کراچی کے فیضان علی ریسکیو 1122 میں بطور فائر فائٹر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور دوسرے امدادی کارکنوں کی طرح ان کی عید بھی عام لوگوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔
عید الفطر کا دن جہاں اکثر لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوشی، ہنسی اور سکون میں گزارتے ہیں، وہیں ہنگامی خدمات سے وابستہ افراد کے لیے یہ تہوار ایک معمول کی ڈیوٹی کی طرح ہوتا ہے۔
نہ خصوصی تیاری، نہ آرام، نہ اپنے پیاروں کے ساتھ وقت، بس ذمہ داری اور ہر لمحہ تیار رہنے کا تقاضا۔
فیضان کے لیے عید کی صبح نئے کپڑوں یا میٹھا کھانے سے نہیں بلکہ وردی پہننے اور سٹیشن رپورٹ کرنے سے شروع ہوتی ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’عید کے حوالے سے ہماری بھی وہی امیدیں اور خوشیاں ہوتی ہیں جو ہر مسلمان کی ہوتی ہیں، مگر ہماری ڈیوٹی ہم سے ہر وقت تیار رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔
’ہم ایمرجنسی سروس کا حصہ ہیں، اس لیے ہمیں 24 گھنٹے الرٹ رہنا پڑتا ہے۔‘
گفتگو جاری تھی کہ اسی دوران ریسکیو 1122 میں ایک ہنگامی کال موصول ہوئی۔ نیو کراچی کی ایک فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ فیضان فوراً اپنی ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ روانہ ہوئے۔
بروقت کارروائی نے آگ کو پھیلنے سے روک لیا اور بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ واقعے سے واپسی پر فیضان نے گفتگو دوبارہ جوڑی اور کہا ’اگر ہم چھٹی پر ہوتے یا ریسپانس دیر سے ہوتا تو آگ تھرڈ ڈگری تک پہنچ سکتی تھی اور حادثہ سانحہ بن جاتا۔
’یہی وجہ ہے کہ ہم ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ آج بھی ہم نے بروقت رسپانس دے کر صورتِ حال کو کنٹرول کیا۔‘
ان کے مطابق حقیقی خوشی وہ نہیں جو عید کی روایتی تقریبات سے ملتی ہے بلکہ وہ ہے جو کسی کی جان یا مال کو محفوظ بنانے میں کامیابی سے ملتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’کسی ایک انسان کی جان بچانا ہمارے لیے بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے، اور یہی دن ہمارے لیے اصل عید بن جاتا ہے۔‘
چار سال سے ریسکیو 1122 سے وابستہ فیضان اعتراف کرتے ہیں کہ عید کے دن ڈیوٹی کرنا جذباتی طور پر آسان نہیں ہوتا۔
’گھر والے بہت یاد آتے ہیں، خاص طور پر جب بچے انتظار کر رہے ہوں۔ لیکن جب ہم کسی ایمرجنسی میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں تو ایک خاص اطمینان ملتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس پیشے میں سب سے اہم چیز ذمہ داری کا احساس ہے ’ہماری ایک کال کسی کی جان بچا سکتی ہے، اسی لیے ہم ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔‘
فیضان جیسے امدادی کارکن عید کے دن بھی خاموشی سے اپنی خدمات جاری رکھتے ہیں تاکہ لوگ محفوظ رہے۔
ان کی یہ قربانی یاد دلاتی ہے کہ کچھ پیشے صرف ملازمت نہیں بلکہ خدمت، ہمت اور انسانیت کا عزم ہوتے ہیں۔