سلمان رشدی کو ایرانی فتوے کے بعد کس طرح کی سکیورٹی میں رہنا پڑا؟

سلمان رشدی کی 24 گھنٹے پولیس کے ذریعے حفاظت کی جاتی تھی۔ یہ حفاظت برسوں تک اپنی جگہ پر موجود رہی لیکن حالیہ چند برسوں میں اس میں کمی آتی گئی۔

سلمان رشدی پیرس میں 2018 کو ایک فوٹو شوٹ کے دوران (اے ایف پی)

75 سالہ سلمان رشدی نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی موت کے منڈلاتے خطرات میں گزاری ہے۔

ایرانی فتوے کے جاری ہونے کی چار دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد ان پر امریکہ میں تازہ جان لیوا حملہ ہوا۔ اس دوران وہ انتہائی سکیورٹی حصار میں رہے جو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑتا رہا اور آخر کار ان پر حملے پر منتج ہوا۔

فروری 1989 میں فتوہ جاری ہونے کے بعد سے اس متنازع مصنف کو اپنے کام کی وجہ سے سخت حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی پڑیں جس میں تقریباً ایک دہائی تک مکمل روپوشی شامل تھی۔

سلمان ’زندگی بدل دینے والے‘ زخموں کا شکار ہونے کے بعد اب ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہیں گذشتہ جمعے کو نیویارک میں ایک ادبی میلے میں گردن پر چاقو مارا گیا۔

مصنف کے دفاع کے لیے قائم انٹرنیشنل رشدی ڈیفنس کمیٹی کی سابق سربراہ بیرونس ڈی سوزا نے کہا کہ اس حملے کا ’ایک طویل عرصے سے خدشہ تھا۔‘

ایران کے سپریم لیڈر نے 1989 میں رشدی کی موت کا مطالبہ کرتے ہوئے ان پر اپنے چوتھے ناول ’دا سیٹینک ورسز‘ میں توہین رسالت کا الزام لگایا تھا۔

بیرونس ڈی سوزا نے ٹائمز ریڈیو کو بتایا: ’مجھے کئی لوگوں کے برعکس کوئی زیادہ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ خطرہ ہمیشہ سے موجود تھا۔

’بہت سی طویل شامیں جو میں نے ماضی میں کسی کے ساتھ، دوستوں کے ساتھ اور دوسرے ادیبوں کے ساتھ گزاری ہیں، ایسے لوگ ہیں جنہوں نے محسوس کیا کہ اگر اس سلسلے کا خاتمہ ان پر حملے کی واحد صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔‘ ’اور یہ ہو گیا۔‘

سخت گیر کس طرح سلمان رشدی کے پیچھے تھے

ممبئی میں پیدا ہونے والے مصنف نے 70 کی دہائی کے اوائل میں اپنے ادبی کیریئر کا آغاز کیا اور ہندوستان کی پیدائش کے بارے میں ان کے ناول ’مڈ نائٹ چلڈرن‘ نے 1981 میں بکر پرائز جیتا، جس سے انہیں دنیا بھر میں شہرت ملی۔

1988 میں انہوں نے اپنا چوتھا ناول شائع کیا جو بظاہر ایک طنزیہ تحریر تھی۔ اس نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی کیوں کہ اس ناول کی وجہ سے بہت سے اسلام پسند سخت برہم ہو گئے تھے۔

اشاعت کے بعد سلمان رشدی کو جان سے مارنے کی لاتعداد دھمکیاں موصول ہوئیں۔ پھر ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے 1989 میں فتویٰ دیا جس میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے ان کے قتل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے سر پر 25 لاکھ پاؤنڈز کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔

برسوں روپوش

ان دھمکیوں کی وجہ سے سلمان رشدی اور ان کی اہلیہ زیرِ زمین چلے گئے۔ پولیس اہلکار 24 گھنٹے ان کی حفاظت کرنے لگے۔ انہیں برسوں تک مسلح سکیورٹی فراہم کی جاتی رہی۔

فتوے کے بعد سلمان رشدی تقریباً 10 سال تک لندن میں مقیم رہے۔ ان کی اہلیہ ناول نگار ماریان وِگنس نے بتایا تھا کہ ابتدائی چند ماہ میں انہیں 56 بار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا، یعنی ہر تین دن میں ایک بار۔ اس کشیدہ زندگی کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اس کے بعد، 

سلمان بڑی حد تک برطانوی پولیس کی حفاظت میں، حفاظتی دروازے والے ایک قلعہ نما بند سیف ہاؤس میں رہے جس کے پورچ کے دو دروازےتھے۔ یہ مکان بلٹ پروف شیشے، حفاظتی کیمرے، قلعہ بند دیواروں، چھ پولیس اہلکاروں کے رہنے کی جگہ اور ’بم پروف پردے‘ سے لیس تھا۔

فتوے کے چھ سال بعد سلمان رشدی دوبارہ عوام کے سامنے آنا شروع ہو گئے۔ ستمبر 1995 میں انہوں نے ’رائٹرز اینڈ دی سٹیٹ‘ کے نام سے لندن کے ایک مباحثے میں اپنی پہلی عوامی طور پر طے شدہ شرکت کی۔

اس وقت ایک مسکراتے ہوئے اور پر سکون سلمان رشدی نے کہا کہ ’اس چھوٹی پارٹی میں شرکت کے لیے آپ کا شکریہ۔‘

اس وقت کبھی بھی وہ مسلح محافظوں کے بغیر نہیں ہوتے تھے۔ جیسا کہ نیویارک ٹائمز کی سارہ لائل نے رپورٹ کیا، ’وہ سفر کرتے ہیں، ریستورانوں میں کھاتے تھے، کتابوں کی دکانوں پر دکھائی دیتے تھے اور لندن کی سب سے ادبی پارٹیوں میں باقاعدہ شرکت کرنے لگے۔‘

1989 میں ان کی جان پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن بم قبل از وقت پھٹ گیا اور حملہ آور وسطی لندن کے بیورلے ہاؤس ہوٹل میں مارا گیا۔

ایرانی حکومت نے 1998 میں اصلاح پسند محمد خاتمی کے صدر بننے کے بعد اس فتوے سے خود کو دور کرنا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ’سلمان رشدی پر قاتلانہ کارروائیوں کی نہ تو حمایت کرے گا اور نہ ہی رکاوٹ ڈالے گا۔‘

تاہم، بیرونس ڈی سوزا نے نشاندہی کی کہ ’فتوے کو کبھی بھی منسوخ نہیں کیا گیا تھا۔ ’اسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوا اور یہ بھی ان کے ساتھ ہی مر گیا۔‘

فتوے کے بعد باوجود کئی کوششوں کے انہیں انڈیا بھی آنے کی اجازت نہیں ملی۔

اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی مسلمان ووٹروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے ویزا جاری نہیں کیا۔ اس کے لیے انہیں ساڑھے 12 سال انتظار کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی ایک کتاب ’سٹپ ایکراس دس لائن‘ میں، جو ان کے مختلف نان فکشن مضامین پر مشتمل ہے، وہ لکھتے ہیں کہ انہیں دہلی پولیس کی جانب سے روانگی سے قبل ٹیلیفون کال موصول ہوئی کہ ’کیا آپ طیارے پر دکھائی نہ دیے جا سکتے ہیں؟ میرا گنجا سر باآسانی پہچان ظاہر کرسکتا ہے تو کیا میں کیپ پہن سکتا ہوں؟ میری آنکھیں بھی باآسانی پہچانی جاسکتی ہیں تو کیا میں چشمے پہن سکتا ہوں؟ ہاں آپ کی داڑھی بھی قابل شناخت ہے تو کیا آپ سکارف پہن سکتے ہیں۔

’میں نے کہا گرمی کے دن ہیں تو جواب ملا ہاں کاٹن کے سکارف بھی دستیاب ہیں۔‘ اپنے بیٹے ظفر کے ساتھ انہوں نے کامن ویلتھ رائٹرز کے ایونٹ میں بلاآخر شرکت کی۔

2013 میں ایڈنبرا کے بین الاقوامی کتب میلے میں خطاب کرتے ہوئے سلمان رشدی نے ان برسوں کے بارے میں کھل کر بات کی جو انہیں پولیس کی حفاظت میں گزارے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ دیہی ایرشائر کے دورے کے دوران انگلش اور سکاٹش سپیشل برانچ کے درمیان اس بات پر جھگڑا شروع ہو گیا کہ کس کو چارج لینا چاہیے۔ اس تنازعے کو بعد میں دونوں فورسز کے افسران نے مل کر حل کیا۔

وہ خود بھی اس سکیورٹی پر کافی پہلے تنگ آ چکے تھے۔ اپنی ایک یادداشت میں سلمان رشدی نے نیو جرسی اور ڈینور کے امریکی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات پر بے چینی کا اظہار کیا تھا۔ 

نیویارک پوسٹ نے 2001 میں رپورٹ کیا کہ انہوں نے عوامی طور پر اپنے اردگرد بہت زیادہ سکیورٹی پر شکایت بھی کی تھی۔

پراگ رائٹرز فیسٹیول میں شرکت کے دوران انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’یہاں موجود ہونا اور اپنے ارد گرد ایک بڑا سکیورٹی آپریشن دیکھنا دراصل تھوڑا شرمناک محسوس ہوا... میں نے سوچا کہ یہ واقعی غیر ضروری اور حد سے زیادہ ہے اور یقینی طور پر اس کا اہتمام میری درخواست پر نہیں کیا گیا تھا۔‘

’میں نے یہاں آنے سے پہلے یہ کہتے ہوئے کافی وقت گزارا کہ میں واقعی میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے میں یہاں پہنچ کر بہت حیران ہوا۔‘

حملے سے چند ہفتے قبل سلمان رشدی نے کہا تھا کہ ان کی زندگی بہت زیادہ معمول پر آ چکی ہے۔

سٹرن میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’فتویٰ ایک سنجیدہ چیز ہے۔ خوش قسمتی سے اس وقت ہمارے پاس انٹرنیٹ نہیں تھا۔ ایرانیوں کو فتویٰ مساجد کو فیکس کے ذریعے بھیجنا پڑا۔ یہ سب کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ آج کل میری زندگی ایک بار پھر بہت نارمل ہے۔‘

وہ حالیہ برسوں میں نیویارک میں آزادانہ طور پر رہ رہے تھے اور ان کے دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی واضح سکیورٹی کے عوام میں نظر آنے لگے تھے۔

امریکہ کی پین نامی فری سپیچ آرگنائزیشن کی سی ای او سوزین نوسل نے کہا کہ سلمان رشدی نے حالیہ برسوں میں تنظیم کے ساتھ بہت سے پروگرام بغیر کسی خاص حفاظتی انتظامات کے کیے۔ ’ایسا احساس تھا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق