حوثیوں کے 82 فوجی اہداف تباہ کر دیے: سعودی فوجی اتحاد

سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو ’سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا ایک جنگجو 5 اکتوبر 2026 کو یمن کے صوبہ تعز کے قریب ذباب میں حوثیوں کے خلاف پیش قدمی کے دوران گاڑی پر نصب ہتھیار چلاتا ہوا۔ یہ تصویر جنوبی جائنٹس بریگیڈز کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو سے لی گئی ہے (جنوبی جائنٹس بریگیڈز/ہینڈ آؤٹ بذریعہ روئٹرز)

سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا ہے کہ سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کے جواب میں یمن بھر میں 82 فوجی اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جاری کیے گئے ایک بیان میں ترکی المالکی نے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو ’سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج نے یمن کے صوبوں صعدہ، الحدیدہ، الجوف اور مارب میں حوثی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’جامع کارروائی‘ کی۔

اہداف میں صعدہ میں پہاڑوں میں قائم بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرہ کرنے کی 11 تنصیبات کے علاوہ کمانڈ اور کنٹرول مراکز، مواصلاتی نظام، میزائل اور ہتھیاروں کے گودام اور حوثی فورسز کے زیر استعمال اجتماع کے مقامات شامل تھے۔

یہ کارروائی ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور جنوب مغربی عسیر خطے میں واقع ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد کی گئی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

سعودی سول ایوی ایشن کے حکام کے مطابق حملوں میں 3 افراد جان سے گئے اور 36 زخمی ہوئے۔ ابہا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جان سے گئیں اور 28 افراد زخمی ہوئے جبکہ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں سوڈان کا ایک شہری جان سے گیا اور 8 افراد زخمی ہوئے۔

اتحاد نے یہ بھی کہا کہ اس نے بدھ کو ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ ترکی المالکی نے بتایا کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے لانچنگ پلیٹ فارم کو بعد ازاں صنعا میں اس وقت تباہ کر دیا گیا جب جنگجو اسے سعودی عرب کے خلاف فوری حملے کے لیے تیار کر رہے تھے۔

حالیہ حملے اس تنازعے میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کئی برسوں کے نسبتاً سکون کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب اور اس کی اتحادی یمنی حکومتی فورسز نے یمن کے مغربی بحیرہ احمر کے ساحل اور آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کے قبضے میں لیے گئے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر زمینی اور فضائی کارروائی شروع کر دی ہے۔

لڑائی کا مرکز ذباب اور اہم بندرگاہ المخا کے اطراف سمیت مختلف علاقوں میں رہا ہے جبکہ حوثیوں نے باب المندب پر نظر رکھنے والی اپنی پوزیشنز برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ باب المندب ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد گزرتا ہے۔

اس کشیدگی نے اہم توانائی اور بحری نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات پر بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران ریاض کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ تیل اور فوجی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئی ہیں۔ کنگ خالد ایئرپورٹ کے قریب سعودی آرامکو سے وابستہ ایندھن کے ٹینکوں اور دیگر آلات کے گرد حفاظتی باڑ بھی نصب کی گئی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار نے کہا ہے کہ حوثی شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کو سعودی عرب کے معاشی اخراجات بڑھانے اور ریاض پر اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے دکھائی دیتے ہیں۔

اتحاد نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کرنے والی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے مسلسل عملی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

4 اکتوبر کو ایس پی اے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ترجمان ترکی المالکی نے کہا تھا کہ اتحاد کی افواج یمنی حکومتی فورسز کی حمایت جاری رکھیں گی اور جنوبی بحیرہ احمر اور باب المندب میں حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو لاحق خطرے کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

تازہ لڑائی نے بھاری انسانی نقصان بھی پہنچایا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حالیہ کشیدگی میں تقریباً 1,000 افراد جان سے گئے اور دو لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے ہیضے اور غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے کیسز اور بعض ہسپتالوں میں طبی سامان کی قلت سے خبردار کیا ہے۔

یہ تنازع 2014 سے جاری ہے، جب حوثیوں نے صنعا اور یمن کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مارچ 2015 میں ایک اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے مداخلت کی۔

 اپریل 2022 میں شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی نے طویل عرصے تک نسبتاً سکون قائم رکھا، تاہم حالیہ علاقائی پیش قدمی اور لڑائی نے بڑے پیمانے پر جنگ کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا