’فراڈ،‘ اونچے سروں کا ڈراما

صبا قمر تو کردار میں ڈھل جاتی ہیں۔ ڈراما ’فراڈ‘ میں بھی وہ ایسی ڈھلی ڈھلائی لڑکی کا کردار اتنی خوبصورتی سے ادا کر رہی ہیں کہ درد خود چیخ اٹھتا ہے۔

یہ ڈراما مڈل کلاس کی اس سوچ کو ضرب لگا رہا ہے کہ دولت خوشیوں کی ضامن ہوتی ہے (آئی ڈریم انٹرٹینمٹ/اے آر وائی)

’دل پہ جب ماں باپ کے بھروسے اور تربیت کا بوجھ ہو تو کسی غیر مرد کے لیے پیار کی گنجائش نہیں ہوتی۔‘

اے آر وائی پر نشر ہونے والا ’فراڈ‘ جتنے اونچے سروں کا ڈراما لگ رہا تھا، دیکھ کر اندازہ ہوا کہ موضوع کی اٹھان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ معاشرے نے بہت رنگ بدل لیے ہیں، بہت ریت رواج تبدیل ہوئے، لیکن ہوا یہ کہ جیسے ہر نئی ایجاد نے ہمیں آرام و آسائش دیا مگر سکون اور راحت چھین لی۔ اسی طرح ان تغیرات نے بھی ہمیں کافی حد تک مادہ پرستی کو حقیقی خوشی سمجھنے پر اس لیے مجبور کر دیا کہ ہر آرام آسائش اور سہولت مادیت سے جڑ گئی۔

آغاز میں جو مکالمہ ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مڈل کلاس کی لڑکیوں کی تربیت کن پیمانوں پہ ہوتی ہے کہ انہیں ہر صورت عزت کے نام پہ خواہش یا محبت کی قربانی دینی ہے۔ اول تو وہ محبت نامی شے سے کبھی آشنا ہی نہیں ہو سکتیں، کشش سے ہی بھاگ جاتی ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں سب خواب شادی سے جوڑے جاتے ہیں، شاید محبت بھی۔

صبا قمر تو کردار میں جان ڈال دیتی ہیں، کردار میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہاں بھی وہ مایا کے کردار میں ایسی ڈھلی ڈھلائی لڑکی کا کردار اتنی خوبصورتی سے ادا کر رہی ہیں کہ درد خود چیخ اٹھتا ہے۔

وہ اپنے کزن نائل کو پسند بھی کرتی ہے مگر اپنے والدین کو کہہ بھی نہیں سکتی۔ خاندانی پن کے نام پہ کی گئی تربیت سب سے پہلے ان بچیوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں چھینتی ہے، اس کے بعد قسمت ساتھ نہ دے تو زندگی بھی کھا جاتی ہے۔

اور یہی خاندانی پن لڑکوں سے بھی غربت کے نام پر ان خوشیوں کو چھین لیتا ہے، اس کے بعد اس مردانہ معاشرے کا آغاز ہوتا ہے جس میں ہم جواز تلاش کرتے رہتے ہیں۔

اب اسے ہم فراڈ کہیں یا والدین کی ضد اور خواہش کہیں ، یہ دیکھنے والے نے خود طے کرنا ہے۔ کہانیاں ڈرامے صرف وہ تصویر دکھا رہے ہوتے ہیں جو ہمیں آئینے کے اس پار سے نظر نہیں آ رہی ہوتی-

ہم جو سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں وہ یہ کہ اپنی بیٹیوں کو اپنی محرومیوں کے خواب دے دیتے ہیں، زندگی کا مقابلہ کرنا نہیں سکھاتے۔ یہ نہیں سکھاتے کہ ہم ہار بھی سکتے ہیں، اور مادیت پہ توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اسے خوشیوں کا ضامن سمجھ لیتے ہیں۔

اس کے برعکس سارا بوجھ لڑکوں پہ کم عمری میں ڈال دیتے ہیں۔ ابھی انہوں نے جوانی کو جیا بھی نہیں کیا ہوتا اور انہیں پتہ ہوتا ہے کہ انہیں اپنی ماں اور بیوی بچوں کے لیے بہت کمانا ہے تاکہ جو محرومیاں اس نے دیکھی ہیں وہ اس کی اگلی نسل کو نہ دیکھنا پڑے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکثر جس شے کا ہم انتخاب کرتے ہیں اسی سے ہار جاتے ہیں۔ جس کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں وہیں سے مات ہوتی ہے۔

مایا کے والد بھی اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ ایسا ہی کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ناممکن انہیں اس لیے نہیں لگ رہا کہ ایک محلے دار کی بیٹی کی کسی امیر گھر میں شادی ہو گئی ہے وہ بڑی گاڑی میں آتی جاتی ہے۔ لہٰذا وہ کسی آن لائن میج سائٹ سے رشتہ تلاش کرنے میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں مگر حالات و واقعات چغلی کھا رہے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہونے جا رہا ہے۔

ماں کو خدشہ ہے۔ باپ کو وہ بھی نہیں ہے، اک ملال ہے وہ کب پیچھا چھوڑتا ہے۔ دوسری طرف ایک امارت زدہ گھرانے کی کہانی ہے جس میں سوتیلی ماں نے گھر کی جنت کو دوزخ میں بدل ڈالا ہے، یہ اس مڈل کلاس سوچ کو ضرب لگا رہی ہے کہ دولت خوشیوں کی ضامن ہوتی ہے۔

دولت سے دنیا تو خریدی جا سکتی ہے خوشیاں اور سکون نہیں خریدا جا سکتا جو جینے کے لیے سب سے اہم دوا وغذا ہے۔

مرد رائٹر جب ڈراما لکھتا ہے تو مردانہ احساسات کی جزئیات بہت عمدگی سے بیان کرتا ہے، مرد اپنے پورے کردار میں دکھائی دیتا ہے، لیکن افسوس اردو ادب میں مرد ابھی سچے مردانہ جذبے بہت ہی کم لکھ سکا ہے۔

یہ کہانی ہر طرح کے رشتوں کی دھوکے بازی کا چہرہ بہت شگفتگی سے دکھا رہی ہے، لیکن اس کا مقصد یہ بھی نہیں کہ ہر طرف دھوکے بازی ہے۔ انسان نے اپنے اخلاص سے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ وہ اخلاص یہاں بھی موجود ہے باقی وقت خود رستے بنا کر سب کچھ عیاں کر ہی دیتا ہے۔

ڈرامے کا آغاز بہت علامتی ہے۔ مایا خواب دیکھتے ہوئے اٹھتی ہے، کچھ ایسے ہی خواب جو بےعملی کی زندگی میں ہر لڑکی کو دکھائے نہ بھی جائیں تو آ جاتے ہیں۔

زین جبرائیل عاصم نے ڈراما لکھا ہے اور مرد رائٹر جب ڈراما لکھتا ہے تو مردانہ احساسات کی جزئیات بہت عمدگی سے بیان کرتا ہے، مرد اپنے پورے کردار میں دکھائی دیتا ہے، لیکن افسوس اردو ادب میں مرد ابھی سچے مردانہ جذبے بہت ہی کم لکھ سکا ہے۔

ڈرامے نے اس حوالے سے کافی ترقی کی ہے۔ مصنف نے مکالمے اور کہانی کی اٹھان عمدہ اٹھائی ہے۔ معاشرے کی موجودہ تصویر کی عکاسی کرنے میں کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔

مایا کی شادی مادیت سے ہو گئی ہے اب دیکھتے ہیں خوشیاں ملتی ہیں یا کچھ اور ہوتا ہے۔ ویسے حویلیوں کے دکھ بھی حویلیوں کی طرح ہوتے ہیں، باہر سے بہت شاندار عمارت اور اندر سے دیمک زدہ۔

ڈرامے کی موسیقی بہت ہی اعلیٰ ہے، روح کا کام کر رہی ہے، اب کیا کریں عجب سچ ہے کہ انسان روتا اور ہنستا اپنے اندر کی زبان سے ہے۔ گیت کے بول ہیں:

میرے دلدار صنم، کیا تو نے کیا ستم
تیرے پیار میں ہوئے رسوا

دیکھتے ہیں کہ کیا ستم ہوتا ہے اور کون رسوا ہوتا ہے، کون دلدار نکلتا ہے اور کون رقیب کے منصب پہ فائز ہوتا ہے، کیونکہ انسان صرف اپنے دوستوں سے نہیں، اپنے دشمنوں سے بھی پہچانا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی