حج نامہ 2022: حجاج کی تیاری کیا ہونی چاہیے؟

حج کا مطلب ہے قصد یا ارادہ کرنا۔ لہذا انڈپینڈنٹ اردو نے بھی اس سال کے حج کی خصوصی حیثیت کو سمجھتے ہوئے اس کی خصوصی کوریج کا انتظام کیا ہے۔

حج کا مطلب ہے قصد یا ارادہ کرنا، انڈپینڈنٹ اردو نے اس سال کے حج کی خصوصی کوریج کا عزم کیا ہے۔ انڈپینڈنٹ کی ٹیم پاکستان اور سعودی عرب سے آپ کو اس فریضے کی ادائیگی کے عمل سے باخبر رکھنے کی پوری کوشش کرے گی۔ ہم حجاج اور حکام سے بات کریں گے اور ان کی کہانیاں آپ تک پہنچائیں گے۔

حجاج یقینا علما سے فرائض کی ادائیگی کے بارے میں ہدایت حاصل کرتے ہیں لیکن اس کوریج کی پہلی کڑی میں عازمین حج کو سفر پر جانے کے لیے کن اشیا کی ضرورت ہوگی اس بارے میں یہ پہلے رپورٹ حاضر ہے۔

حجاج کو کس قسم کا احرام لینا چاہیے، بغیر خوشبو کے صابن اور شیمپو کون سا اچھا ہے اور انتہائی اہم چیز چپل کون سے پہنے جائیں۔ 

کرونا (کورونا) کی وبا سے قبل 24 لاکھ فرزندان توحید نے حج کی سعادت حاصل کی تھی۔ لیکن بعد میں سفری پابندیوں اور مشکلات کی وجہ سے دو سال انتہائی محدود تعداد میں حج منعقد ہوا۔ 2021 میں صرف چند ہزار لوگوں کو حج کرنے کی اجازت دی گئی جب کے اس سے ایک سال پہلے صرف ایک ہزار نے ادا کیا۔

دنیا بھر میں کامیاب ویکسی نیشن سے کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد اس مرتبہ پھر بڑی لیکن احتیاط کی وجہ سے محدود تعداد میں ححاج سعودی عرب مذہبی فریضے کے لیے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس سال دس لاکھ عازمین کو یہ سعادت نصیب ہوگی۔ پاکستان سے 81 ہزار عازمین حج کرنے جائیں گے۔

سعودی عرب کی حج و عمرہ کی وزارت نے کہا کہ اسلام کے مقدس ترین مقام مکہ میں سالانہ زیارت کی اجازت صرف ان لوگوں کو دی جائے گی جنہوں نے کرونا کے خلاف مکمل ویکسین لگوائی ہے اور جن کی عمریں 65 سال سے کم ہیں۔

سکیورٹی انتظامات

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے مختلف ایجنسیوں اور دیگر حکومتی اداروں کی کوششوں، منصوبوں اور اقدامات کے تسلسل میں اس سال کے لیے بیت اللہ کے زائرین کی خدمت کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

العربیہ اردو کے مطابق محکمہ دفاع عازمین حج کی رہ نمائی، ان کی حفاظت اور انہیں ہرقسم کی سہولیات کی فراہمی میں دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ حجاج کو مناسک حج کی ادائی میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

طائف کے علاقے کی قیادت وزارت دفاع کے تمام یونٹس کی عمومی اور براہ راست نگرانی کے فرائض سنبھالے گی۔ وزارت داخلہ کو امن و امان برقرار رکھنے اور معمول کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے عمومی منصوبے پر عمل درآمد میں سکیورٹی سپورٹ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

وزارت دفاع ہنگامی طبی امداد اور مذہبی رہنمائی فراہم کرنے کے علاوہ، حجاج کے کیمپوں میں ان کی میزبانی کا انتظام کرنے، حج کی سلامتی کو درہم برہم کرنے والے کسی بھی واقعے کے وقوع پذیر ہونے کو روکنے کے لیےاور اندرون اور بیرون ملک سے آئے عازمین حج کو فول پروف سکیورٹی مہیا کرنے میں وزارت داخلہ کے ساتھ معاونت کرے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بری افواج کو مختلف عسکری علاقوں کی متعدد ملٹری پولیس کمپنیوں کی مدد حاصل ہے تاکہ ہجوم کے انتظام اور مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے صحن میں حجاج کی نقل و حرکت کو منظم کرنے میں وزارت داخلہ کی مدد کی جا سکے۔ وزارت دفاع حجاج کرام کے قیام اور آمد ورفت کے راستوں کی صفائی، خطرناک مواد کا پتہ لگانے اور حج کے دوران گڑ بڑ پیداکرنے کی کوششوں کا تدارک کرنے میں پولیس کی مدد کرے گی۔

سعودی عرب کی رائل یئر فورس ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی اور تحفظ کی متعدد ذمہ داریوں کی انجا دہی کرے گی۔ ہوائی اڈوں پر خطرناک مواد کا پتہ لگانے کے لیے تکنیکی ماہرین کے ساتھ ایئر پورٹس پر چیکنگ کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ مقدس مقامات پر ایئر فورس کے دستے میں ضروری طیارے فراہم کرے گی اور حج کے دوران وزارت دفاع فضائی جائزہ لیتی رہے گی۔

ماحولیاتی تحفظ اور وبائی امراض کا کنٹرول

العربیہ اردو کے مطابق صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے سربراہ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز السدیس نے ’ماحولیاتی تحفظ اور وبائی امراض کے کنٹرول کے محکمہ‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

ماحولیاتی تحفظ کے اس نظام کے لیے 650 سے زیادہ کارکنان اور 100 سعودی ملازمین کو مقرر کیا گیا ہے۔ فی الحال ایک سال کے دوران مسجد حرام اور اس کی سہولیات میں جراثیم سے ماحول کو پاک کرنے کے آپریشنز کے نگران منصوبوں اور ایگزیکٹو پروگراموں کو نافذ کرنے کے لیے 24 گھنٹے کی بنیاد پرکام کر رہے ہیں۔

مسجد حرام کے اندر ماحول کو پاک اور صاف رکھنے کے لیے 1300 آلات اور جراثیم کشی کے 650 موبائل پمپ فراہم کیے گئے ہیں تاکہ مسجد کی سطح، قالینوں، اندرونی مقامات اور مسجد کے صحن کوجراثیم سے پاک کیا جا سکے۔

مسجد حرام میں ماحولیاتی حفاظتی خدمات کی ترقی میں جدید تکنیکی ذرائع ایک لازمی عنصر کے طور پر ابھرے ہیں۔ ماحولیاتی حفاظت کی خاطر روبوٹ تیار کیے گئے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایک ہی وقت میں ایک سمارٹ ورک سسٹم کے ذریعے ماحول اور سطحوں کو جراثیم سے پاک کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا