی امراض کی وجہ بنے ہیں جن میں سارس، مرس، ایبولا، نیپاہ وائرس، ہیندرا وائرس اور ماربرگ وائرس شامل ہیں۔

2019 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ پانچ ممالیہ جانوروں میں سب سے زیادہ وائرس موجود ہوتے ہیں جن میں پرائمیٹ، چوہا، گوشت خور، سم دار جانور اور چمگادڑ شامل ہیں جبکہ چمگادڑوں میں موجود وائرس انسانوں میں بہت جلد منتقل ہو جاتے ہیں۔

چمگادڑ ایک متنوع گروہ ہے جس میں انٹارکٹیکا کے علاوہ ہر براعظم پر 1400 سے زیادہ اقسام پر پائی جاتی ہیں، لیکن ان تمام اقسام میں جو چیز مشترک ہے وہ انسانوں اور مویشیوں میں مہلک وائرس منتقل کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ خود چمگادڑ میں ان وباؤں کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مونٹانا سٹیٹ یونیورسٹی میں چمگادڑ پر تحقیق کرنے والی ماہر وبائی امراض رائنا پلورائٹ کہتی ہیں کہ 'چمگادڑ میں غیر معمولی قوت مدافعت ہوتی ہے اور اس کا تعلق ان کے پرواز کرنے کی صلاحیت سے ہے۔'

پلورائٹ اور چمگادڑوں پر تحقیق کرنے والے دوسرے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ارتقائی عمل ہے جو چمگادڑ کو اڑنے کے لیے درکار طاقت فراہم کرتا ہے، جب ان کی میٹابولزم کی شرح 16 گنا بڑھ جاتی ہے جو انہیں ان وائرسز سے اضافی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

کینیڈا میں میک ماسٹر یونیورسٹی میں وبائی امراض کے ماہر ارینجے بینرجی کا کہنا ہے کہ 'چمگادڑ کی قوت مدافعت کو سمجھنے سے سائنسدانوں کو اس کے وائرس منتقل کرنے کے طریقے کے حوالے سے بھی مدد مل سکتی ہے، جو مستقبل میں طبی طریقہ علاج میں مددگار ہو سکتی ہے۔'

بھارت میں بائیو ڈائیورسٹی اور انسانی بہبود کا ایک مشن 2018 سے زیر التوا ہے اور امکان ہے کہ یہ اگلے سال تک شروع ہو جائے گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک بھر میں وائرسز کی نگرانی کے لیے 25 سائٹس قائم کرنا ہیں۔

وائرسز کی نگرانی کے حوالے سے مختلف ممالک میں مختلف قسم کے نظام موجود ہیں لیکن سیاسی مسائل کے باعث یہ منصوبے وسائل کی کمی اور عدم توجہی کا شکار ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چمگادڑوں کو دشمن سمجھنا اور انہیں ختم کرنے کی کوششیں کرنا وائرسز پر قابو پانے میں مدد گار نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کا ایک حملہ بھارتی ریاست راجستھان کے دیہاتیوں  نے رواں سال بہار کے موسم میں کیا جب انہوں نے غیر آباد قلعوں اور محلات میں موجود سینکڑوں چمگادڑوں کو ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے قتل کر ڈالا۔

سائنسدانوں کے مطابق ایسے اقدامات مزید نقصان کا باعث ہو سکتے ہیں۔

کینیڈا میں سسکیچوان یونیورسٹی میں ماہر وبائی امراض وکرم مشرا کہتے ہیں کہ 'آپ چمگادڑوں پر جتنا دباؤ ڈالیں گے وہ اتنے وائرس پھیلائیں گی۔'

کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ چمگادڑیں ماحولیاتی نظام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں اور وہ مچھر جیسے کیڑے کھاتی ہیں۔

 1994 میں آسٹریلیا کے شہر برزبین کے نواح میں چمگادڑیں گھوڑوں میں ہیندرا نامی مہلک وائرس پھیلانے کا باعث بنی تھیں، جنہیں وہاں اڑنے والی لومڑیوں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

مونٹانا سٹیٹ یونیورسٹی ے ماہرین پلو رائٹ اور آسڑیلیا کے ماہرین چمگادڑوں کے لیے اصل گھروں کی بحالی کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسا سوچا جا رہا ہے کہ نئے جنگلات لگائیں جائیں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ چمگادڑیں پالتو جانوروں اور انسانی آبادیوں سے دور ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق