فریقین کو مذاکرات کی میز سے اٹھنا نہیں چاہیے تھا: بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی چیئرمین کا مذاکرات میں تعطل کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے غیر مشروط بات چیت پر زور، کہا سیاسی معاملات میں مذاکرات حل نکلنے تک جاری رہنے چاہییں، لانگ مارچ طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان 7 اکتوبر، 2026 کو قومی اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں(سکرین گریب)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بدھ کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی جدوجہد کے بعد فریقین مذاکرات کی میز پر آئے تھے، اس لیے کسی کو بھی بات چیت ختم کرکے میز سے اٹھنا نہیں چاہیے تھا۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے مذاکرات کی کامیابی انتہائی ضروری ہے اور سیاسی معاملات میں شرائط یا مختصر مدت مقرر کرنے کے بجائے بات چیت اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک کوئی حل نہ نکل آئے۔

’مذاکرات ختم کرنا ہٹ دھرمی تھی‘

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کی میز تک پہنچنا آسان نہیں تھا بلکہ اس کے لیے بہت کوششیں کی گئی تھیں۔ ان کے بقول، ’یہ بڑا افسوس ناک ہے، ڈیڈ لاک نہیں آنا چاہیے تھا۔ اگر ہم بیٹھے تھے تو اٹھنا نہیں چاہیے تھا۔ یہ بہت سنجیدہ معاملہ تھا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انہوں نے کہا کہ ’جس نے بھی یہ ہٹ دھرمی دکھائی کہ چلیے، ختم کیجیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ مذاکرات ختم کرنے میں پی ٹی آئی کا کردار تھا، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہماری طرف سے تو نہیں، ہم تو بیٹھے رہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد باہر آ کر بیانات دینے کا سلسلہ شروع ہونا بھی افسوس ناک ہے۔

’صوبہ غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہوسکتا‘

پی ٹی آئی چیئرمین نے خیبر پختونخوا کی صورت حال کو ’گمبھیر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ کسی ایسے غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام کا متحمل نہیں ہوسکتا جو عوام کی منشا کے خلاف ہو۔

انہوں نے کہا کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے بہتری کی جانب جانے چاہییں، صوبے میں نہ گورنر راج لگنا چاہیے اور نہ ایمرجنسی نافذ ہونی چاہیے بلکہ معاملات مناسب طریقے سے حل کیے جانے چاہییں۔

پی ٹی آئی کے مطالبات کیا ہیں؟

بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی نے مذاکرات میں سادہ مطالبات رکھے تھے، جن میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات، عمران خان تک ان کے ڈاکٹروں کی رسائی، ان کی صحت سے متعلق صورت حال واضح کرنا، اہل خانہ کی ملاقاتیں اور گرفتار افراد کی رہائی شامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی انہی مطالبات کے لیے لانگ مارچ کر رہی ہے اور ان کا حل نکلنا چاہیے۔

عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ڈاکٹر کا ذکر ہوا تھا۔ ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر اگست میں عمران خان کا معائنہ کر چکے تھے اور انہیں اس بارے میں آگاہ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے پارٹی کے اہم افراد اور خاندان کو بھی اس سے آگاہ کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ڈاکٹر کو خصوصی طور پر لندن سے نہیں بلایا گیا تھا بلکہ وہ لندن کے ساتھ لاہور میں بھی ہوتے ہیں۔

’وزیراعظم کی پیشکش مشروط تھی‘

وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم کی پیشکش ’مشروط‘ تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی پیشکش سے پہلے ہی پی ٹی آئی نے کمیٹی قائم کرکے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے کوئی پیشکش آتی ہے تو وہ غیر مشروط مذاکرات کے لیے بیٹھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں پہلے سے شرائط عائد کرکے بات چیت نہیں کی جاتی۔ ’لوگ بغیر شرط کے بیٹھتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں اور اس وقت تک بات کرتے ہیں جب تک کوئی حل نہیں نکلتا۔‘

بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے لیے دو دن کی مدت مقرر کرنے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’اسکول کے بچوں کا پیپر نہیں کہ وقت ختم ہوگیا‘۔ سیاسی معاملات میں کئی مرتبہ ملاقاتیں ہوتی ہیں، دستاویزات کا تبادلہ کیا جاتا ہے اور پھر کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کے نتائج ہوتے ہیں، اس لیے انہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

دوبارہ مذاکرات ہونے چاہییں: بیرسٹر گوہر

دوبارہ مذاکرات کے امکان پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بات چیت ضرور ہونی چاہیے، لیکن کسی پیشگی شرط کے بغیر۔

لانگ مارچ سے متعلق انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے 11 اور 12 اکتوبر کا جو شیڈول دیا گیا ہے، مارچ اسی کے مطابق آگے بڑھے گا اور مذاکرات کے لیے اب بھی وقت موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ مذاکرات کی خواہش پی ٹی آئی کی کمزوری ہے یا پارٹی کسی کی منت سماجت کر رہی ہے تو یہ مناسب رویہ نہیں ہوگا۔

مذاکرات کے بعد حکومتی فریق سے رابطوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ رابطے ہوتے رہتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ وہ نتیجہ خیز ہوں۔

لانگ مارچ کے روٹ کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مارچ پشاور سے خیبر جائے گا اور وہاں سے اسے واپس موڑا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’مارچ ہمارا ہی ہے، آگے پیچھے کرکے لے آئیں گے، ان شا اللہ۔‘

’اندر کی باتیں باہر کرنے سے اعتماد متاثر ہوتا ہے‘

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے سوات میں پریس کانفرنس کے دوران بھی اس معاملے پر بات کی تھی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے اندر ہونے والی گفتگو کو باہر آ کر زیر بحث لانے سے معاملات مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فریقین نے ایک دوسرے کو جواب دینے اور پریس کانفرنسیں کرنے میں جتنا وقت صرف کیا، اگر یہی گفتگو مذاکرات کی میز پر ہوتی تو بہتر حل نکالا جا سکتا تھا۔

’مائنس عمران خان نہیں ہوسکتا‘

عمران خان کو سیاسی عمل سے ’مائنس‘ کرنے سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’مائنس عمران خان نہیں ہوسکتا، خان صاحب بڑے لیڈر ہیں، وہ کبھی مائنس نہیں ہوسکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی کے معاملات چلانے کے لیے لوگوں کو ذمہ داریاں اور اختیارات دیے ہیں، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو اختیارات دیے گئے، جبکہ سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی بھی قائم ہیں۔

ان کے مطابق روزمرہ پارٹی معاملات چلتے رہتے ہیں لیکن اصل ضرورت مسائل کا حل نکالنے اور معاملات کو دوبارہ درست سمت میں لانے کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر دو دشمن نہیں بلکہ سیاسی حریف بیٹھتے ہیں اور اس معاملے میں اصل سٹیک ہولڈرز پاکستان کے عوام، خیبر پختونخوا کی حکومت اور صوبے کے لوگ ہیں، جہاں دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال بھی اہم مسئلہ ہے۔

’ہمارا مسئلہ ہی عمران خان کا مسئلہ ہے‘

انہوں نے پنجاب میں نشستوں، خیبر پختونخوا میں اختیارات، وزرا اور ارکان اسمبلی سے متعلق معاملات اور دفعہ 144 کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا راستہ نکالا جانا چاہیے جس سے صوبے کے حقوق اور اختیارات بحال ہوں اور پی ٹی آئی کے مطالبات بھی حل کیے جائیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب فریقین اتنے بڑے معاملے کے لیے مذاکرات کر رہے ہوں تو غیر ضروری باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: ’اگر وہ کہتے ہیں مائنس، تو خان ہی کے لیے تو ہم بیٹھے ہیں۔ مائنس ہونا تھا تو بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارا مسئلہ تو خان ہی کا مسئلہ ہے۔ خان ہی کی حکومت ہے، خان ہی کا صوبہ ہے، خان ہی کا ووٹ ہے اور خان ہی کا مینڈیٹ ہے۔‘

ان کے مطابق پی ٹی آئی عمران خان کے مینڈیٹ کے ساتھ ہی مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے اور اس معاملے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست