تحریک انصاف کا واٹس ایپ انصاف 

جس جماعت کی بنیاد انصاف پر رکھی گئی تھی اور یہ دعوے کیے گئے تھے کہ اس کے برسرِ اقتدار آنے سے انصاف کا بول بالا ہوگا اس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گذشتہ ایک سال میں اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہی کی گئی ہیں۔ 

یہاں پر یہ سوال  پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس کے کہنے پر اور کیوں ایک جج کی مدتِ ملازمت ختم ہو جانے کے باوجود ان کو تین سال کی توسیع دے دی جاتی ہے اور ایک ہی جماعت کے لوگوں کے مقدمات سننے والے تین ججز کو یوں اچانک بغیر کوئی وجہ بتائے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔  (اے ایف پی)

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللّہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں جب ان کے وکیل فرہاد علی شاہ نے اپنے دلائل مکمل کیے تو عدالت کی طرف سے کارروائی کو ایک گھنٹے کےلیے روک دیا گیا۔ وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جج مسعود ارشد نے سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی اور ساتھ ہی کیس کا مزید حصہ بننے سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ’مجھے واٹس اپ کر دیا گیا ہے کہ آپ کام نہیں کر سکتے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے میری خدمات واپس لے لی گئی ہیں۔ لہذا میں اس کیس میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ نہیں جانتا کہ کیا ہوا ہے، میرا ادارہ میرے پیچھے ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی۔ اگر میں اس کیس میں رہتا تو میرٹ پر ہی فیصلہ کرتا۔‘ 

اس واٹس ایپ انصاف پر معروف صحافی ارشد وحید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک سیئنیر جج نے گذشتہ روز وفاقی وزیر قانون سے مبینہ طور پر خفیہ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے نتیجہ میں مریم نواز، حمزہ شہباز اور رانا ثنا اللہ کے مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلہ کے نتیجہ میں رمضان شوگر ملز اور چوہدری شوگر ملز کے مقدمات میں مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف کے مقدمات کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے ججوں مشتاق الہی اور محمد نعیم کو اچانک تبدیل کر دیا گیا جبکہ جج مسعود ارشد کو مقدمہ کی سماعت کے دوران واٹس اپ کال کے ذریعے فارغ کر دیا گیا۔

ان ججز کو جس نوٹیفیکیشن کے ذریعے ہٹایا گیا ہے اس پر 26 اگست کی تاریخ درج ہے۔ اب چاہے مسعود ارشد کو اس نوٹیفیکیشن کی کاپی ڈاک میں ملی ہو یا بقول ان کے واٹس ایپ پر، ہائی کورٹ کا حکم آنے تک وہ رانا ثناء اللّہ کے مقدمہ میں اپنے فرائض سرانجام دے سکتے تھے۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے سماعت کے دوران واٹس ایپ کا حوالہ دے کر خود کو کیس سے الگ کر لیا۔ دوسری جانب احتساب عدالت کے جج محمد بشیر جب نواز شریف صاحب کے خلاف کیس سن رہے تھے ان کو ان کی ملازمت کی مدت ختم ہو جانے کے باوجود تین سال کی توسیع یہ کہہ کر دے دی گئی تھی کہ اگر جج تبدیل کیا گیا تو کیس کی نوعیت پر فرق پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں پر یہ سوال  پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس کے کہنے پر اور کیوں ایک جج کی مدتِ ملازمت ختم ہو جانے کے باوجود ان کو تین سال کی توسیع دے دی جاتی ہے اور ایک ہی جماعت کے لوگوں کے مقدمات سننے والے تین ججز کو یوں اچانک بغیر کوئی وجہ بتائے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس کا جواب بہت سادہ ہے یہ وہ قوتیں ہیں جو عمران خان صاحب کو اقتدار میں لے کر آئی ہیں اور نواز شریف، ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کو زیادہ سے زیادہ مشکلات سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔

ویسے تو ہمارے ملک میں انصاف کا معیار کبھی بھی اچھا نہیں رہا لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں جس طرح سے عدلیہ اور نیب سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو اپنی مرضی سے استعمال کیا گیا ہے اس کی مثال فوجی آمروں کے دور میں ہی ملتی ہے۔ جس جماعت کی بنیاد انصاف پر رکھی گئی تھی اور یہ دعوے کیے گئے تھے کہ اس کے برسرِ اقتدار آنے سے انصاف کا بول بالا ہوگا اس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گذشتہ ایک سال میں اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہی کی گئی ہیں۔ 

یہ ایسا دور ہے کہ جس میں جب ایک جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آتی ہے جس میں وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ انھوں نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دباو کے تحت دیا۔ اس ویڈیو کو درست مان کر جج صاحب کو فارغ کر دیا جاتا ہے، مگر ان کا دیا گیا فیصلہ بھی برقرار رکھا جاتا ہے۔ اور جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو ان اداروں کے بارے میں سچ بولنے کی سزا دی جاتی ہے۔

جسٹس شوکت صدیقی تو فارغ ہو چکے ہیں اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔ سال کی کارکردگی دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہوگا اس کے لیے کوئی زیادہ شاید سوچنے کی کوشش کی ضرورت نہیں۔ ابھی کے لیے نور الھدیٰ شاہ کی یہ نظم پڑھ لیں۔ 

آج کے نام

‏انصاف کو عمر قید سزا سنا دی گئی ہے

اس کی پٹی بندھی آنکھوں کو کھولا گیا

پوچھا گیا

بتا

یہ دن ہے یا رات؟

انصاف نے کہا

یہ نہ دن ہے

نہ رات ہے

یہ اندھیرا ہے

روشنی کےمنہ پر ملی کالک ہے

جو دن کو بھی تاریک کرتی ہے

اور ہر سو رات کا بہانہ کرتی ہے

دھوکہ کرتی ہے

تب سے

انصاف

عمر قید کی تاریک کھولی میں پڑا ہے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ