ای سیفٹی اتھارٹی: آن لائن سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کیا ممکن ہو سکے گی؟

وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق اس بل کی منظوری سے آن لائن اور سائبر ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے گھناؤنے جرائم کو موثر طریقے سے روکا جا سکے گا۔

27 مئی 2010 کی اس تصویر میں کراچی کے ایک کیفے میں ایک نوجوان یوٹیوب پر میوزک ویڈیو دیکھ رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے آن لائن سرگرمیوں کی مانیٹرنگ سے متعلق بدھ کو مسودہ قانون کی منظوری دی ہے۔

یہ بل وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کی جانب سے کابینہ کو بھجوایا گیا تھا، جس کے مطابق بڑھتی ہوئی آن لائن سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے اتھارٹی بنائی جائے گی، جس کا نام ’ای سیفٹی اتھارٹی‘ ہو گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بدھ (26 جولائی) کو اسلام آباد میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس بل کی منظوری دی گئی تھی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’وفاقی کابینہ نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سفارش پر انفارمیشن سسٹم کے ناجائز و غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لیے ای سیفٹی بل 2023 کی اصولی منظوری دے دی ہے۔‘

اعلامیے کے مطابق اس بل کے تحت پاکستان میں تمام اقسام کی آن لائن سروسز، آن لائن خریداری، مختلف کمپنیوں کو دیے جانے والے کوائف اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ کرنے اور اس کے بغیر اجازت استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک بنایا جائے گا۔

بل کی منظوری کے بعد آن لائن اور سائبر ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے گھناؤنے جرائم کو موثر طریقے سے روکا جا سکے گا۔

کابینہ سے بل کی منظوری کے بعد یہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہو گا اور وہاں سے منظوری کے بعد سینیٹ اور صدر پاکستان کے پاس جائے گا اور ان کی منظوری سے نافذ العمل ہو جائے گا۔

نئی اتھارٹی سے آن لائن مانیٹرنگ کس حد تک ممکن ہے؟

اس سوال کے جواب میں پاکستان ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے کنوینئر فہم گوہر بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ڈیجیٹل میڈیا جیسے جدید میڈیم کی مانیٹرنگ یا اس کی رجسٹریشن ریاست کا اختیار ہے، لیکن اس کی آڑ میں الیکٹرانک میڈیا کی طرح پیمرا کی طرز پر ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش حکومت اور شہریوں کے لیے نقصان کا باعث بنے گی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ بات درست ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گذشتہ چند سال سے جس طرح من گھڑت، جھوٹی افواہیں اور پروپیگنڈا سے مخالفین کو نیچا دکھانے کی مہم دکھائی دیتی ہے، اس پر قابو پانے کے لیے حکومت کو حکمت عملی بنانی چاہیے، لیکن اس کے لیے نئی اتھارٹی بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہتک عزت سے متعلق جو قوانین موجود ہیں، ان کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

فہیم گوہر بٹ کے مطابق: ’ہمارے ہاں مسئلہ ڈیجیٹل میڈیا پر جھوٹ یا فیک نیوز روکنے کا نہیں بلکہ من پسند خبروں کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے اور مخالفین کو روکنے کا ہے۔ پہلے پی ٹی آئی نے اپنی حکومت میں حکومت مخالف آوازیں دبانے کے لیے ایسے قانون بنانے کی کوشش کی اور اب پی ڈی ایم حکومت اپنے مخالفین کی آواز دبانے کے لیے یہ اقدام کر رہی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے پر معروف یو ٹیوبر معظم فخر سے بھی گفتگو کی، جن کا کہنا تھا: ’جھوٹا پروپیگنڈہ یا پگڑیاں اچھالنے سے روکنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کی مانیٹرنگ ضروری ہے، لیکن اسے اگر اپنے زیر اثر کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے جو لوگ لاکھوں ڈالر کماتے ہیں اور پاکستان میں لاتے ہیں اور یہ سالانہ کروڑوں ڈالر بنتے ہیں، وہ بھی کم ہو سکتے ہیں۔‘

معظم کے مطابق: ’اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر ڈیجیٹل پلیٹ فارم مقامی میڈیا کی نسبت زیادہ آزادی سے خبریں اور معلومات فراہم کرتے ہیں، اس لیے لوگ انہیں زیادہ دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہاں بھی کنٹرولڈ معلومات آئیں گی تو کون دیکھے گا، لہٰذا لوگ دوسرے ممالک سے اکاؤنٹس بنا کر اپنے پلیٹ فارم چلائیں گے اور وہیں پیسہ آئے گا۔‘

نئی اتھارٹی میں رجسٹریشن سے کتنا فرق پڑے گا؟

ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی چلانے والے نبیل رشید کا کہنا ہے کہ ’ڈیجٹل پلیٹ فارمز سے ملک میں اس وقت اربوں روپے کا کاروبار ہو رہا ہے اور اسے ریکارڈ میں لانے کا حکومتی اقدام بہتر ہے لیکن پہلے نظام کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور رجسٹریشن کا عمل آن لائن اور شفاف رکھا جائے، لیکن اس کی شرائط نرم ہونی چاہییں تاکہ لوگ با آسانی رجسٹریشن کروا سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نبیل کے بقول: ’ہمارے ہاں سرکاری اداروں میں معمولی کام کروانا بھی جتنا مشکل ہے، وہ سب کو معلوم ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جس طرح کام کر رہے ہیں خیال کیا جائے کہ ان کے لیے بہترین طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ وہ خود کو آسانی سے رجسٹر کروائیں اور ان کے کام پر اثر نہ پڑے۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ رجسٹریشن کے بعد کئی طرح کے ٹیکس عائد کر دیے جاتے ہیں، جیسے لاکھوں لوگ ایف بی آر میں فائلر بننے سے بھی کتراتے ہیں۔‘

وفاقی کابینہ نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی سفارش پر ’پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023‘ کی بھی اصولی منظوری دے دی ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق ’اس بل کے تحت حکومت مختلف ادارے اور کمپنیاں، صارف کے ذاتی کوائف / ڈیٹا کی حفاظت یقینی بنائیں گی اور ان کی اجازت کے بغیر کسی بھی کمپنی، فرد یا حکومتی ادارے کو صارف کی اجازت کے بغیر اس کے کوائف/ ڈیٹا دینے پر پابندی لگائے گی۔‘

بیان میں کہا گیا کہ  ’قانون کے تحت صارفین کے نجی کوائف/ ڈیٹا کو محفو ظ کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے نیشنل کمیشن فار پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ’این سی پی ڈی پی‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ایک دیوانی عدالت کی حیثیت رکھے گا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی