ٹک ٹاک پاکستان میں کنٹنٹ دریافت کا ترجیحی پلیٹ فارم: کمپنی

کمپنی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک محض ایک تفریحی پلیٹ فارم سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک محض ایک تفریحی پلیٹ فارم سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے (گرافک ٹک ٹاک)

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ صارفین اب اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایک ’ویڈیو فرسٹ‘ سرچ انجن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر جب وہ معلومات کو بصری انداز میں اور تیزی سے سمجھنا چاہتے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے جعمرات کو جاری ایک بیان کے مطابق 2026 میں ٹک ٹاک کا سرچ فیچردریافت کرنے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، جس کے ذریعے لاکھوں افراد نئی سوچ دریافت کرنے، عملی مہارتیں سیکھنے، تحریک حاصل کرنے اور اسی طرح کے دیگرکنٹنٹ سے وابستہ ہونے کے لیے اس پلیٹ فارم کا رخ کرتے ہیں۔ یہ اُن کی ثقافت، زبان اور روزمرہ زندگی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

لوگ اس پلیٹ فارم پر ایسی مختصر ویڈیوز تلاش کرتے ہیں جو معلومات کو فی الفور انداز میں دکھاتی، سمجھاتی اور سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ خواہ امتحان کی تیاری ہو، سفر کی منصوبہ بندی، تازہ خبروں تک رسائی یا کسی نئی مہارت کا حصول۔

یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ اب مستند، کری ایٹرزکی جانب سے ویڈیو کے ذریعے پیش کی گئی وضاحتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو قابلِ تعلق، عملی اور سمجھنے میں آسان ہوتی ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک محض ایک تفریحی پلیٹ فارم سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ٹک ٹاک اپنے سرچ فیچر کے ساتھ تجسس اور حقیقی زندگی میں کارآمد معلومات پر مبنی ایک متحرک اور بصری دریافت کا تجربہ بن گیا ہے۔

گذشتہ ایک برس کے دوران اس خطے میں تعلیم، ثقافت، کھانوں، سفر، حُسن، طرز زندگی، خبروں اور روزمرہ کے ’ہاؤ ٹو(How-To) ‘ لمحات سے متعلق تلاش میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اب لوگ سیکھنے، سمجھنے اور جُڑنے کے لیے ٹک ٹاک کا رخ کر رہے ہیں۔

اندرونی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کمیونٹی حقیقی دنیا سے تعلق رکھنے والے سوالات کے جوابات پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے تلاش کر رہی ہے۔ گذشتہ ایک برس کے دوران پاکستان میں متعدد مقبول کنٹنٹ سے متعلق ہیش ٹیگز کی تلاش میں نمایاں اضافہ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پلیٹ فارم کو دریافت کے ایک ذریعہ کے طور پر زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

TravelTok# سے منسلک تلاش میں 53 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ #FoodTok  کی تلاش میں 52 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ #StudyTok کی تلاش میں 60 فیصد اضافہ ہوا اور FitnessTok# میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سال بہ سال  کی بنیاد پر 66 فیصد تک پہنچ گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے ٹک ٹاک میں جنوبی ایشیا کے کنٹینٹ آپریشنز لیڈ، عمیس نوید کا کہنا ہے: ’پاکستان میں ہماری کمیونٹی ٹک ٹاک کے سرچ فیچر کو ایک قدرتی نقطہ آغاز کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جب وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی شے کس طرح کام کرتی ہے، کسی موضوع کو تیزی سے سمجھنا چاہتے ہیں، یا حقیقی لوگوں سے متاثر ہونا چاہتے ہیں۔جو شے ٹک ٹاک کو منفرد بناتی ہے وہ اس کی کمیونٹی کی مستند نوعیت ہے۔

’یہاں موجود کنٹنٹ انسانی، عملی اور حقیقی تجربات پر مبنی محسوس ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سرچ صرف معلومات تلاش کرنے کی جگہ نہیں بلکہ اُن نقطۂ نظر سے جُڑنے کا ذریعہ بن جاتی ہے جن پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔‘

محفوظ دریافت

ٹک ٹاک سرچ کا دائرہ جس طرح وسیع ہو رہا ہے، پلیٹ فارم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ صارفین اس پروڈکٹ کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کر سکیں۔

ٹک ٹاک کے سرچ انٹروینشنز فعال اِِن ایپ تجربات ہیں جو اُُس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب صارفین حساس یا زیادہ خطرے والے موضوعات تلاش کرتے ہیں، اور انہیں معتبر، معاون اور مستند وسائل کی جانب رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

سوال یا تلاش کی نوعیت کے مطابق، ان اقدامات میں درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:

•       ذہنی صحت میں معاونت، جس میں مقامی ہیلپ لائنیں اور بہبود کے وسائل ،

•       بحران میں رہنمائی، جیسا کہ قدرتی آفات یا تیزی سے بدلتے ہوئے ہنگامی حالات میں،

•       غلط معلومات کے بارے میں ہدایات، جو قابل اعتماد ذرائع سے تصدیق کرنے کی ترغیب دیتی ہیں،

•       اورہراس، تشدد یا عوامی تحفظ جیسے حساس مسائل کے بارے میں آگاہی  کی فراہمی۔

پاکستان میں، ٹک ٹاک نے امنگ پاکستان (Umang Pakistan) جیسے مقامی اداروں کے ساتھ شراکت کی ہے، جس سے کمزور لمحات میں ثقافتی اور لسانی طور پر متعلقہ مدد تک براہ راست رسائی ممکن ہوئی ہے۔ انتخابات، آفات کے ردعمل، اور تنازعہ سے متعلق موضوعات کے حوالے سے اضافی ذرائع استعمال کیے گئے ہیں تاکہ صارفین کو ذمہ دارانہ اور سیاق و سباق کے مطابق درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔

اس موضوع پر ٹک ٹاک میں جنوبی ایشیا کی ریجنل ٹرسٹ اینڈ سیفٹی لیڈ، اسما انجم کہتی ہیں: ’سرچ کے حوالے سے ہمارا نقطۂ نظر بنیادی طور پر سیفٹی بائی ڈیزائن پر مبنی ہے۔سرچ انٹروینشنز اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ جب کوئی مدد تلاش کرے یا کسی حساس موضوع کا سامنا کرے، تو اسے بہبود، درستگی اور سماجی ذمہ داری پر مبنی رہنمائی فراہم کی جائے۔‘

سرچ کا مستقبل

دریافت کی غرض سے ٹک ٹاک کے استعمال کرنے میں اضافہ خطے میں ایک اہم  رجحان کی عکاسی کرتا ہے: لوگ معلومات کو بصری، سادہ اور مستند انداز میں حاصل کرنا چاہتے ہیں خواہ نئی دلچسپیاں دریافت کرنا ہو، امتحان کی تیاری ہو، سفر کی ترغیب، کرکٹ پر ہونے والے بات چیت  کوفالو کرنا، یا عملی زندگی کی مہارتیں سیکھنا، ٹک ٹاک ایک ایسا مقام بن چکا ہے جہاں صارفین اپنے زبان بولنے والے اور اپنی کمیونٹی کی عکاسی کرنے والے قابلِ تعلق کری ایٹرز سے وابستہ محسوس کرتے ہیں۔

ٹک ٹاک جنوبی ایشیا میں اپنی پروڈکٹ کی جدت، حفاظتی ڈھانچے اور مقامی شراکتوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے، سرچ پلیٹ فارم پر کنٹنٹ دریافت کرنے، علم میں اضافہ کرنے اور معنی خیز روابط قائم کرنے کے طریقے کا ایک مرکزی حصہ بنا رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی