ایسی ٹائلز جن پر چلنے سے بجلی پیدا ہوتی ہے

غالب اور علی کے بنائے ہوئے ماڈل میں ایک ٹائل 15 واٹ بجلی بناتی ہے اور چھ ٹائلز کی وجہ سے پورا پینل مجموعی طور پر 90 سے 95 واٹ بجلی پیدا کرتا ہے جو بیٹری میں محفوظ ہوجاتی ہے۔

اقرا یونیورسٹی کراچی میں الیکٹرانک انجینئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے دو طالب علموں، غالب ندیم اور علی اکبر، کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں پہلی بار ایسی ٹائلز تخلیق کی ہیں جن سے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔

ان ای ایف جی ٹائلز پر چلنے سے اے سی کرنٹ بنتا ہے جسے ریکٹیفائر کے ذریعے ڈی سی کرنٹ میں تبدیل کرکے بیٹری میں محفوظ کرلیا جاتا ہے۔

غالب اور علی کے بنائے ہوئے ماڈل میں ایک ٹائل 15 واٹ بجلی بناتی ہے اور چھ ٹائلز کی وجہ سے پورا پینل مجموعی طور پر 90 سے 95 واٹ بجلی پیدا کرتا ہے جو بیٹری میں محفوظ ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ای ایف جی ٹائلز کو زمین میں نصب کرنے کے لیے صرف دو فٹ کھدائی کی ضرورت ہے جس کے بعد 40 سے 45 سال تک انہیں کسی قسم کی مرمت کی ضرورت نہیں۔

غالب ندیم کا کہنا ہے کہ ای ایف جی ٹائلز کا عمل شمسی توانائی سے بننے والی بجلی سے بھی ذیادہ مفید اور سستا ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل