کیا پرامید رہنے والے افراد کی عمر لمبی ہوتی ہے؟

تحقیق کے مطابق امید پسند افراد کو ٹینشن کم ہوتی ہے، انہیں نیند اچھی آتی ہے، حتیٰ کہ ان کا دل بھی بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے اور آپ کیسے اپنے آپ کو پرامید بنا سکتے ہیں؟

پرامید رہنے والے لوگوں کا طرزِ زندگی بھی صحت مندانہ ہوتا ہے (پکسا بے)

کیا آپ گلاس کو آدھا خالی نہیں بلکہ آدھا بھرا ہوا دیکھتے ہیں؟ کیا آپ کی نظر ہمیشہ زندگی کے روشن پہلو دیکھتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کے لیے یہ امر باعث حیرت ہو گا کہ یہ رجحان درحقیقت آپ کی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امید پسند افراد نہ صرف کم اعصابی تناؤ، اعلیٰ سطح کی تندرستی اور اچھی نیند سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ ان کا دل اور مدافعاتی نظام بھی بہتر طریقے سے اپنے امور سرانجام دیتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرامید ہونے کا لمبی عمر سے گہرا تعلق ہے۔

اس بات کا مطالعہ کرنے والے محققین نے 26 برس تک 50 سے 79 سال کی تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار خواتین کی مدت حیات کا جائزہ لیا۔ مطالعے کے آغاز میں خواتین نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک ایسی رپورٹ پُر کی جس کا مقصد ان کی رجائیت پسندی (امید پسندی) کی پیمائش کرنا تھا۔ پیمائش میں سب سے زیادہ سکور کرنی والی خواتین کی درجہ بندی امید پرست کے طور پر کی گئی جبکہ کم سکور کرنے والی خواتین کو مایوسی کا شکار سمجھا گیا تھا۔

پھر 2019 میں محققین نے ان شرکا میں سے جو زندہ تھے، ان کے ساتھ دوبارہ ایسا سیشن منعقد کیا۔ انہوں نے اس دوران موت کا شکار ہو جانے والے شرکا کی عمروں کا بھی جائزہ لیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جن لوگوں میں امید کی سطح زیادہ تھی ان کے طویل عرصے تک زندہ رہنے کے امکانات بھی زیادہ تھے۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اب 90 کی دہائی میں ناامید رہنے والوں کے مقابلے میں پرامید لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی۔ ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کی کم و بیش 83 سال کی اوسط عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے محققین اسے ’غیر معمولی طویل عمری‘ کہتے ہیں۔ جو چیز ان نتائج کو خاص طور پر متاثر کن بناتی ہے وہ یہ ہے کہ طویل عمری کے معاملے میں ممکنہ طور پر اثرانداز ہونے والی تعلیمی اور اقتصادی حیثیت، نسل، فرد کے کسی دباؤ یا دائمی مرض میں مبتلا ہونے کی حالت وغیرہ جیسے دیگر عوامل کو شمار کرنے کے بعد بھی یہ برقرار رہتے ہیں۔

لیکن چونکہ یہ نتائج صرف خواتین کا جائزہ لینے کے بعد مرتب کیے گئے تھے اس لیے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مردوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوگا، تاہم ایک اور تحقیق جس میں مرد اور خواتین دونوں شامل تھے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اعلیٰ ترین پرامیدی کے حامل افراد نے کم پرامید افراد کے مقابلے میں 11 سے 15 فیصد زیادہ عرصہ زندگی بسر کی۔

پرامیدی آب حیات ہے؟

مگر ایسا کیوں ہے کہ پرامید لوگ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں؟ پہلی نظر میں ایسا گمان گزرتا ہے کہ شاید اس چیز کا تعلق ان کے صحت مندانہ طرزِ زندگی سے جڑا ہو۔

مثال کے طور پر متعدد جائزوں سے سامنے آنے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پرامیدی کا تعلق صحت مند غذا کھانے، جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنے اور سگریٹ نوشی کے بہت کم امکان سے جڑا ہے۔ یہ صحت مندانہ طرزِ عمل دل کی صحت کو بہتر بنانے اور قلبی امراض کے خطرات کو کم کرنے کے لیے معروف ہیں، جو عالمی سطح پر موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ذیابیطس اور کینسر جیسی دیگر ممکنہ جان لیوا بیماریوں کا خطرہ کم کرنے کے لیے بھی صحت مندانہ طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے۔

لیکن صحت مندانہ طرزِ زندگی ان بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ جن کے باعث پرامید افراد زندگی کے اوسط دورانیے کی نسبت زیادہ لمبی مدت تک جیتے ہیں۔ اس تازہ ترین تحقیق سے پتہ چلا کہ لمبی عمر اور امید پرستی کے باہمی تعلق میں طرز زندگی کا کردار محض 24 فیصد ہے۔ اس جائزے کے مطابق امید پسندوں کی طویل زندگی کا راز کئی اور دیگر عوامل میں بھی پوشیدہ ہے۔

ایک اور ممکنہ سبب امید پسندوں کی تناؤ کے لمحات سے بہتر انداز میں نمٹنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ جب کسی دباؤ والی صورت حال کا سامنا ہو تو پرامید لوگ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ موافقت پذیری کے راستے تلاش کرتے ہیں جو انہیں تناؤ کی دلدل سے نکلنے یا صورت حال کی شدت کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسی کسی صورت حال میں پھنسنے کے بعد امید پسند مسائل کو حل کرنے اور تناؤ سے نمٹنے کے طور طریقوں پر غور کریں گے، دوسروں سے تعاون حاصل کرنے کے لیے انہیں کال کریں گے، یا اس اندھیرے کی کوکھ سے روشنی پھوٹنے کی امید لگا لیں گے۔

یہ تمام اقدامات تناؤ کی کیفیات اور ان کے حیاتیاتی ردعمل کو کم کرنے کے لیے معروف ہیں۔ یہ تناؤ کے بعد پیدا ہونے والے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافے، مدافعتی نظام کی خرابی اور بلند کورٹیسول (جسے بعض اوقات ’سٹریس ہارمون‘ یعنی تناؤ پیدا کرنے والا ہارمون بھی کہا جاتا ہے) جیسے حیاتیاتی ردعمل ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے تباہی کا باعث اور دل کے امراض جیسی جان لیوا بیماریوں کا سبب بننے لگتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں امید پسند انسان تناؤ سے نمٹنے کی بہتر حکمت عملی اپنا کر ان کے مضر اثرات سے خود کو کسی حد تک محفوظ رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔

روشن پہلو کو دیکھنا

سائنس دانوں کے نزدیک بالعموم امید پسندی کو شخصیت کی نسبتاً مستحکم خاصیت تصور کیا جاتا ہے، جس کا تعین جینیات اور ابتدائی بچپن کے تجربات سے ہوتا ہے (ابتدائی بچپن کے تجربات جیسا کہ آپ کا اپنے والدین یا شروع میں دیکھ بھال کرنے والے افراد کے ساتھ محفوظ اور گرمجوشی پر مبنی تعلقات)۔ لیکن اگر فطری طور پر آپ کی نظر کسی چیز کے منفی پہلو پر جاتی ہے یا آپ گلاس کو آدھا بھرا ہوا کے بجائے آدھا خالی دیکھتے ہیں تو کچھ ایسے طریقے ہیں جن کی مدد سے آپ پرامید ہونے کی اپنی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیق کے مطابق امید پسندی کا بیج بویا جا سکتا ہے اور سادہ سی چند مشقوں کے ذریعے کچھ عرصے بعد اس کی فصل کاٹی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر تصور کرنا اور پھر ’اپنے آپ کو بہترین ممکنہ مقام پر رکھنا‘ (کہ مستقبل میں آپ کہاں کھڑے ہوں گے، کون کون سے حاصل کرنے والے اہداف آپ حاصل کر چکے ہوں گے) ایک ایسا طریقہ ہے جو تحقیق کی رو سے کم از کم عارضی طور پر آپ کی مایوسی کم کر کے امید کی لو بڑھا سکتا ہے، لیکن بہترین نتائج کے لیے ضروری ہے کہ اہداف محض خواہش مندانہ سوچ کے بجائے مثبت اور معقول ہوں۔ اس طرح مستقبل کے مثبت واقعات کے متعلق سوچنا بھی امید کی سطح بلند کرنے کے لیے کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ چیز بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ آپ کامیابی سمیٹنے کی اپنی ممکنہ توقعات میں کسی بھی وقت اپنی بساط کا درست ادارک کرتے ہوئے ان میں رد و بدل کر سکیں۔ امید اس وقت تقویت پاتی ہے جب ہم ان مثبت نتائج کا تجربہ کرتے ہیں جن کی ہمیں توقع ہو اور جب یہ نتائج ہماری توقعات کے خلاف آئیں تو امید کا جذبہ کمزور پڑتا ہے۔ اگرچہ اس پر مزید تحقیق ہونی چاہیے لیکن ممکنہ طور پر ہمیشہ اپنے اقدامات کے اچھے نتائج کو ذہن میں رکھنا اور ان کے حصول کے لیے حقیقت پسندانہ اقدامات اٹھانا ایک پرامید ذہینت کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ 

یقیناً کچھ لوگوں کے نزدیک یہ محض کہنے کی باتیں ہیں جنہیں عملی طور پر کر کے دکھانا اتنا آسان نہیں۔ اگر آپ ایک ایسے شخص ہیں جو طبعاً پرامید نہیں تو جسمانی طور پر متحرک رہتے ہوئے، صحت مند غذائیں کھاتے ہوئے، تناؤ پر قابو پا کر اور رات کی اچھی نیند لے کر ایک صحت مندانہ طرزِ زندگی سے اپنے لیے طویل عرصے تک زندہ رہنے کا امکان بڑھا سکتے ہیں۔

اس میں ایک اور چیز کا اضافہ کر لیجیے، پرامید ذہینت یعنی زندگی کے خوشگوار پہلو دیکھنے کی روش۔ اس سے آپ کی زندگی کا دورانیہ مزید پھیل سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر پہلے ’دا کنورسیشن‘ میں شائع ہوئی تھی اور یہاں اس کا ترجمہ ان کی اجازت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی مصنفہ پروفیسر فوشیا سروئس برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی میں سوشل اینڈ ہیلتھ سائیکالوجی پڑھاتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت