تین اکٹھی طلاقیں قابل سزا: اسلامی نظریاتی کونسل کی حمایت

ذرائع کے مطابق  نظریاتی کونسل کے اراکین بیک وقت تین طلاقوں کی کسی ایک حتمی سزا پر متفق نہ ہوسکے۔

(سوشل میڈیا)

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کے اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے میراث اورطلاق کے معاملات کی شیعہ و سنی مسالک کے مطابق قانون سازی کرنے کی حمایت کردی۔ اجلاس میں بیک وقت تین طلاقوں اور کم عمری میں شادی کی سزا پر بحث ہوئی نیز ایک متفقہ طلاق نامہ بنانے پر اتفاق کر لیا گیا۔

وفاقی وزیر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بیک وقت تین طلاقوں کو قابل سزاجرم قرار دینے کا کوئی حوالہ ملا تو قانون سازی کرسکتے ہیں۔ دوران اجلاس انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل بیک وقت تین طلاقیں قابل سزا ہونے کی تصدیق کرے گی تو قانون سازی کی طرف بڑھیں گے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ فقہ حنفی میں ایک ہی نشست پرتین طلاقوں کو قابل سزا جرم قراردیا جائے، اس طرح طلاق دینے کے بعد مرد کو بھی ندامت رہتی ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے اضافہ کیا کہ خلفائے راشدین کے عمل سے اگر ہمیں روایت ملتی ہے تو اس کے پابند ہیں۔ اسلام میں طلاق دینا جرم ہے تو قانون سازی کی حمایت کروں گا۔ بعد ازاں انہوں نے دریافت کیا کہ بیک وقت تین طلاقیں قابل سزا جرم ہوتوسزا کتنی دی جا سکتی ہے؟

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے جواب میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے تجویز دی ہے سزا کا تعین نہیں کیا، وزارت قانون سزا دینے سے اتفاق کرے توسزا بھی تجویزکردیں گے۔ جس پر وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سزا شروع کردی تو پولیس کے مال کھانے کا ایک اور راستہ کھل جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرائع کے مطابق  نظریاتی کونسل کے اراکین بیک وقت تین طلاقوں کی کسی ایک حتمی سزا پر متفق نہ ہوسکے، انہوں نے ایک لاکھ روپے جرمانے پر اتفاق رائے کیا جب کہ قید کی مدت پر ان کے درمیان اختلاف برقرار رہا۔ قید کی مدت چھ ماہ ہو یا ایک سال، اراکین کے درمیان اتفاق نہ ہو سکا۔ اجلاس میں ایک تجویز یہ بھی رکھی گئی کہ بیک وقت طلاقوں پر جرمانہ روپوں کی بجائے سونے کی مقدار پر طے کیا جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طے ہونے والی سزا پر اسلامی نظریاتی کونسل علماء سے رائے لے گی، سزا کا حتمی تعین علماء کی مشاورت سے ہوگا۔ کمیٹی نے بل آئندہ اجلاس تک موخرکردیا۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ تین طلاقیں بڑا معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے، طلاق سے خواتین اور بچوں پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارت میں بھی تین طلاقیں اکٹھی دینے پر پابندی کا بل منظور کیا جا چکا ہے تاہم اسے مختلف طبقہ ہائے فکر کی جانب سے متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان