ان کا نام خابانے لیم ہے لیکن وہ دنیا بھر میں خابی لیم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
سینیگال کے شہر ڈاکار میں پیدا ہونے والے خابی ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے کانٹینٹ کری ایٹر ہیں۔
وہ ان ویڈیوز کی وجہ سے مشہور ہوئے جن میں وہ عجیب و غریب ’لائف ہیک‘ ویڈیوز میں ایک سپاٹ، قدرے ناراض چہرے کے ساتھ ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ اس ہیک کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اس تحریر کے وقت ان کے 160 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں اور یہ ایک ایسا عالمی ریکارڈ ہے جو ایک لفظ بولے بغیر حاصل کیا گیا۔
جنوری میں انہوں نے اپنے برانڈ کے حقوق تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر میں فروخت کیے۔
لیکن ان کی کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کا مغربی میڈیا شاذ و نادر ہی ذکر کرتا ہے: خابی لیم ایک باعمل مسلمان اور حافظِ قرآن ہیں۔ انہوں نے 14 سال کی عمر میں ڈاکار کے قریب ایک مدرسے سے قرآن حفظ کیا۔
حافظِ قرآن کے مقدس وجود اور ایک انفلوئنسر کی ڈیجیٹل زندگی کی کمرشلائزیشن کے درمیان موجود کشمکش ان کے سفر کو ایک بھرپور کیس سٹڈی بناتی ہے۔
ڈیجیٹل شناخت کے ایک محقق کے طور پر میرے لیے ان کا آن لائن کیریئر ذاتی ڈیٹا کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے کے حوالے سے سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
ٹیورن کے مضافات سے عالمی سطح کے عروج تک
خابی لیم کی کہانی ایک جدید دور کے افسانے جیسی لگتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ اس پر یقین کرنا مشکل ہے بلکہ اس لیے کہ یہ ڈیجیٹل جدیدیت کے بنیادی بیانیے کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ مشکلات سے شروع ہوتی ہے، تنہائی کے ایک تخلیقی دور سے گزرتی ہے اور عالمی سطح پر پہچان کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔
یہ وہی چیز ہے جسے فرانسیسی مفکر رولاں بارت نے ’متھیکل سپیچ‘ کا نام دیا تھا، ایک ایسی کہانی جو فطری اور سادہ لگتی ہے لیکن درحقیقت گہری قوتوں اور ڈھانچوں سے تشکیل پاتی ہے۔
2020 میں کووڈ 19 کی وبا کے آغاز پر خابی لیم ایک فیکٹری مزدور کے طور پر اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
وہ اٹلی کے شہر ٹیورن کے مضافات میں واقع ایک سوشل ہاؤسنگ سوسائٹی میں محصور ہو کر رہ گئے، جہاں ان کے والدین اس وقت منتقل ہوئے تھے جب وہ ایک چھوٹی عمر کے تھے۔
اس مشکل سے نکلنے کے لیے انہوں نے ایک سادہ سا فیصلہ کیا: انہوں نے مختصر ویڈیوز بنانا شروع کیں اور محض 17 ماہ بعد وہ ٹک ٹاک پر 100 ملین فالوورز تک پہنچ گئے۔
وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے یورپ کے پہلے کانٹینٹ کری ایٹر تھے۔
ان کی کہانی ٹک ٹاک کے اس وعدے کی عکاسی کرتی ہے جس کی اکثر تشہیر کی جاتی ہے کہ یہ پلیٹ فارم کسی کو بھی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔
یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ آپ کو صرف ایک موبائل فون کی ضرورت ہے اور ٹیلنٹ کا صلہ تیزی سے عالمی شہرت کی صورت میں ملے گا۔
اس کا جشن بھی منایا جانا چاہیے لیکن فوری کامیابی کے اس افسانے کا بغور جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔
ہر وائرل ہونے والے عروج کے پیچھے سمارٹ فیصلے، سخت محنت اور پلیٹ فارم کے الگوردم کا طاقت ور اور اکثر غیر متوقع کردار ہوتا ہے۔
مزاحیہ روایت کا احیا
جو چیز خابی لیم کو ان سے پہلے کے تقریباً تمام کری ایٹرز سے ممتاز کرتی ہے وہ علامات اور نشانات کا وہ نظام ہے جو انہوں نے ایجاد کیا یا یوں کہیے کہ اسے دوبارہ فعال کیا۔
انہوں نے ایک پرانی مزاحیہ روایت کو زندہ کیا۔ بہت سے لوگ ان کا موازنہ برطانوی کامیڈی اداکار چارلی چپلن سے کرتے ہیں۔
دوسروں کو ان میں امریکی کامیڈین بسٹر کیٹن کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ دونوں ہالی وڈ کی خاموش سلیپ سٹک کامیڈی کے ماہر تھے۔
خابی لیم 1930 کی دہائی کے ہالی وڈ کے خاموش کامیڈی سینیما کے ضابطوں کو زندہ کرتے ہیں: معنی خیز نظریں، کوئی مکالمہ نہیں اور برلیسک سکیچز جو پیغامات پہنچاتے ہیں۔
لیکن چپلن کے ساتھ ان کی مماثلت یہیں ختم ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں اپنے جسموں کو بالکل مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔
چپلن کی فلمیں سماجی اور سیاسی موضوعات پر مبنی، جذباتی وزن رکھتی ہیں۔ ان کا کردار ایک آوارہ گرد، ایک غریب مسافر ہے جو ایک غیر منصفانہ صنعتی دنیا کا مقابلہ کرتا ہے۔
خابی لیم کا انداز کیٹن کے زیادہ قریب ہے۔ وہ کچھ نہیں کہتے۔ وہ محض یہ دکھاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے یہ فوری حل کتنے غیر ضروری اور پیچیدہ ہیں۔
بیہودگی کے سامنے ان کی مکمل بےحسی وہی چیز ہے جسے کیٹن نے اپنے مشہور ’گریٹ سٹون فیس‘ کے ساتھ کمال تک پہنچایا تھا۔
لیکن اگرچہ ان کا مزاحیہ ڈھانچہ ملتا جلتا ہے، ان کا اپنے جسموں کے ساتھ رشتہ ایک جیسا نہیں۔
اپنی پوری زندگی میں کیٹن کسی بھی شکل میں مذہب یا مابعد الطبیعیات سے مکمل طور پر بےنیاز رہے۔
خابی لیم اس کے برعکس ہیں۔ وہ حافظِ قرآن ہیں۔ ان کی طبعی شخصیت سے ان کی ڈیجیٹل شناخت کی علیحدگی قابل ذکر ہے۔
بغیر الفاظ کے مزاح نے انہیں عالمی سطح پر ناظرین بنانے کا موقع دیا کیونکہ اس میں زبان کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، بالکل اسی طرح جیسے چارلی چپلن جیسے خاموش فلموں کے ستارے ایک صدی قبل عالمی آئیکن بن گئے تھے۔
ٹک ٹاک کا الگوردم ایسے مواد کو ترجیح دیتا ہے جسے کوئی بھی فوراً سمجھ سکے۔ چپلن کو سینیما گھر کی ضرورت تھی، خابی لیم کو صرف ایک فون اور ایک الگوردم کی ضرورت ہے۔
طریقہ کار ملتا جلتا ہے۔ اس کے پھیلنے کا طریقہ بالکل بدل چکا ہے۔
افریقہ کی نئی ڈیجیٹل شناخت
جنوری 2026 میں خابی لیم کی احتیاط سے تیار کردہ تاثراتی شخصیت نے ایک نئی حیثیت اختیار کر لی۔ یہ ایک مالی اثاثہ بن گئی۔
انہوں نے اپنی کمپنی سٹیپ ڈسٹنکٹو لمیٹڈ کو ہانگ کانگ میں قائم ایک پبلک ٹریڈڈ کمپنی رچ سپارکل کو 975 ملین امریکی ڈالر میں فروخت کر دیا۔
اس معاہدے میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایک ڈیجیٹل جڑواں (ڈیجیٹل ٹوئن) بنانے کے لیے ان کی تصویر، آواز اور طرز عمل کے ماڈلز استعمال کرنے کے حقوق کی منتقلی شامل ہے۔
یہ ڈیجیٹل ٹوئن کثیر لسانی مواد تیار کرے گا، جس میں اشتہارات اور پروموشنز کا مواد بھی شامل ہے۔ کمپنیاں خابی کی طبعی موجودگی کے بغیر کئی ممالک میں اشتہارات چلا سکیں گی۔
رچ سپارکل کے مطابق اس سے سالانہ سیلز میں چار ارب امریکی ڈالر سے زیادہ پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے، خاص طور پر لائیو سٹریم ای کامرس کے ذریعے (ایک ایسا فارمیٹ جو پہلے ہی ایشیا میں حاوی ہے)، جسے بیک وقت دنیا بھر میں نشر کیا جائے گا۔
یہ لین دین ایک اہم موڑ ہے۔ ڈیجیٹل شناخت اب محض کسی شخص کی نمائندگی نہیں کرتی۔ یہ ایک ایسا اثاثہ بن جاتی ہے جسے اسے بنانے والے فرد سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
اب ایک کری ایٹر محض ایک برانڈ ایمبیسڈر نہیں بلکہ بذات خود ایک برانڈ ہے۔ نظریاتی طور پر خابی لیم کا ڈیجیٹل وجود اب قانونی طور پر خود خابی لیم سے الگ ہے۔
ڈیجیٹل ٹوئن اس لحاظ سے بسٹر کیٹن جیسا جسم ہے جس کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کیپیٹلزم نے ہمیشہ خواب دیکھا ہے: بےحس، دوبارہ تیار کیے جانے کے قابل اور تمام ٹائم زونز میں دستیاب۔
مخصوص اشارہ یا دعا مانگنے کا انداز؟
خابی لیم کا مخصوص اشارہ دونوں ہتھیلیوں کو کھول کر اوپر کی طرف کرنا ہے۔ یہ سادہ اور عام فہم انداز ہے جو بے یقینی کا ایک ہلکا پھلکا اور مزاحیہ نشان ہے۔ لیکن اس اشارے کے گہرے معنی ہیں۔
اسلامی روایت میں جیسا کہ بہت سی افریقی ثقافتوں میں یہی اشارہ دعا سے جڑا ہے، یعنی خدا کے حضور ہاتھ اٹھانے کا عمل۔ جسے لاکھوں ناظرین ایک مزاحیہ اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں، وہ ایک روحانی عمل بھی ہے۔
پھر بھی خابی لیم کا ڈیجیٹل ہم شکل محض ایک تصویر نہیں۔ یہ ان کے نام پر کام کر سکتا ہے۔ یہ ان کی آواز میں بول سکتا ہے۔ یہ ان کے جانے پہچانے اشاروں کو دہرا سکتا ہے۔
یہ اب محض ایک نمائندگی نہیں۔ یہ ان کے اظہار کے طریقے کو ایک ڈیجیٹل سسٹم میں منتقل کرنے کی ایک شکل ہے۔
وہی کھلے ہاتھ، وہی تاثراتی نگاہیں، وہی آواز جس نے کبھی ڈاکار کے ایک سکول میں قرآن کی سورتوں کی تلاوت کی تھی، اب تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے تجارتی لین دین کی خصوصیات ہیں۔
ان کی فعال شناخت کو مالیاتی منڈیوں کے حوالے کرنے میں ایک اخلاقی سوال موجود ہے۔
ایک اخلاقی سوال
بہت سے نوجوان افریقیوں کے لیے خاص طور پر سینیگال میں خابی لیم اس امکان کی تجسیم ہیں کہ ڈیجیٹل سپیسز ایسے علاقے ہیں جہاں افریقی کامیاب ہو سکتے ہیں، جہاں نوآبادیاتی تاریخ سے ورثے میں ملنے والی درجہ بندی کو کم از کم علامتی طور پر الٹا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن یہ معاہدہ ایک مشکل سوال اٹھاتا ہے: ایک ایسی دنیا میں اپنے ڈیجیٹل وجود کو بیچنے کا کیا مطلب ہے جہاں سیاہ فام اور افریقی جسموں کو صدیوں سے رضامندی اور منصفانہ معاوضے کے بغیر استعمال کیا گیا اور ان سے منافع کمایا گیا؟
کیا یہ ایک جیت ہے یا استحصال کی ایک نئی شکل؟ کیا مالی فوائد ان کی شناخت کی منتقلی کا توازن برقرار رکھ سکتے ہیں؟
ہر سال مزید افریقی کری ایٹرز عالمی سطح پر اپنے ناظرین بنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان سوالات کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔
ایک بار فروخت ہونے کے بعد کری ایٹر کے ڈیجیٹل ٹوئن کا مالک کون ہوتا ہے؟ اس کے استعمال کے اصول کون طے کرتا ہے؟
خابی لیم محض سوشل میڈیا کی کامیابی کی کہانی نہیں۔ وہ مستقبل کے ایک علم بردار ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر دی کنورسیشن سے لی گئی ہے اور اس کا ترجمہ کری ایٹو کامنز کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔