ہریالی، دھواں اور راکھ

اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے کے مطابق بلوچستان کے چلغوزے کے درختوں کے دوبارہ اگنے اور پیداوار کو موجودہ سطح تک پہنچنے میں 100 سال لگیں گے۔

بلوچستان کے جنگلوں میں آگ سے جانوروں اور پودوں کا بےتحاشا نقصان ہوا (سالمین خپلواک)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں لگی آگ کے پس منظر میں ویڈیو بنانے والی ٹک ٹاکر ڈولی کو عدالت سے آزادی کی ضمانت مل گئی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ کہ اس کا کوئی ثبوت عدالت کے سامنے موجود نہیں ہے کہ آگ ڈولی نے خود لگائی ہو۔

لیکن یہاں مسئلہ ڈولی کی رہائی کا نہیں بلکہ اس فکر کا ہے کہ ہرے بھرے پیڑ پودوں میں اکثر لگنے والی آگ لگاتا کون ہے اور اگر خود لگتی ہے تو کیسے؟ مزید یہ کہ اس کی روک تھام کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے اور کچھ کیا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔ ایک تازہ اطلاع کے مطابق وادیِ سوات اور دیر کے جنگلات میں بھی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

پچھلے کچھ عرصے میں تواتر سے اسی قسم کی شعلہ بھری اور دھواں دیتی خبریں سامنے آئی ہیں تو لازم ہوا کہ ان سر سبز پیڑ پودوں کی بے زبانی کی ترجمانی کی جائے جو ماحول میں سانس کا توازن رکھنے کے لیے ہم انسانوں کی خاطر اپنا آکسیجن بھرا وجود صدیوں سے قائم رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہم انسان، ماحول بگاڑنے کے ناقابلِ اصلاح عوامل کے ذریعے ان کا ہرا بھرا وجود خطرے میں ڈالتے رہتے ہیں۔ سائنس کی رو سے نباتات کا شمار زندہ چیزوں میں ہوتا ہے، ہمارا احساس بھی یہی سمجھتا ہے۔

ٹک ٹاکر کی شعلہ بداماں ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پہ وائرل کرنے کا آنچ دیتا شوق اپنی جگہ لیکن اس کے علاوہ کوہ سلمان کے قیمتی چلغوزے اور زیتون کے جنگل میں بے قابو آگ کی تباہ کاریاں اور اسلام آباد کے خوبصورت پیڑوں اور گرین بیلٹ کو ایک سیاسی پارٹی کے احتجاجی ورکروں کی جانب سے نذرِ آتش کرنے کا دھواں دار عمل اور اس کے اثرات بھی کہیں آس پاس گُھوم رہے ہیں۔

احتجاجی پیڑول اور ماچس بردار جتھوں کے مطابق یہ آگ خود کو آنسو گیس کے دھویں سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھی۔ دھویں کا دف، دوسرے دھویں سے مارنے کے اس انوکھے اور مابعدالجدید طریقۂ علاج پہ تحقیق کے لیے ماہرِ نباتات و کیمیات کے لیے میدان کُھلا ہے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ درخت جلنے کے نقصانات اپنی نوعیت میں ماحول دشمن ہی ٹھہرے، بھلے آگ کے محرکات کتنے ہی الگ الگ کیوں نہ ہوں۔ بلوچستان کے شمالی علاقے شیرانی میں دس لاکھ مربع میل پہ ساڑھے چھ لاکھ درختوں کو کھا جانے والی آگ سے نہ صرف مہنگے چلغوزے کی پیداوار اور مارکیٹ سے وابستہ ہزاروں پیشہ وروں کا روزگار متاثر ہوا ہے بلکہ وہاں بسنے والی حیات بھی تباہ ہو گئی ہے۔

جنگل اور اس کے درخت ان گنت پرندوں کا مسکن اور جانوروں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں، یہ پناہ گاہیں اجڑنے سے جانور خاص طور پہ اس علاقے میں بسنے والے مارخور اپنے در بدر ہونے کی کہانی بھی کسی کو نہیں سُنا سکتے۔ بس زبانِ حال سے اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ’خموشی گُفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری۔‘

شاید اپنی معصوم اشک بھری آنکھیں اٹھا کے آسمان پہ گھومتے اس ایرانی ہیلی کاپٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوں جو آیا اور پانی برسا کے آگ بجھاتا رہا۔ انہیں خبر تو ہو گی کہ ہم خود کام کی مشینری رکھنے پہ ایمان نہیں رکھتے۔

دنیا بھر کےتحقیقی مواد کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ جنگل کی آگ لگنے کے اسباب میں سے بڑھتا ہوا درجۂ حرارت سب سے اہم ہے۔ لیکن کبھی کبھی انسانی غلطی سے ایک خشک چنگاری بھی بڑے پیمانے پر ہریالی کو دھویں اور راکھ میں تبدیل کر سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک چنگاری بھڑکتی ہے کہیں اور اس کے بعد
خشک جنگل میں ہوا سے پھیلتی جاتی ہے آگ

کہیں کہیں درختوں کے غیر قانونی کٹاؤ کو چُھپانے کے کیے بھی جان بوجھ کر آگ لگا دی جاتی ہے۔

اب یہ بات کون نہیں جانتا کہ درخت زمین کے ماحولیاتی نظام کا لازمی جُزو ہیں۔ زمین اور ماحول کا زہریلا مواد جذب کر کے زندگی بخش آکسیجن دینے والے پیڑوں کو اپنے ہاتھ سے آگ لگانے والے کیا جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

زمین سے جنگل جس تیزی سے غائب ہو رہے ہیں اس میں قوموں کی بے لگام معاشی خواہشات کا کتنا دخل ہے؟

ملیشیا اور انڈونیشیا میں پام آئل کی کاشت لاکھوں سال پرانے رین فاریسٹ کی قیمت پہ ہو رہی ہے اور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ایک مشاہدے کے مطابق بے تحاشا جنگلوں کے کاٹے جانے سے علاقے کی بارشوں کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے۔

گلوبل فاریسٹ واچ کا کہنا ہے کہ پندرہ بیس سال کے دوران صرف انڈونیشیا میں جتنے بڑے پیمانے پر جنگل کاٹ کے پام آئل کی کاشت کی گئی ہے وہ رقبہ نیوزی لینڈ کے رقبے کے برابر ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے برساتی جنگل ایمیزون میں بھڑکتی آگ کے اثرات نے پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو جھٹکا دیا ہے۔

کیلیفورنیا کے جنگلات کی آگ بھی کم مشہور نہیں جو علاقے کا درجۂ حرارت 50 ڈگری تک لے جایا کرتی ہے اور بجھنے کا نام نہیں لیتی اور آنسو بھی پکار اٹھتے ہیں کہ

یہ جنگلوں کی آگ ہے اس کو بجھائے کون!

واپس بلوچستان میں چلغوزے کے جنگلات میں لگی آگ کی طرف پلٹتے ہوئے یہ بتانا تھا کہ اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے کے مطابق ان درختوں کے دوبارہ اگنے اور پیداوار کو موجودہ سطح تک پہنچنے میں 100 سال لگیں گے۔

ہماری نسل کہہ سکتی ہے کہ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔ لیکن پیڑ لگانے اور پھل کھانے کے درمیان کم از کم ایک نسل کا فاصلہ تو ہوتا ہی ہے۔

فی الحال تقریباً پونے سات لاکھ میٹرک ٹن پیداوار سے پونے تین ارب روپے کی آمدنی راکھ ہو چکی۔

دھوئیں اور راکھ سے کیا کیا خیال آنے لگے۔

مستنصر حسین تارڑ کا ناول ’راکھ‘ جس کو پڑھ کے غالب شرطیہ یاد آئیں کہ

جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ، جُستجو کیا ہے!

کاش یہ راکھ وہ ہو جس سے ہریالی کا فینکس دوبارہ جنم لیتا ہو۔


یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ